دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
محمود کے معنی ہیں قابلِ تعریف؛ والدین نے بھی کیا خوب نام رکھا!
No image (پشاور) خالد خان سے
بعض رشتے بے نام ہوتے ہوئے بھی لازوال ہوتے ہیں۔ شاید اس نوع کے رشتے بنائے نہیں جاتے، خودبخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں ایک عجیب سی بے لوث قربت ہوتی ہے۔ یہ رشتے ہمیشہ انسانی فطرتوں کی یکسانیت پر استوار نہیں ہوتے۔ جیسے دن اور رات، جیسے منفی اور مثبت، اور جیسے سچ اور جھوٹ۔ یہی بے جوڑ قربتیں زندگی میں بہاریں لاتی ہیں، روشنی کا باعث بنتی ہیں اور حقیقت کو وجود بخشتی ہیں۔
اگر دو اشخاص مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرکے، ایک دوسرے سے کمر جوڑ کر چلنا شروع کریں تو دنیا چاہے جتنی بھی گول کیوں نہ ہو، وہ زندگی میں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکیں گے۔ ہر اٹھتا ہوا قدم انہیں ایک دوسرے سے دور کرتا چلا جائے گا۔
حواسِ خمسہ سے محسوس ہونے والا یہ سچ کم از کم میرے اور محمود جان بابر کے بارے میں بالکل الٹ نکلا۔ مجھ میں اور محمود جان بابر میں کوئی بھی قدرِ مشترک نہیں۔ میرے ذاتی پیمانوں اور رائے عامہ کے مطابق وہ ایماندار اور میں بے ایمان، وہ دن اور میں رات، وہ سچ اور میں جھوٹ، وہ مشرق اور میں مغرب۔ سچ کا جو سورج ان پر طلوع ہوتا ہے، مجھ پر غروب ہوتا ہے۔ وہ نمازی، میں آوارہ؛ وہ شریف، میں بدمعاش؛ وہ آبِ زم زم بھی احتیاط سے پینے والے اور ہم مشروباتِ تلخ کے پجاری۔
کوئی ایک قدر بھی مشترک نہ ہونے کے باوجود ہم سجّن، ہم بیلی اور ہم مشکلوں کے ساتھی ہیں۔ محمود جان بابر وہ واحد شخص ہیں جن کے مقابلے میں میں اپنے گھر کے اندر بھی ہارتا رہا ہوں۔ پتہ نہیں، وہ میرے سمیت میرے گھر والوں کے بھی کیوں محبوب ہیں!
محمود جان بابر کے ساتھ میری شناسائی 2004ء میں ہوئی، جب وہ اے وی ٹی خیبر کے بیورو چیف اور میں پروڈیوسر کی حیثیت سے اس نئے پشتو نشریاتی ادارے میں تعینات ہوئے۔ میں فوراً انہیں جان گیا اور رفتہ رفتہ پہچان بھی گیا۔ وہ ایک باکردار صحافی، ذمہ دار خاندانی سربراہ، مخلص دوست اور کامل انسانیت نواز شخصیت ہیں، جنہوں نے بچپن سے آج تک سیدھی راہ پر چلتے ہوئے قرآن مجید اور رسولِ پاک ﷺ کی حتی المقدور پیروی کی۔
ان کی زندگی محنت، جدوجہد، شرافت، راست گوئی اور خاکساری کی زندہ مثال ہے۔ محنت کی عظمت پر یقین رکھنے والے محمود جان بابر زندگی کے گرم و سرد سے ثابت قدمی کے ساتھ گزرے، ایمان اور ضمیر کو تھامے رکھا اور عالمی شناخت بنائی۔ ذاتی زندگی کے دکھوں کو خندہ پیشانی سے اور ربِ کریم سے شکوہ شکایت کیے بغیر صبر و استقلال کے ساتھ سہا۔ رزاق پر اتنا پختہ ایمان کہ ایک مزدور آدمی ہونے کے باوجود کئی لوگوں کے رزق کا وسیلہ بنے۔ بے داغ کردار کے اس شخص کو ربِ کریم نے بہت نوازا۔
مجھ سے ان کی ایک خاص محبت ہے۔ وہ مجھ پر مجھ سے بڑھ کر اتھارٹی رکھتے ہیں۔ مجھے چھیڑتے بھی ہیں، تنگ بھی کرتے ہیں، لیکن میرے کردار کے بعض پہلوؤں پر اندھا اعتماد بھی کرتے ہیں۔
خدا جانے، یکایک محمود جان بابر کی عاقبت کیوں خراب ہوئی، یا مولا کریم ان سے کوئی بڑا کام لینا چاہتے ہیں! گورنر راج اور ایمرجنسی کے اگلے ہی دن انہیں بارہ اضلاع کے لیے میڈیا ایڈوائزر مقرر کر دیا گیا۔
سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس پر بہت زیادہ خوشی بھی ہے اور دکھ بھی۔ رحیم اللہ یوسفزئی کے بعد ہم نے ایک اور ایسا صحافی گنوا دیا، جو اپنی مثال آپ تھا۔ یہ رنج ہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ ریاست نے میرٹ پر فیصلہ کیا اور دوسری بات یہ کہ ربِ کائنات، جو خیر و شر اور عزت و ذلت کا مالک ہے، نے میرے دوست کو عزت، عظمت، مقام اور مرتبہ عطا کیا۔
اطمینان اس بات پر ہے کہ محمود جان بابر جیسے محبِ وطن، سچے مسلمان اور باکردار صحافی کا انتخاب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ریاست اصلاحات، امن اور عوامی طرزِ حکمرانی کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں محمود جان بابر اور ریاست کے ساتھ ہیں۔
محمود جان بابر! فون میں بیلنس نہیں اور جیب میں کرایہ نہیں، لہٰذا سائبر مبارک باد قبول فرمائیے۔
واپس کریں