
سوال اٹھانے والوں کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے،ان کے بینک اکاونٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے، نام ای سی ایل میں ڈالنے، سوال اٹھانے والوں پر مقدمات بنانے، انہیں ناپسندیدہ اور غدار قرار دینے، ریاستی وسائل استعمال کرتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں صرف اپوزیشن کو کرش کرنے میں اور از خود ہی عالمی ثالث بننے کے بجائے اگر اتنی ساری محنت اور مشقت تباہ حال ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں کی جاتی تو آج نہ کوئی سوال پوچھتا اور نہ کوئی غدار کہلاتا کیونہ کسی کے پاس بھی حکومت پر تنقید کرنے یا سوال اٹھانے کا جواز باقی نہ رہتا۔
جیسے آپ کا تعارف آپ کے دوست احباب ہیں اسی طرح ممالک کا تعارف بھی ان کے ہمسایہ ممالک ہیں لیکن ہم نے اپنے ہمسایہ ممالک کو دوست کے بجائے اپنا دشمن بنایا ہوا ہے، آپس میں تجارت بند ہے،خطہ کے عوام کا ایک دوسرے ہمسایہ ممالک میں داخلہ بھی ممنوع ہے۔ہمالیہ سے بلند اور سات سمندروں کی گہرائی سے گہرا ہمارا دوست چین بھی اب ہم سے مطمعن نہیں کہ ہمارا جھکاو مسلسل امریکہ اور امریکی پالیسیوں کو فالو کرنے کی جانب ہے۔
نہ ہم اسلامی ریاست بن سکے اور نہ فلاحی ریاست کہ جس کا خواب بانی پاکستان اور شاعر مشرق نے دیکھا تھا۔ملک سے سرمایہ فرار ہو رہا ہے،اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد تیزی سے بیرون ممالک نکل رہے ہیں لیکن مالکان ملک و ملت کی ساری توجہ کہیں اور مرکوز ہے۔
سُودی قرضوں کے باعث ملک پاکستان کی سودی ادائیگیوں کا حجم مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے مطابق 8054 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جوکہ مجموعی بجٹ کا تقریباً 43 فیصد بنتا ہے۔ انسانی ترقی کے حوالے سے ملک عزیز 193 ممالک کی فہرست میں 168ویں نمبر پر ہے اورانصاف کی فراہمی کے حوالے سے بھی اپنی صورت حال مختلف نہیں۔
اقوامِ متحدہ کی جولائی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق 5تا 16 سال کی عمر کے ہمارے 2کروڑ 51 لاکھ سے زائد بچے جو ہمارا درخشاں مستقبل ہیں،ا سکولوں سے ہی باہر ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے خطے میں یومیہ 3ڈالر سے کم پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔
لیکن مذکورہ حقائق اس ملک کے فیصلہ سازوں کے مطابق محض بکواسیات ہیں کیونکہ ان کی ترجیحات ہی یکسر مختلف ہیں۔
خوش فہمیوں کے سلسلے ہیں اتنے دراز کہ
ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے
ہر سر یہی سمجھتا ہے دستار اس سے ہے
واپس کریں