دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلام آباد ہائی کورٹ کا مثبت اقدام ۔ احتشام الحق شامی
No image حالیہ دنوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم ا فیصلہ سنایا ہے۔ جناب جسٹس خادم حسین سومرو صاحب کی عدالت نے غیر سنجیدہ ، بے بنیاد درخواست دائر کرنے اور عدالتی وقت ضائع کرنے کے الزام میں وکیل سراج احمد صاحب پر دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور جب تک جرمانہ ادا نہ ہو، متعلقہ وکیل کی کوئی درخواست انتظامی یا عدالتی سطح پر کارروائی کے لیے قبول نہ کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نہ درخواست کی تیاری میں اور نہ ہی پیشی کے دوران وکیل کا رویہ مناسب تھا۔ اس موقع پر ناچیز بھی عدالت میں موجود تھا۔
مذکورہ بالا عدالتی فیصلہ صرف ایک فرد کے خلاف سزا نہیں بلکہ پورے قانونی نظام کے لیے ایک پیغام ہے۔ پاکستان میں عدالتوں پر مقدمات کا بہت بڑا بوجھ ہے اور لاکھوں مقدمات برسوں سے التوا کا شکار ہیں۔ جب کوئی وکیل بغیر مضبوط قانونی بنیاد کے غیر سنجیدہ درخواست دائر کرتا ہے تو وہ نہ صرف عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرتا ہے بلکہ ناچیز سمیت ان مستحق افراد کے حقوق بھی متاثر کرتا ہے جن کے حقیقی مقدمات سماعت کے منتظر ہوتے ہیں۔ جج، عدالتی عملہ اور دیگر فریقین کا وقت محدود ہوتا ہے اس لیئے فضول مقدمہ بازی سے نہ صرف انصاف میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے، اس لیے عدالتوں کا یہ رجحان کہ وہ ایسے رویوں پر سخت جرمانہ عائد کریں، قابلِ تعریف ہے۔ اس سے وکلاء میں احتیاط اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔ مذکورہ کیس میں عدالت نے واضع کیا کہ پہلے بھی انہی وکیل صاحب کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا گیا تھا، مگر دوبارہ ایسا طرزِ عمل دیکھنے پر جرمانہ ضروری قرار پایا۔
لگتا ہے کہ طے کر لیا گیا ہے کہ عدلیہ اب وقت کے ضیاع کو برداشت نہیں کرے گی۔ وکلاء صاحبان کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ معیار کو بلند رکھیں اور تاخیری حربوں کے بجائے عدالت کے وقت کی قدر کریں۔ عدالتیں بھی اس طرح کے فیصلوں سے نظام کو بہتر بنا سکتی ہیں تاکہ حقیقی انصاف جلد اور مؤثر طریقے سے فراہم ہوسکے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ اقدام مثبت ہے اور امید ہے کہ ضلعی اور تحصیل کی عدالتیں بھی عدالتوں کا وقت ضائع کرنے والے وکلا ء کی حوصہ شکنی کریں گی۔
واپس کریں