دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہسپتالوں میں پارکنگ فیس یا جگا ٹیکس؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
کسی بھی ریاست کا کام شہری کی تکلیف پر مرہم رکھنا ہے ناکہ زخموں پر نمک پاشی کرنا۔ مگر پنجاب کے سرکاری اور نیم سرکاری ہسپتالوں کے گیٹ پر جو منظر روزانہ دیکھنے کو ملتا ہے، وہ مرہم رکھنے کی بجائے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ گیٹ کے باہر ایک لاٹھی بردار، بدتمیز اور سنگدل گروہ مریض اور اس کے پریشان حال لواحقین کا راستہ روک کر کھڑا ہوتا ہے اور گاڑی یا موٹر سائیکل یا سائیکل کی دہلیز پار کرنے کی قیمت مانگتا ہے۔ یہ فیس نہیں، درحقیقت ہسپتال کی زمین پر مسلط کیا گیا ''جگا ٹیکس'' ہے۔
پاکستان کا ہر شہری یہاں تک کہ غریب ترین مزدور بھی جب ماچس کی ڈبیا خریدتا ہے، آٹا یا گھی لیتا ہے، یا اپنے فون میں سو روپے کا بیلنس ڈلواتا ہے تو وہ بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں ریاست کا خزانہ بھرتا ہے۔ پیٹرول کے ہر قطرے پر لیوی، بجلی کے بلوں پر سرچارجز اور دیگر ضروریات زندگی کی خریداری پر جی ایس ٹی ادا کرنے کے بعد عام شہری کے پلے بچتا ہی کیا ہے؟ لیکن ریاست کا جواب کیا ہے؟ نہ صاف پانی، نہ بروقت انصاف، اور جب وہ بیماری کی حالت میں سرکاری ہسپتال پہنچتا ہے تو وہاں بھی اسے قدم قدم پر نوچنے کا انتظام مکمل ہوتا ہے۔ پنجاب کے کسی بھی بڑے شہر لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ یا شیخوپورہ کے سرکاری خصوصا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کا چکر لگائیں تو اصل تماشا شروع ہوتا ہے۔ ہسپتال کے دروازے پر باقاعدہ نوٹس بورڈ آویزاں ہوتے ہیں، جن پر بحکم میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) پارکنگ فیس کے ریٹس درج ہوتے ہیں۔: سائیکل پانچ، موٹر سائیکل دس روپے اور کار بیس روپے۔ لیکن عملی طور پر وہ بورڈ صرف قانون کے چہرے پر تماچہ ہے۔ ٹھیکیدار کے ہرکارے بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے زور پر موٹر سائیکل کے تیس سے پچاس اور کار کے سو سے دو سو روپے تک وصول کرتے ہیں۔ نوٹس شدہ فیس پر اصرار کریں یا وصول شدہ جگا ٹیکس کی رسید مانگیں تو لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔
سوچنے کی بات ہے اس ماں باپ کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی جن کی گود میں ان کا دم توڑتا ہوا بچہ ہو، یا اس جوان کا کرب جس کی بوڑھی ماں گاڑی کی پچھلی نشست پر درد سے تڑپ رہی ہو،اک حاملہ خاتون درد سے کڑاہ رہی ہو اور آگے سے پارکنگ ٹھیکیدار کا کارندہ گاڑی کی چابی چھین کر کہے کہ پہلے ''سو روپیہ پرچی کٹواؤ ورنہ اندر نہیں جانے دیں گے۔ کیا یہ اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے دعوے دار معاشرے کا چہرہ ہے؟ سب جانتے ہیں کہ یہ ٹھیکیداری نظام ہسپتال انتظامیہ، اور مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے عناصر کے باہمی گٹھ جوڑ کا نام ہے۔ ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے کے پارکنگ کے ٹھیکے نیلام ہوتے ہیں۔ ٹھیکیدار وہ بھاری رقم انتظامیہ کو ادا کرتا ہے اور پھر اس رقم سے کئی گنا زیادہ منافع وہ ان مجبور اور لاچار لوگوں سے نچوڑتا ہے۔یہ معاملہ صرف چند روپوں کا نہیں، انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ جب ایک شہری زندگی بھر ہر سانس اور ہر نوالے پر ٹیکس دیتا ہے، تو کیا اس کا اتنا بھی حق نہیں کہ ہسپتال کے احاطے میں وہ اپنے مریض کو بغیر بھتہ دیے ڈاکٹر کے پاس لے جا سکے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے پنجاب میں متعدد شعبوں، بالخصوص صحت اور عوامی ریلیف کے حوالے سے انقلابی اقدامات کے دعوے کیے ہیں، فیلڈ ہسپتالوں اور مفت ادویات کی فراہمی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات اپنی جگہ قابل تحسین سہی، مگر وزیر اعلیٰ صاحبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بڑے منصوبوں کی چمک دمک اس وقت ماند پڑ جاتی ہے جب ایک عام آدمی ہسپتال کے گیٹ پر ہی لٹ جاتا ہے۔ آپ کروڑوں کی ادویات مفت دینے کا اعلان کرتی ہیں، لیکن ہسپتال کا گیٹ کیپر سو روپے کی غیر قانونی پرچی کے لیے غریب مریض کی ایمبولینس یا گاڑی روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
محترمہ مریم نواز صاحبہ! پنجاب کی عوام آپ سے یہ دردمندانہ اور جائز مطالبہ کرتی ہے کہ: پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کار، موٹر سائیکل اور ایمبولینسز پر پارکنگ کے نام پر لگائے گئے اس ظالمانہ ''جگا ٹیکس'' کو فوری اور مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اگر نظم و ضبط کے لیے پارکنگ ایریا کا انتظام رکھنا ناگزیر ہے تو اسے آؤٹ سورس یا ٹھیکے پر دینے کی بجائے ہسپتال کی سکیورٹی اور انتظامیہ کے زیر انتظام مفت چلایا جائے، جہاں صرف گاڑیوں کی حفاظت مقصود ہو، جیبیں کاٹنا نہیں۔ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اور ایم ایس کے احکامات کی دھجیاں اڑانے والے ٹھیکیداروں کا احتساب کیا جائے اور ان کے کارندوں کے خلاف بھتہ خوری کے مقدمات درج کیے جائیں۔
ہسپتال شفا خانے ہوتے ہیں، انہیں بھتہ خوری کی منڈی نہ بننے دیا جائے۔ اب وقت ہے کہ حکومت عملی قدم اٹھائے اور ہسپتالوں کے دروازوں کو اس مافیا سے آزاد کروائے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو صحت کی مفت سہولت پورے طور پر نہیں دے سکتی تو کم از کم علاج کی جستجو میں نکلنے والوں پر یہ ''جگا ٹیکس'' لگا کر ان کی غیرت اور جیب کا امتحان لینا بند کرے۔
واپس کریں