
رانا ثناء اللہ صاحب نے فرمایا ہے کہ پاکستان میں کوئی کاکروچ نہیں، نہ یہاں سے کوئی کاکروچ نکلے گا، اور اگر کوئی چھوٹا موٹا کاکروچ نکلا تو اسے مسل دیں گے۔ سیاست میں الفاظ کبھی کبھی صرف الفاظ نہیں رہتے، وہ بولنے والے کے ذہنی رویے، اقتدار کے بارے میں اس کے تصور اور مخالف آواز کے لیے اس کے ظرف کا پتہ بھی دیتے ہیں۔ رانا صاحب کا یہ جملہ بھی محض ایک سیاسی فقرہ نہیں، بلکہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں اختلاف کرنے والا شہری انسان نہیں رہتا بلکہ ایک کیڑا بن جاتا ہے جسے دلیل سے نہیں، پاؤں تلے کچلنے سے جواب دینے کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: ریاست میں شہری کا مقام کیا ہے؟ کیا وہ صرف اس وقت تک محترم ہے جب تک وہ حکمران کے حق میں بولتا رہے؟ کیا حکومت سے سوال کرنا، پالیسی پر تنقید کرنا، ناانصافی کی نشاندہی کرنا یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا کسی انسان کو کاکروچ بنا دیتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر مسئلہ کاکروچ کا نہیں، اس سیاسی سوچ کا ہے جو اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو بغاوت سمجھنے لگتی ہے۔
اقتدار انسان کو دو طرح سے بدلتا ہے۔ ایک حکمران ایسا ہوتا ہے جو اقتدار کو امانت سمجھ کر اپنے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، اور دوسرا وہ جو اقتدار کو اپنی ذاتی طاقت سمجھ لیتا ہے۔ پہلے حکمران کو تنقید میں اصلاح کا امکان نظر آتا ہے، دوسرے کو ہر مخالف آواز اپنے اقتدار کے لیے خطرہ دکھائی دیتی ہے۔ پہلے کے لیے اختلاف جمہوریت کی روح ہے، دوسرے کے لیے اختلاف ایک ایسا کیڑا ہے جسے مسل دینا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رانا ثناء اللہ صاحب کا جملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ کسی سیاسی مخالف کو کاکروچ کہہ دیا گیا، بلکہ اس لیے کہ اس کے بعد لفظ آتا ہے: مسل دیں گے۔ یہ لفظ طاقت کے اس تصور کو ظاہر کرتا ہے جس میں سیاسی مسئلے کا جواب سیاسی دلیل نہیں بلکہ طاقت کا استعمال بن جاتا ہے۔ جمہوریت میں مخالف کو شکست دی جاتی ہے، کچلا نہیں جاتا۔ دلیل کو جواب دیا جاتا ہے، انسان کو نہیں۔
اور پھر تاریخ کا ایک دلچسپ کھیل دیکھیے۔ بھارت میں حالیہ احتجاجی سیاست نے ’’کاکروچ‘‘ کی اصطلاح کو ہی ایک مزاحمتی شناخت میں تبدیل کر دیا۔ جن لوگوں کو شاید معمولی، بے ضرر یا نظرانداز کیے جانے کے قابل سمجھا گیا، انہوں نے اسی علامت کو اپنی اجتماعی آواز بنا لیا۔ یوں طاقتور کے لیے تحقیر کا لفظ کمزور کے لیے شناخت بن گیا۔ یہی سیاست کا عجیب مگر پرانا اصول ہے کہ جس علامت سے کسی تحریک کو ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے، بعض اوقات وہی علامت اس تحریک کا پرچم بن جاتی ہے۔
رانا صاحب، تاریخ میں فرعون بھی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا اور اپنے مقابل کھڑے انسانوں کو بہت چھوٹا۔ فرعونیت کی اصل پہچان صرف تاج، محل اور لشکر نہیں ہوتی؛ فرعونیت کی اصل پہچان یہ ہوتی ہے کہ حکمران خود کو ناقابلِ سوال سمجھنے لگے اور رعایا کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے والی مخلوق۔ جب اقتدار یہ سمجھنے لگے کہ مخالف آواز کو دلیل سے نہیں بلکہ طاقت سے خاموش کیا جا سکتا ہے تو فرعونیت کی روح وہیں جنم لیتی ہے، چاہے لباس جدید ہو، زبان جمہوری ہو اور نظام کا نام جمہوریت ہو۔
لیکن تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان کو مسلنے کی خواہش رکھنے والے حکمران اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان چیونٹی نہیں ہوتا۔ اس کے پاس حافظہ ہوتا ہے، زبان ہوتی ہے، شعور ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر وقت ہوتا ہے۔ آج جس شہری کو معمولی سمجھا جا رہا ہے، کل وہی سوال بن سکتا ہے۔ آج جس آواز کو دبا دیا جائے، کل وہ ہزار آوازوں میں واپس آ سکتی ہے۔ آج جس شخص کو کیڑا کہا جائے، کل تاریخ اسی شخص کے ہاتھ میں حکمران کے کردار کا فیصلہ لکھ سکتی ہے۔
پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں کاکروچ ہیں یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں شہری ہیں، اور شہری سوال کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ روزگار کہاں ہے، انصاف کہاں ہے، امن کہاں ہے، ادارے کیوں کمزور ہیں، سرکاری وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں، قانون سب کے لیے برابر کیوں نہیں، اور حکمران عوام کے سامنے جواب دہ کیوں نہیں؟ ان سوالوں کو اگر کوئی کاکروچ سمجھتا ہے تو اسے کاکروچوں کی تعداد گننے کے بجائے اپنے جواب تلاش کرنے چاہییں۔
ریاست مضبوط اس وقت ہوتی ہے جب شہری حکومت سے اختلاف کر سکتا ہو اور حکومت اختلاف برداشت کر سکتی ہو۔ ریاست کمزور اس وقت ہوتی ہے جب حکمران دلیل کے بجائے دھمکی کو اپنا ہتھیار بنا لے۔ مخالف سیاسی جماعت کو شکست دینا جمہوری عمل ہے، لیکن مخالف آواز کو مسلنے کی بات کرنا جمہوری زبان نہیں۔ یہ طاقت کے غرور کی زبان ہے۔
اور رانا صاحب، ایک بات شاید یاد رکھنا ضروری ہے کہ ریاست کسی فرد، جماعت یا حکومت کا نام نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، وزرا آتے جاتے ہیں، اقتدار کے ایوان بدلتے رہتے ہیں، مگر ریاست اور عوام باقی رہتے ہیں۔ اس لیے کسی سیاسی مخالف کو کچلنے کی دھمکی دینے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اقتدار کی کرسی مستقل نہیں ہوتی۔ جس پاؤں سے آج کسی کو مسلنے کی بات کی جا رہی ہے، کل اسی پاؤں کے نیچے تاریخ کا ترازو بھی آ سکتا ہے۔
کاکروچ کون ہے، رانا صاحب؟ شاید اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں جتنا آپ کے جملے نے اسے بنا دیا ہے۔ ممکن ہے جسے آپ کاکروچ سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ایک ناراض شہری ہو، ایک سوال کرنے والا نوجوان ہو، ایک بے روزگار شخص ہو، ایک مظلوم ہو، ایک صحافی ہو، ایک سیاسی کارکن ہو یا ایک ایسا پاکستانی ہو جو صرف یہ پوچھنے کی جسارت کر رہا ہو کہ اس ملک میں اقتدار عوام کی خدمت کے لیے ہے یا عوام کو خاموش رکھنے کے لیے۔
اس لیے کاکروچ ڈھونڈنے سے پہلے آئینہ دیکھ لیجیے۔ کیونکہ تاریخ میں بڑے بڑے تختوں کے نیچے بہت سے معمولی سمجھے جانے والے لوگ کھڑے رہے ہیں، مگر تخت ہمیشہ قائم نہیں رہے۔ انسان کو مسلنے کی طاقت رکھنے والے بہت آئے، لیکن انسان کے سوال کو ہمیشہ کے لیے مسل دینے والا آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا۔
کاکروچ اگر واقعی کوئی ہے تو شاید وہ وہی ذہنیت ہے جو انسان کو انسان سمجھنے سے انکار کر دے۔
واپس کریں