ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ہر قوم کی تاریخ محض واقعات کی بے ربط تقویم، معرکوں کی خونیں روداد اور اقتدار کے ایوانوں میں بدلتے ہوئے چہروں کا نام نہیں؛ اس کے پسِ پردہ اقوام کے فیصلوں، ترجیحات، کوتاہ بینیوں اور اجتماعی شعور کی وہ تہہ دار ساخت کارفرما ہوتی ہے جو بالآخر ان کے حال کی صورت گری اور مستقبل کی سمت بندی کرتی ہے۔ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ قومیں اکثر اپنے فیصلوں کے فوری ثمرات کو تو دیکھ لیتی ہیں، مگر ان کے بعید المیعاد مضمرات کو بھانپنے سے قاصر رہتی ہیں۔ پاکستان کا دہشت گردی کے ساتھ طویل اور لہولہان سامنا بھی اسی تاریخی پیچیدگی کا ایک نہایت المناک باب ہے۔ یہ طوفان یکایک کسی نامعلوم افق سے نمودار نہیں ہوا؛ اس کے پس منظر میں علاقائی کشمکش، عالمی طاقتوں کی مداخلت، افغان جنگ کے اثرات، مذہبی انتہاپسندی، داخلی کمزوریوں اور ریاستی پالیسیوں کے مختلف ادوار کی باہمی پیوستگی کارفرما رہی۔ بعض فیصلے اپنے زمانے کے تزویراتی تقاضوں کے تحت کیے گئے ہوں گے، لیکن تاریخ کا بے رحم محاسبہ یہ دیکھتا ہے کہ ان فیصلوں کے غیر متوقع اور طویل المدت نتائج کیا نکلے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی احتساب محض الزام تراشی نہیں رہتا بلکہ اجتماعی بصیرت کی ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔
افغانستان میں سوویت مداخلت کے خلاف مزاحمت کے دور میں پاکستان ایک ایسے پیچیدہ بین الاقوامی تزویراتی بندوبست کا حصہ بنا جس میں خطے کی جغرافیائی اہمیت، عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور افغان مزاحمت ایک دوسرے سے مربوط ہوگئے۔ اس عہد میں مسلح گروہوں کی تربیت، اسلحے کی فراہمی اور جنگی ثقافت کے فروغ نے صرف افغانستان ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ اس کے اثرات پاکستان کے سماجی، سیاسی اور داخلی سلامتی کے ڈھانچے تک بھی پہنچے۔ کلاشنکوف کلچر، غیر قانونی اسلحے کی گردش، انتہاپسند تنظیموں کے نیٹ ورک اور تشدد کو سیاسی و مذہبی مقاصد کے حصول کا وسیلہ سمجھنے والی ذہنیت نے رفتہ رفتہ ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جس کے مضمرات بعد کے عشروں میں زیادہ نمایاں ہوئے۔ سوویت انخلا کے بعد عالمی توجہ کا اچانک رخ بدل جانا، افغانستان میں اقتدار کا بحران اور مختلف مسلح دھڑوں کی باہمی کشمکش نے اس خلا کو مزید گہرا کیا۔ اسی ماحول میں 1990 کی دہائی میں طالبان ایک اہم سیاسی و عسکری قوت کے طور پر ابھرے اور پاکستان نے ان کی حکومت کو تسلیم کرنے والی ریاستوں میں شمولیت اختیار کی۔ تاہم 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد عالمی سیاست کا پورا منظرنامہ بدل گیا اور پاکستان کو ایک ایسے تزویراتی امتحان کا سامنا کرنا پڑا جس میں گزشتہ کئی دہائیوں کے علاقائی فیصلے، داخلی سلامتی کے تقاضے اور عالمی دباؤ ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے۔
11 ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی شمولیت نے اسے براہِ راست ایک ایسے تنازعے کی زد میں پہنچا دیا جس کے اثرات صرف خارجی محاذ تک محدود نہ رہے۔ دہشت گرد حملوں، خودکش دھماکوں، اغوا، فرقہ وارانہ تشدد اور عسکریت پسندانہ کارروائیوں نے شہری زندگی، معیشت، ریاستی اداروں اور قومی نفسیات کو شدید نقصان پہنچایا۔ پاک فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صحافیوں، علماء، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں سمیت معاشرے کے بے شمار طبقات نے اس خونریز عہد کی قیمت ادا کی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ اس قومی المیے کی وہ علامت بن گیا جس نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں نے یہ حقیقت بے نقاب کردی کہ انتہاپسند تشدد کسی مذہبی تقدس، انسانی حرمت یا اخلاقی حد کا پابند نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کا مسئلہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ اس میں مقامی محرکات، علاقائی تنازعات، سرحد پار عوامل، انتہاپسند نظریات، منظم جرائم اور کمزور حکمرانی کے عناصر مختلف نسبتوں سے باہم مدغم ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ اسے کسی ایک واقعے، ایک تنظیم یا ایک پالیسی کے ذریعے مکمل طور پر سمجھنا تاریخ اور حقیقت دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
قومی ایکشن پلان نے سانحۂ پشاور کے بعد ریاستی عزم کو ایک جامع سمت دینے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی، انتہاپسند نیٹ ورکس کے انسداد اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک مرحلے پر نمایاں کمی بھی آئی، مگر دیرپا امن کے لیے کسی بھی قومی حکمتِ عملی کا امتحان صرف فوری فوجی کامیابی نہیں بلکہ اس امر سے ہوتا ہے کہ وہ انتہاپسندی کے سماجی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور نظریاتی اسباب کو کس حد تک کمزور کرتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری اجتماعی کاوش کو ابھی بہت کچھ طے کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا دباؤ، بلوچستان میں عسکریت پسندی اور تخریبی کارروائیاں، سرحدی علاقوں کی پیچیدگیاں اور ملک کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ قومی سلامتی کو محض عسکری اصطلاح میں محدود نہ کیا جائے۔ ریاست کی رٹ یقیناً ناگزیر ہے، لیکن رٹ کی پائیداری قانون کی بالادستی، مؤثر عدل، شفاف حکمرانی، معیاری تعلیم، روزگار کے مواقع، سیاسی شمولیت اور شہری اعتماد کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ دہشت گردی کا بیانیہ اس وقت کمزور پڑتا ہے جب نوجوان کو تشدد کے بجائے امید، محرومی کے بجائے موقع، بے سمتی کے بجائے مقصد اور نفرت کے بجائے باوقار اجتماعی شناخت میسر ہو۔
بلوچستان کے مسئلے کو بھی اسی وسیع تر قومی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسے صرف امن و امان یا محض علیحدگی پسند عسکریت کے عنوان میں مقید کردینا مسئلے کی تہہ داری کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ سیاسی محرومی، معاشی عدم مساوات، وسائل کی تقسیم پر اختلافات، نمائندگی کے سوالات، احساسِ عدم تحفظ اور تاریخی شکایات جیسے عوامل جہاں موجود ہوں، وہاں محض طاقت کے استعمال سے پائیدار سیاسی استحکام پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ریاست کے خلاف مسلح تشدد یا شہریوں کی جان و مال کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز پیدا ہوجاتا ہے؛ دہشت گردی اور تشدد کی ہر صورت قانون کے سامنے جواب دہ ہونی چاہیے۔ لیکن امن کا پائیدار راستہ صرف بندوق کی خاموشی سے نہیں بلکہ شکایات کے منصفانہ ازالے، سیاسی مکالمے اور آئینی دائرۂ کار میں حقیقی شمولیت سے بھی گزرتا ہے۔ اسی لیے ایک سنجیدہ قومی کانفرنس یا وسیع البنیاد سیاسی مکالمہ، جس میں حکومت، حزبِ اختلاف، متعلقہ صوبائی نمائندگی، اہلِ دانش، سماجی طبقات اور دیگر متعلقہ فریق شریک ہوں، قومی اتفاقِ رائے کی تشکیل میں معاون ہوسکتا ہے۔ مقصد کسی ایک فریق کو فاتح یا مغلوب قرار دینا نہیں بلکہ ان بنیادی سوالات کا آئینی اور قابلِ عمل جواب تلاش کرنا ہونا چاہیے جو مسلسل بے چینی کو تقویت دیتے ہیں۔
قرآن مجید کا ارشاد ہے: وَلَا تَلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ، یعنی اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو؛ اور دوسری جگہ فرمایا: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ ان آیات کی روشنی میں قومی زندگی کا ایک بنیادی سبق یہ ہے کہ اجتماعی قوت محض عسکری استعداد کا نام نہیں، بلکہ باہمی اعتماد، عدل، وحدت، ذمہ دار قیادت اور درست فکری سمت کا مجموعہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں اسی جامع تصور کی ضرورت ہے۔ انتہاپسندی کے خلاف فکری محاذ، تعلیمی اصلاح، مذہبی و سماجی مکالمہ، مؤثر عدالتی نظام، معاشی مواقع، جدید سرحدی انتظام، دہشت گردی کی مالی معاونت کا سدباب، سائبر نگرانی، اطلاعاتی جنگ کا مقابلہ اور قانون کی یکساں عمل داری یہ سب ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے مختلف اجزا ہونے چاہئیں۔ کسی ایک ادارے کے کندھوں پر پوری ذمہ داری ڈال کر قومیں دیرپا امن حاصل نہیں کرتیں؛ یہ ریاست، سیاسی قیادت، اداروں، علماء، دانش وروں، ذرائع ابلاغ، تعلیمی نظام اور شہری معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آخرکار دہشت گردی کا حقیقی احتساب صرف یہ گننے سے مکمل نہیں ہوگا کہ کتنے حملے ہوئے، کتنے دہشت گرد مارے گئے یا کتنے آپریشن کیے گئے؛ اصل احتساب یہ ہے کہ ہم ان حالات کو کس حد تک سمجھ سکے جنہوں نے تشدد کے لیے زمین ہموار کی، ان پالیسیوں سے کیا سیکھا جن کے غیر متوقع نتائج ہمارے سامنے آئے، اور آنے والی نسلوں کو کس نوع کا پاکستان منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ماضی سے انتقام نہیں بلکہ بصیرت اخذ کرنی ہے، ماضی کی غلطیوں کو سیاسی الزام کا مستقل ہتھیار نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاح کا آئینہ بنانا ہے۔ قرآن کا یہ اصول کہ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ "اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے" قومی تعمیر کا ایک گہرا اخلاقی اصول بھی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی سے نجات صرف اس وقت ملے گی جب ہم تشدد کے ظاہری مظاہر کے ساتھ ان فکری، سیاسی، معاشی اور انتظامی کمزوریوں کا بھی ازسرِنو جائزہ لیں گے جو اسے پنپنے کا موقع دیتی ہیں۔ بندوق کے مقابل بندوق ناگزیر مرحلے میں ضرورت ہوسکتی ہے، مگر مستقل امن کی بنیاد بندوق نہیں؛ عدل، قانون، تعلیم، سیاسی بصیرت، معاشی انصاف، قومی یکجہتی اور ذمہ دار ریاستی حکمتِ عملی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک طویل قومی المیے کو تاریخ کے بوجھ سے مستقبل کی بصیرت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
واپس کریں