دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مئی 9 کیس کے بیچ کے پی حکومت کا بڑا فیصلہ،پولیس کے اختیارات پھر وزیراعلیٰ کے حوالے کرنے کی تیاری
No image (پشاور) خالد خان ۔ مئی 9 کیس میں PFSA اور NADRA کے اہم شواہد عدالت پہنچنے کے عین روز خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کے اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ کے ماتحت لانے کی تیاری کر لی، پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم آج کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ فروری میں پشاور ہائی کورٹ سے کالعدم قرار دی گئی سابقہ ترامیم کے بعد حکومت ایک بار پھر اسی راستے پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت پولیس ایکٹ میں اہم ترامیم صوبائی کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ مجوزہ ترامیم میں پولیس کے اختیارات اور کمانڈ کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں پولیس کے متعدد انتظامی اور اہم اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ماتحت آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر صوبائی کابینہ نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی تو انہیں قانون سازی کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کی صورت میں ترامیم قانون کا حصہ بن جائیں گی اور پولیس کے انتظامی معاملات میں وزیراعلیٰ کا کردار دوبارہ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔
اس پیش رفت کی ٹائمنگ نے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ آج ہی مئی 9 کیس کی عدالتی کارروائی کے دوران پولیس کی جانب سے PFSA اور NADRA رپورٹس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔ ان رپورٹس میں موجود شواہد کی بنیاد پر مقدمے میں آئندہ کارروائی اور مزید پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے اختیارات دوبارہ وزیراعلیٰ کے ماتحت کرنے کی مجوزہ ترمیم ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب مئی 9 کیس کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا ایک مقصد پولیس پر انتظامی دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے تاکہ مئی 9 کیس میں تحقیقات کی سمت اور پیش رفت پر اثرانداز ہوا جا سکے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کو خدشہ ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کی صورت میں بعض حکومتی شخصیات کے نام اور ان سے متعلق شواہد بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس اختیارات میں مجوزہ تبدیلی کو فروری 2026 کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے انسپکٹر جنرل پولیس کے اختیارات محدود کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کو پولیس کے متعدد اہم معاملات میں اختیار دیا تھا۔
تاہم 2 فروری 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے ان ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس کے اختیارات اور کمانڈ سے متعلق سابقہ قانونی پوزیشن بحال کر دی تھی۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں سیاسی حکومت کے براہ راست اثر و رسوخ کو محدود کرنے والی سابقہ قانونی پوزیشن دوبارہ بحال ہوئی۔
اب چند ماہ بعد صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر مجوزہ قانون سازی کابینہ اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے منظور ہو جاتی ہے تو پولیس کے اختیارات اور کمانڈ سے متعلق وہ قانونی پوزیشن ایک بار پھر تبدیل ہو سکتی ہے جسے پشاور ہائی کورٹ نے فروری میں بحال کیا تھا۔
اس پوری پیش رفت کا سب سے اہم پہلو اس کی ٹائمنگ ہے۔ ایک طرف مئی 9 کیس میں پولیس کی جانب سے PFSA اور NADRA کے شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں، دوسری جانب اسی روز پولیس کے اختیارات وزیراعلیٰ کے ماتحت لانے کے لیے نئی قانون سازی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
اگر مجوزہ ترامیم منظور ہو جاتی ہیں تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پولیس کے انتظامی اور اہم معاملات میں دوبارہ وسیع اختیارات حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں پولیس کی ادارہ جاتی خودمختاری، سیاسی حکومت کے اختیار اور مئی 9 کیس کی جاری تحقیقات کے درمیان تعلق ایک مرتبہ پھر صوبے میں اہم سیاسی اور قانونی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
مئی 9 کیس کی تحقیقات میں PFSA اور NADRA کے شواہد کی پیشی کے ساتھ ہی پولیس کے کمانڈ ڈھانچے میں تبدیلی کی یہ کوشش آنے والے دنوں میں خاصی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا یہ قانون سازی محض انتظامی ضرورت کے تحت کی جا رہی ہے یا مئی 9 کیس کی موجودہ پیش رفت نے اس کی ٹائمنگ کو بھی متاثر کیا ہے۔
واپس کریں