34 ہزار 265 مخدوش سکول حکومت کی ترجیحات کا آئینہ ہیں؛ سوال یہ ہے کہ اس آئینے میں حکمرانی نظر آتی ہے یا احتجاجی سیاست؟

(پشاور) رپورٹ خالد خان ۔ خیبر پختونخوا میں حکمرانی اور سیاسی ترجیحات کا جائزہ لینے کے لیے کبھی کبھی بڑے سیاسی بیانات، جلسوں اور نعروں سے زیادہ سرکاری سکولوں کی عمارتیں اور ان کے اندر موجود بنیادی سہولیات سچ بولتی ہیں۔ صوبے کے 36 اضلاع میں 34 ہزار 265 سرکاری سکولوں کے تفصیلی سروے کے اعدادوشمار سامنے آئیں تو یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں بچوں کے لیے محفوظ، صاف ستھرا اور بنیادی سہولیات سے آراستہ تعلیمی ماحول کہاں کھڑا ہے۔
سروے کے مطابق صرف 45 فیصد سرکاری سکولوں میں دیواروں اور چھتوں کی حالت مکمل طور پر تسلی بخش پائی گئی، جبکہ 29 فیصد اداروں میں یہ سہولت جزوی طور پر برقرار تھی اور 26 فیصد سکولوں میں صورتحال غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔ دوسرے لفظوں میں 55 فیصد سرکاری سکول دیواروں اور چھتوں کے معاملے میں مکمل طور پر تسلی بخش حالت میں نہیں تھے۔ یہ محض تعمیرات کا مسئلہ نہیں بلکہ ان عمارتوں میں روزانہ تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے تعلیمی ماحول اور بنیادی تحفظ کا سوال بھی ہے۔
دروازوں کی صورتحال نسبتاً بہتر نظر آتی ہے۔ سروے میں 79 فیصد سکولوں میں دروازوں کی حالت تسلی بخش قرار دی گئی، 16 فیصد میں یہ سہولت جزوی طور پر برقرار تھی جبکہ 5 فیصد سکولوں میں صورتحال غیر تسلی بخش پائی گئی۔ اسی طرح کھڑکیوں کے حوالے سے 63 فیصد سکول تسلی بخش حالت میں تھے، 30 فیصد میں دیکھ بھال جزوی تھی اور 7 فیصد میں حالت غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔
لائٹس اور پنکھوں کی صورتحال بھی حکومت کی توجہ کی متقاضی تصویر پیش کرتی ہے۔ صرف 65 فیصد سکولوں میں یہ سہولت تسلی بخش تھی، 22 فیصد میں صورتحال جزوی طور پر برقرار تھی جبکہ 13 فیصد سکولوں میں لائٹس اور پنکھوں کی حالت غیر تسلی بخش قرار دی گئی۔ یعنی 35 فیصد سکول اس بنیادی سہولت کے حوالے سے مکمل طور پر تسلی بخش حالت میں نہیں تھے۔
تحریری تختیوں کی دستیابی اور حالت نسبتاً بہتر رہی، جہاں 84 فیصد سکول تسلی بخش قرار دیے گئے، 12 فیصد میں صورتحال جزوی تھی جبکہ صرف 4 فیصد سکول غیر تسلی بخش پائے گئے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں صورتحال بہتر ہے، مگر عمارت، صفائی اور ماحول سے متعلق متعدد شعبوں میں نمایاں خلا اب بھی موجود ہے۔
کلاس رومز کی صفائی کے اعدادوشمار بھی توجہ طلب ہیں۔ سروے کے مطابق 61 فیصد سکولوں میں کلاس رومز کی صفائی کا معیار تسلی بخش تھا، 22 فیصد میں صفائی کی صورتحال جزوی طور پر برقرار تھی جبکہ 17 فیصد میں یہ معیار غیر تسلی بخش پایا گیا۔ اسی طرح سکولوں کے عمومی گراؤنڈ کی صفائی کے حوالے سے صرف 57 فیصد ادارے تسلی بخش قرار دیے گئے، 25 فیصد میں صورتحال جزوی تھی اور 18 فیصد سکول غیر تسلی بخش قرار پائے۔
یہ اعدادوشمار کسی ایک سکول، ایک ضلع یا چند عمارتوں کی کہانی نہیں۔ یہ 36 اضلاع کے 34 ہزار 265 سرکاری سکولوں کے تفصیلی سروے کی تصویر ہے۔ اسی لیے اسے محض تعمیر و مرمت کا انتظامی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب 55 فیصد سکولوں میں دیواروں اور چھتوں کی حالت مکمل طور پر تسلی بخش نہ ہو، 37 فیصد میں کھڑکیوں کی حالت مکمل تسلی بخش نہ ہو، 35 فیصد میں لائٹس اور پنکھوں کی صورتحال مکمل تسلی بخش نہ ہو، 39 فیصد کلاس رومز میں صفائی مکمل تسلی بخش نہ ہو اور 43 فیصد سکولوں کے عمومی گراؤنڈ مکمل طور پر صاف ستھرے نہ ہوں تو یہ صوبائی حکمرانی کے معیار اور ترجیحات پر ایک سنجیدہ سوال ضرور بنتا ہے۔
یہاں اصل سوال احتجاج کے آئینی اور جمہوری حق کا نہیں۔ سیاسی احتجاج ہر جماعت کا حق ہے اور جمہوریت میں اختلافِ رائے کی اپنی اہمیت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس محدود انتظامی وقت، وسائل اور سیاسی توجہ موجود ہو تو اس کی پہلی ترجیح کیا ہونی چاہیے؟ وہ سکول جن میں صوبے کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یا ایسی سیاسی سرگرمیاں جو حکومت کو صوبے کے بنیادی انتظامی مسائل سے دور لے جائیں؟
حکمرانی کا اصل امتحان سیاسی طاقت کے مظاہروں میں نہیں بلکہ ان بنیادی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ہوتا ہے جو عوام نے حکومت کے سپرد کی ہوتی ہیں۔ ایک بچے کے لیے محفوظ چھت، درست کھڑکی، پنکھا، روشنی، صاف کلاس روم اور صاف گراؤنڈ شاید سیاسی نعرے جتنے بلند آواز نہ ہوں، مگر اس کے مستقبل پر ان کا اثر کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
34 ہزار 265 سرکاری سکولوں کے یہ اعدادوشمار خیبر پختونخوا حکومت کے سامنے ایک خاموش مگر بہت بڑا سوال رکھتے ہیں: اگر صوبے کے بچوں کے سکول ہی مکمل طور پر تسلی بخش حالت میں نہیں تو حکومت کی ترجیحات کا مرکز کیا ہونا چاہیے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاجی سیاست اور حکمرانی کا فرق واضح ہوتا ہے۔ سیاست حکومت کا ایک پہلو ہو سکتی ہے، مگر سکول، ہسپتال، سڑک، امن، روزگار اور شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی حکومت کی اصل ذمہ داریاں ہیں۔
34 ہزار 265 سکول کسی سیاسی جماعت کے نہیں، خیبر پختونخوا کے بچوں کے ہیں۔ ان کی حالت حکومت کی ترجیحات کا آئینہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ آئینہ کیا دکھا رہا ہے؛ سوال یہ ہے کہ حکومت اس آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر کیا فیصلہ کرتی ہے۔
واپس کریں