دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آدمی، سانپ، رحمان بابا اور کوتوال ۔ خالد خان
No image آدمی اور سانپ میں کئی حوالوں سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں مجھے قریبی رشتہ دار لگتے ہیں۔ دونوں کی خصلتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ سانپ دودھ پلانے والے کو کاٹتا ہے اور انسان بھی اپنے محسن کو ڈستا ہے۔ یقیناً آدمی کا سانپ سے خصوصی رشتہ رہا ہے، اسی لیے تو اس نے ہمیشہ سانپ کو آستین میں پالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایک انسان دوسرے انسان کو ڈستا ہے تو وہ اسے مارِ آستین کہتا ہے۔ آدمی اور سانپ میں ایک اور قدرِ مشترک بھی ہے۔ دونوں کا زہر ان کے منہ میں ہوتا ہے۔ جسطر ایک انسان دوسرے انسان کے کام نہیں آتا یہی وطیرہ سانپ کا بھی ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
بہت قریب تھی منزل کی روشنی لیکن

سفینے جھوم کے ٹکرا گئے سفینوں

حیات دست و گریباں ہوئی قضا سے مگر

ہزار سانپ نکل آئے آستینوں سے

آدمی اور سانپ کی ایک اور ادا بھی ایک جیسی ہے۔ سانپ بھی سارا دن لہرا لہرا کر چلتا ہے مگر شام کو جب بل میں گھستا ہے تو سیدھا ہو جاتا ہے۔ انسان بھی زندگی بھر ٹیڑھا رہتا ہے لیکن جب زندگی کی شام آتی ہے تو قبر میں اترنے کے لیے سیدھا ہو جاتا ہے۔ خیر عام انسانوں کے بارے میں، تو میں وثوق سے یہ بات نہیں کر سکتا لیکن مجھ پر سانپ کی خو بو بالکل صادق آتی ہے۔ میری بھی زندگی کی شام ہو چکی ہے اور میں بھی قبر میں اترنے سے پہلے سیدھا ہو چکا ہوں۔ آج کل صراطِ مستقیم پر گامزن ہوں۔ حتی الامکان دین پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور کچھ نہیں تو دوپہر کا کھانا وقت پر، شرعی طریقے سے اور خوب پیٹ بھر کر تناول فرماتا ہوں۔ باوجود اس کے کہ ذیابیطس کا مریض ہوں لیکن کھانے کے بعد میٹھا ضرور کھاتا ہوں اور قیلولہ باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اور کیوں نہ کروں کہ یہ زیست کی اسلامی ادا ہے۔ آج جیسے ہی قیلولہ کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی تو عبدالرحمن بابا نے آ کر جگا دیا۔ رحمان بابا بڑے دلگیر تھے۔ افسردہ تھے۔ کہنے لگے، یہ تم لوگ میرے ساتھ کیا کر رہے ہو۔ میں نے تو زندگی بھر تصوف کی بات کی، اخلاقی شاعری کی، آپ لوگوں کی روحانی تربیت کی، بلکہ قرآنی آیات کی تفسیر اپنے شعروں میں عام زبان میں پیش کی۔ میرے شعر تو کسی اعجاز سے کم نہیں تھے۔

چې منکر پرې اعتراض کولی نه شي

دا دې شعر دی، رحمانه، که اعجاز

(جس پر منکر بھی اعتراض نہیں کر سکتا، اے رحمان! یہ تمہارا شعر ہے یا اعجاز۔)

میں نے کہا، بابا ناراضگی کس بات پر ہے۔ بابا نے تاسف سے کہا، صدیاں بیت گئیں مگر فرق نہیں آیا۔ وہی جو چار ساڑھے چار سو سال پہلے ہوتا تھا، وہی آج بھی ہو رہا ہے۔ مجھے پہلے سے پتا تھا، اسی لیے تو کہا تھا

په سبب د ظالمانو حاکمانو
کور او ګور او پېښور درې واړه یو دي

(ظالم حاکموں کی وجہ سے میرے لیے گھر، قبر اور پشاور تینوں ایک جیسے ہیں۔)

دیکھو، میرے اپنے گاؤں میں، میرے اپنے گھر میں، میری اپنی اولاد نے کس طرح غریب، بے آسرہ اور معصوم خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی۔ کس طرح چار بندوق برداروں نے نشے میں دھت اپنے ایک غریب کرایہ دار کی ازواج کی عزت بزورِ بندوق لوٹ لی۔ یہ تو عزیز خان کے واقعے سے بھی بڑا ظلم ہوا۔ افسوس، آج بھی میرا گھر محفوظ نہیں۔ اور میری قبر کے ساتھ کیا کیا؟ بارود سے اڑا دیا۔ میں نے تو ہمیشہ محبت، انسانیت، اخوت اور امن کا درس دیا تھا اور تم لوگوں نے میری لاش تک کی بے حرمتی کی۔ مجھے قبر میں بھی سکون سے رہنے نہیں دیا۔ اور میرا پشاور، جہاں میرے حاکم رہتے ہیں، ان کا ظلم دیکھو۔ یعنی میرے نام پر بجائے روحانی اور صوفیانہ عمارت کے تھانہ بنا دیا۔ اور کس ڈھٹائی اور بے شرمی سے اس کا نام رحمان بابا پولیس سٹیشن رکھ دیا۔ مجھے ملنگ سے داروغہ بنا دیا۔ اور پھر کوتوال کو دیکھو۔ میرے نام کے تھانے پر انصاف کے نام پر قتال کرتا ہے۔ اور پھر یہ ستم دیکھو کہ اتنی تالیاں کبھی میرے اشعار پر تم لوگوں نے نہیں بجائی ہیں، اتنی داد کبھی مجھے میرے صوفیانہ کلام پر نہیں دی جتنی تالیاں تم لوگ جعلی پولیس مقابلوں پر بجاتے ہو اور جتنی داد تم ماورائے عدالت قتال پر دیتے ہو۔ مگر سنو اور غور سے سنو

کوهي مه کنه د بل سړي په لار کې

چېرې ستا به د کوهي په غاړه لار شي

ته چې بل په غشیو ولې، هسې پوه شه

چې همدا غشي به ستا په لور ګوزار شي

(کسی کے راستے میں کنواں مت کھودو،کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا بھی گزر اسی کنویں کے کنارے سے ہو۔اور تم جس طرح دوسروں پر تیر برساتے ہو، یہ سمجھ لو کہ یہی تیر ایک دن تمہاری طرف بھی پلٹ کر آئیں گے۔)

میں نے کہا، بابا یہ سب بڑے لوگوں کے کھیل ہیں۔ مجھے حکم کرو، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ رحمان بابا گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ ایک طویل وقفے کے بعد کہا، دیکھو، کوتوالِ شہر کو کہو کہ اگر تم خوامخواہ بضد ہو کہ اپنے کسی مرے ہوئے بزرگ کو رسوا کرو تو پھر میرے نام کے بجائے اس پولیس تھانے کا نام خوشحال خان خٹک پولیس سٹیشن رکھو۔ وہ ویسے بھی جھگڑالو آدمی تھا۔ برا نہیں مانے گا۔ ہم فقیروں کی بددعائیں کیوں لیتے ہو۔
خالد خان
واپس کریں