
امریکہ ایران تنازع مشرق وسطیٰ کیلئے تشویش کا باعث تھا ہی مگر یمن میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کی اہم پوزیشنوں پر قبضے سے خطے میں ایک نئے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ مُخا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد باب المندب کی آبی گزرگاہ میں واقع وہ آخری دو جزیرے بھی اپنے قبضے میں لے لیے ہیں جو اَب تک ان کے کنٹرول سے باہر تھے۔ اس صورتحال کے اثرات محض یمن یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت خصوصاً توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی یہ آبی گزرگاہ نہ صرف تیل اور دیگر توانائی کے ذرائع کی ترسیل کیلئے اہم ہے بلکہ ایشیا‘ یورپ اور دیگر خطوں کے درمیان عالمی تجارت کیلئے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ باب المندب میں رکاوٹ کا مطلب نہر سویز کی جانب جانے والی تجارت کے ایک اہم راستے کو خطرہ ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی ایک اہم تیل پائپ لائن کو حالیہ حملوں کے بعد بند کیے جانے کی اطلاعات نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ابقیق آئل فیلڈ سے مغربی ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے تناظر میں اس پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھ گئی تھی اور جنگ کے آغاز کے بعد اسکے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا۔ توانائی کی ترسیل کے متبادل راستے بھی حملوں یا عدم تحفظ کا شکار ہونے لگیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اتار چڑھاؤ اور سپلائی کے بحران کا خطرہ بعید از قیاس نہیں۔ پاکستان نے سعودی پائپ لائن پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی امن‘ سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت‘ سلامتی اور خوشحالی کیلئے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ بحیرہ احمر میں پیدا ہونیوالی تازہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ امریکہ ایران تنازع کے مستقل اور یقینی خاتمے کیلئے عالمی برادری کو اب پہلے سے زیادہ سنجیدہ کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب‘ دونوں اہم بحری گزرگاہوں پر کسی بھی طویل رکاوٹ کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو اس سے شدید دھچکا پہنچنے کا خطرہ ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات اور پائیدار امن کی جانب پیشرفت کیلئے ایک اہم راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا بھی قابلِ غور ہے کہ اگر امریکہ ایران کی ناکہ بندی اور جارحیت ختم کر دے تو آبنائے ہرمز کھولی جا سکتی ہے۔ ایرانی صدر کے اس بیان کو کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی امکان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران اور امریکہ کے تنازع نے پہلے ہی دنیا کو بے پناہ معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ روز نئی دہلی میں برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے خطے کے عوام کو شدید نقصانات پہنچائے‘ اور یہ جنگ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات میں نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری اس جنگ کے خاتمے کیلئے مشترکہ اور سنجیدہ سفارتی کوششیں کرے۔
اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے عالمی تجارت کے اہم راستے مسلسل کشیدگی کی زد میں رہے تو اسکے معاشی مضمرات کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ دنیا کو ایسے وسیع تر معاشی بحران سے بچنے کیلئے مشترکہ‘ سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے‘ اسکا واحد راستہ مذاکرات‘ سفارتکاری اور پائیدار امن ہے۔
واپس کریں