مہمان کالم
وفاق کے لئے اصل مسئلہ اس کا خسارہ ہے جو صوبوں کو بھاری شئیر دینے کے بعد قرضوں کی ادائیگی سے دفاع تک ہر شعبے میں ہے۔ آئین کی 18ویں ترمیم اور 7ویں NFC ایوارڈ کے تحت قابـلِ تقسیم ٹیکس پول میں سے 57.5% حصہ صوبوں کو دینا طے پایا اور آئین میں یہ پابندی لگا دی گئی کہ اگلے کسی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ اس سے کم نہیں کیا جا سکتا۔
معاملہ یہ ہے کہ ٹیکس وفاق جمع کرتا ہے اور وہ خسارے میں ہے جبکہ صوبوں کے بجٹ سرپلس ( شکریہ پیپلزپارٹی کے ساتھ)
مالی سال 2025-26 میں صوبوں نے مجموعی طور پر تقریباً 1.84 کھرب روپے کا سرپلس (بچت) فراہم کیا، جس کی بدولت ملک کا مجموعی (Consolidated) خسارہ کم ہو کر 3.31 کھرب روپے رہا تھا۔ اگر صوبوں کے اس سرپلس کو منہا کر دیا جائے (یعنی شامل نہ کیا جائے)، تو صرف وفاق کا خالص مالی خسارہ 5.15 کھرب روپے (5.15 Trillion PKR) بنتا ہے۔
اب آ جائیں پٹرولیم لیوی پر، اگر اسے مکمل نہیں صرف ایک ہزار ارب روپے ختم کر دیا جائے ( چھ سو ارب رہنے دیا جائے) تو جیسے پہلے بتایا آئین کے تحت FBR کے ذریعے اکٹھا ہونے والا عام ٹیکس (انکم ٹیکس، Sales Tax، کسٹم وغیرہ) قابلِ تقسیم پول (Divisible Pool) میں جاتا ہے۔ اس پول میں سے 57.5% رقم براہِ راست صوبوں کو چلی جاتی ہے۔ وفاق کے پاس صرف 42.5% بچتا ہے۔ اگر وفاق پٹرولیم لیوی کا 1,000 ارب روپیہ ختم کرتا ہے (جو نان ٹیکس آمدن ہونے کی وجہ سے 100% وفاق کے پاس رہتا ہے)، تو اپنے بجٹ کا وہی 1,000 ارب کا خسارہ پورا کرنے کے لیے وفاق کو تقریباً 2,350 ارب روپے (2.35 Trillion) کے نئے FBR ٹیکس لگانے پڑیں گے۔ ( یاد رکھیں وفاق پہلے ہی صوبوں کی “بھیک” پر چل رہا ہے، وفاق چلانے کے لئے متبادل ٹیکس لگانے پڑیں گے)۔
یہاں ایک مسئلہ اور بھی ہے کہ پٹرولیم لیوی کی جمع تفریق اور وصولی آسان مگر دوسرے ٹیکس آپ دو ہزار ارب لگائی تو ٹیکس چوری کے کلچر کی وجہ سے ہزار ارب جمع ہوں گے یعنی مجموعی طور پر وفاق کو تین سے چار ہزار ارب کے نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے جو معیشت اور کاروبار تباہ کر دیں گے۔
حل پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے یا کچھ اور؟ جی، اعداد و شمار اور قوانین آپ نے پڑھ لئے۔ حل یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا شئیر بڑھایا جائے اور 18ویں آئینی ترمیم میں لگائی پابندی ختم کی جائے ورنہ صوبے سرپلس بجٹ کی عیاشیاں کرتے اور وفاق خسارے کا شکار رہے گا ( اور پٹرولیم لیوی سے گالیاں کھاتا رہے گا)۔
اصل مسئلہ ایک اور بھی ہے کہ کیا یہ بات عوام کو بتائی اور سمجھائی جاتی ہے کہ پیپلزپارٹی نے صوبوں کے لئے جو فارمولہ تیار کیا اس کے بعد وفاق (FBR) نے مالی سال 2025-26 میں 13,001 ارب روپے (13 کھرب روپے) کا خالص ٹیکس جمع کیا جبکہ چاروں صوبے 1000 ارب ہی اکٹھا کر پائے مگر اس کے باوجود صوبے امیر مگر وفاق غریب اور مپٹرولیم لیوی لگانے پر مجبور۔
میں جانتا ہوں کہ ظالمانہ ٹیکس کے خلاف نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن اگر ہم جماعت اسلامی کے آئی کیو سے اوپر اٹھ کے دیکھیں تو اصل مسئلہ کہیں اور ہے لیکن شکوہ یہ ہے کہ پی پی پی دور کے اس فیصلے کے مضر اثرات پر کوئی بات نہیں کرتا۔ عوام کو سمجھائیں گے تو وہ سمجھیں گے۔ اگر یہ فیصلہ ریورس ہو تو پٹرولیم لیوی ریورس ہونا ممکن ہو جائے کیونکہ کسی حکومت کو گالیاں کھانے کا شوق نہیں ہوتا۔
مجھے کہنا ہے کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ ہو یا پاکستان ہمیشہ زندہ باد کا نعرہ، یہ وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ یہ نہیں کہ صوبے سینکڑوں ارب بچاتے اور اچھالتے پھریں اور وفاق ہزاروں ارب جمع کر کے بھی فقیر ہو، تنگدست ہو۔
واپس کریں