دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تعلیم، صحت، قانون سازی: صرف اشرافیہ کے لیے؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
تعلیم اور صحت کے شعبے کسی بھی مہذب اور فلاحی ریاست کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ آئینِ پاکستان بھی ریاست کو واضح طور پر پابند کرتا ہے کہ وہ عوام کو بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم اور صحت کی خدمات فراہم کرے۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایک ایسا رجحان مسلسل مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے جس نے ریاستی ذمہ داریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ رجحان تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرکاری سرمایہ کاری کی بجائے نجی شعبے پر بڑھتے ہوئے انحصار کا ہے۔
ضلع شیخوپورہ پنجاب کا ایک قدیم، تاریخی اور معاشی لحاظ سے اہم ضلع ہے۔ صنعتی سرگرمیوں، زرعی پیداوار اور آبادی کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھنے کے باوجود یہ ضلع آج تک ایک مکمل سرکاری یونیورسٹی سے محروم ہے۔ یہ محرومی صرف شیخوپورہ کی نہیں بلکہ ان ہزاروں نوجوانوں کی محرومی ہے جو محدود وسائل کے باعث مہنگے نجی تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ حالیہ دنوں میں پنجاب اسمبلی نے پرائیویٹ سیکٹر کی۔۔غنی یونیورسٹی شیخوپورہ بل۔۔ کی منظوری دے دی۔ اس بل کو نہایت مختصر مدت میں اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔ 27 اگست کو بل پیش ہوا اور یکم ستمبر کو منظوری بھی حاصل کر لی گئی۔ اس رفتار سے قانون سازی بظاہر اس بات کی عکاس ہے کہ نجی شعبے کے تعلیمی منصوبوں کے لیے حکومتی اور سیاسی حلقوں میں غیر معمولی دلچسپی اور سہولت موجود ہے۔ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کو بھی غیر منافع بخش فاؤنڈیش کا درجہ دیا گیا، جیسا کہ ماضی میں بعض دیگر نجی جامعات کو دیا جاتا رہا ہے۔ قانونی اور معاشی ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی ادارے کو غیر منافع بخش قرار دیا جاتا ہے تو اسے متعدد مالی اور ٹیکس مراعات حاصل ہو جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مراعات کا فائدہ عام طالب علم تک پہنچتا ہے؟ کیا فیسوں میں کمی آتی ہے؟ کیا متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلتے ہیں؟ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ نجی جامعات کی فیسیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم رفتہ رفتہ ایک ایسی سہولت بنتی جا رہی ہے جو صرف صاحبِ حیثیت طبقات کی دسترس میں ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 37 ریاست کو ناخواندگی کے خاتمے، مفت ثانوی تعلیم، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتا ہے۔ آرٹیکل 38 ریاست پر یہ ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات، بشمول تعلیم اور طبی امداد، فراہم کرے۔ بدقسمتی سے عملی صورت حال آئینی تقاضوں سے خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ سرکاری سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور جامعات کی بڑی تعداد فنڈز کی کمی، انتظامی مسائل، سیاسی مداخلت اور انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کا شکار ہے۔ دوسری جانب نجی شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ ایک سکول کی جگہ سکولوں کی چین قائم ہو جاتی ہے، ایک کالج کئی شہروں تک پھیل جاتا ہے اور پھر وہی ادارہ یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے جہاں نجی ہسپتال جدید سہولیات اور بلند فیسوں کے ساتھ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
اصل مسئلہ نجی سرمایہ کاری نہیں بلکہ ترجیحات کا عدم توازن ہے۔ اگر ریاست اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے تعلیم اور صحت پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کرے تو نجی شعبے کی موجودگی بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن جب سرکاری شعبہ مسلسل کمزور اور نجی شعبہ مسلسل مضبوط ہوتا جائے تو معاشرے میں طبقاتی تقسیم بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو لاکھوں روپے سالانہ فیس ادا کر سکتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ کروڑوں شہری ہیں جن کے لیے بنیادی تعلیم اور علاج بھی ایک خواب بن جاتا ہے۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کی اشرافیہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ اور امریکہ بھیجتی ہے جبکہ علاج کے لیے بھی انہی ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے۔ ایسے میں عام شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اگر سرکاری تعلیمی اور طبی ادارے معیاری ہیں تو حکمران طبقہ خود ان سے استفادہ کیوں نہیں کرتا؟ اور اگر یہ ادارے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے تو انہیں بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں صرف نجی شعبے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ عوامی مفاد کے لیے بھی اسی رفتار اور سنجیدگی سے قانون سازی کریں۔ نئے سرکاری سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور ہسپتال قائم کیے جائیں۔ تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے، تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں، اور صحت کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔اور خصوصی طور پر شیخوپورہ کی عوام کے لئے سرکاری یونیورسٹی مہیا کی جائے۔ یاد رہے جب تک ریاست اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے ادا نہیں کرتی، تب تک سماجی ناہمواری، طبقاتی تقسیم اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
واپس کریں