
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں پابند سلاسل عمران خان کی حمایت میں اضافے کا واضح رجحان نظر آ رہا ہے۔ جیل میں قید عمران خان کی مقبولیت نہ صرف برقرار ہے بلکہ غیر جانبدارپاکستانی اورعالمی مبصرین کے مطابق اس مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آزاد تجزیوں کے مطابق عمران خان کی عوامی حمایت اب بھی ساٹھ فیصد یا اس سے زیادہ کے قریب بتائی جاتی ہے۔
عوامی حمایت کی بڑی وجہ عمران خان کی گرفتاری،قید، درجنوں مقدمات ، ریاست کی جانب سے سیاسی انتقام اور مقتدرہ کے کے خلاف مسلسل مزاحمت ہے۔ روایتی سیاسی خاندانوں کے مقابلے میں انہیں کم کرپٹ سمجھا جاتا ہے۔ خان کے حمایتی یہ خیال رکھتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ سرکاری تحائف بیچے بھی تو وہ دوسرے سیاستدانوں کی نسبت کم کرپٹ ہیں۔ پاکستانی نوجوان نسل جو آبادی کا بہت بڑا حصہ ہے خان سے مسلسل جڑی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا نے اس حمایت کو مزید ہوا دی ہے۔
پاکستان میں معاشی مشکلات،بے روزگاری، مہنگائی اور گھسے پٹے روایتی نظام سے مایوسی نے بھی عوام خاص طور پر نوجوانوں کو متبادل کی تلاش میں خان کی طرف موڑ دیا ہے۔ عمران خان کی جیل میں موجودگی نے انہیں “مظلوم لیڈر” بنا دیا ہے، جو پاکستانی سیاست میں مقبولیت بڑھاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکن اور حامی مسلسل احتجاج اور اسٹریٹ مومینٹ کے ذریعے اس حمایت کو ظاہر کر رہے ہیں، جیسا کہ سندھ اور کراچی میں حالیہ سرگرمیاں اور اس ضمن میں چند روز بعد ایک اور احتجاجی مارچ بھی متوقع ہے جو کہ اس وقت حکومت کے لیئے درد سر بنا ہوا ہے۔
عمران خان کی حکومت کے دوران بھی میڈیا پر دباؤ کے الزامات لگے تھے، لیکن موجودہ صورتحال میں کئی صحافی میڈیا آزادی کی شدید پابندیوں کا شکار ہیں۔ ٹی وی چینلز پر عمران خان کا نام تقریباً ممنوع ہے یا انہیں “پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین” کہا جاتا ہے۔ آزاد صحافت پر پابندیاں، پی ای سی اے کے تحت مقدمات اور دباؤ نے بہت سے صحافیوں کو موجودہ نظام سے تنگ کر دیا ہے۔اسی تناظر میں صحافی، دانشور اور عوام عمران خان کو کرپشن کے خلاف اور سٹیٹس کو کے مخالف لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں اور ان کی گرفتاری اور مقدمات کو سیاسی طور پر متحرک سمجھ کر ان کے حق میں مسلسل آواز اٹھاتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور آزاد پلیٹ فارمز پر عمران خان سے متعلق خبریں یا گفتگو زیادہ سننے کو ملتی ہے، جبکہ روایتی میڈیا محدود ہے بلکہ ریاستی پابندیوں کا شکار ہے۔
وسیع تر تناظریہ رجحان صرف خان کی ذاتی مقبولیت کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام،بڑھتے معاشی مسائل اور طاقت کے توازن کا عکس ہے۔ اشٹبلشمنٹ کی مذید مضبوطی اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش نے عوام کو متبادل یعنی عمران خان کی طرف دھکیلا ہے۔
اس بات میں کسی قسم کا شبہ نہیں کہ عمران خان کو مقتدرہ نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیئے لانچ کیا تھا لیکن اس وقت مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ جو گانٹھیں بڑی محنت سے لگائی تھیں وہ اب دانتوں سے بھی نہیں کھل رہیں اور اوپر سے عمران خان کی حمایت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
احتشام الحق شامی
واپس کریں