دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی برادری اور حکومتِ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں
No image (اسلام آباد) نیوز ڈیسک ۔ جموں کشمیر لبریشن لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جموں کشمیر لبریشن لیگ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جموں کشمیر کی حالیہ صورتِ حال، قانون ساز اسمبلی کے انتخابات، حکومت کی تشکیل اور دیگر اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اجلاس کی صدارت مرکزی صدر جموں کشمیر لبریشن لیگ خواجہ منظور قادر ایڈووکیٹ نے کی جبکہ اجلاس کی کاروائی مرکزی سیکرٹری جنرل خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ نے سرانجام دی۔ اجلاس میں مرکزی سینئر نائب صدر نجیب افسر چوہدری، سینئر راہنما نیاز احمد راٹھور، تمام ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر نے شرکت کی۔
مجلسِ عاملہ نے متفقہ طور پر درج ذیل قراردادوں کی منظوری دی۔
قرارداد نمبر 1:
مجلسِ عاملہ JKLL آزاد کشمیر میں منعقدہ حالیہ عام انتخابات 2026 کے مرحلہ وار انعقاد، انتخابات میں ہونے والی کھلی دھاندلی، ریاستی مشینری کے کھلے استعمال، عوامی مینڈیٹ کی پامالی اور لوگوں کے حقِ رائے دہی کے نام پر ڈھونگ کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ مجلس اس بات کی شدید مذمت کرتی ہے کہ پونچھ ڈویژن جیسے بڑے خطے کو اعتماد میں لیے بغیر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا گیا۔ اسی طرح صدر کی وفات کے بعد آئین کے مطابق نئے صدر کا انتخاب نہ کروانا بھی مغائرِ آئین اقدام ہے۔ مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر غیر جانبدار الیکشن کمیشن تشکیل دے کر شفاف انتخابات کروائے جائیں اور آئینی تقاضے پورے کیے جائیں۔
قرارداد نمبر 2:
مجلسِ عاملہ عوامی حقوق کی تحریک کے شرکاء پر ہونے والے ریاستی جبر، گرفتاریوں اور بے بنیاد مقدمات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ اجلاس قرار دیتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش، انٹرنیٹ کی بندش، گرفتار شدگان کو عدالتوں میں پیش نہ کرنا، اظہارِ آزادیِ رائے اور تقریر و تحریر پر پابندی، اور شیڈول فورتھ کا عوام پر بلا جواز اطلاق سراسر آئین و قانون کے منافی اور آمرانہ طرزِ عمل ہے۔ مجلس حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ طاقت کی پالیسی ترک کرے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے، تعلیمی ادارے اور انٹرنیٹ بحال کرے اور تحریک کے نمائندوں سے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے۔
*قرارداد نمبر 3:
مجلسِ عاملہ واضح کرتی ہے کہ عوام کے بنیادی مطالبات جائز اور آئینی ہیں۔ ان مطالبات کو جبر سے دبانے کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے۔ مجلس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ JKLL عوامی حقوق کی تحریک کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور عوامی حقوق پر کسی قسم کے سمجھوتے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
قرارداد نمبر 4:
مجلسِ عاملہ 4 اکتوبر 2025 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتِ پاکستان و حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے نمائندگان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ مجلس قرار دیتی ہے کہ معاہدے سے انحراف کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والے بحران کے اسباب اور ذمہ داران کے تعین کے لیے فوری طور پر ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔ مجلس مطالبہ کرتی ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں بحران کے ذمہ داران سے آئین و قانون کے مطابق جواب طلبی کر کے ان عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
قرارداد نمبر 5:
مجلسِ عاملہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی ہے۔ مجلس اس بات کا دو ٹوک اعادہ کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حقِ خودارادیت ہے۔ کسی بھی "Peace Talk" یا دو طرفہ مذاکرات کو اس وقت تک مسترد کیا جاتا ہے جب تک اس میں حقیقی کشمیری قیادت کو شامل نہ کیا جائے۔ مجلس عالمی برادری اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں۔
مجلسِ عاملہ اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ JKLL عوامی حقوق اور تحریکِ آزادی کے لیے ہر فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
خلیق الرحمن سیفی ایڈووکیٹ
مرکزی سیکرٹری جنرل
جموں کشمیر لبریشن لیگ
واپس کریں