
آج میں نے ایک خبر پڑھی تو دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کے لیے ایک استور مارخور کا پرمٹ تین لاکھ چھپن ہزار ڈالر میں نیلام ہوا۔ ایک جانور کی موت کی قیمت مقرر ہوئی، ایک شکاری نے وہ قیمت ادا کی، اور خبر اس انداز میں سامنے آئی جیسے انسان نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کرلی ہو۔ بتایا گیا کہ ایک سو سترہ جانوروں کے شکار کے پرمٹس سے محکمہ جنگلی حیات کو اس موسم میں پینسٹھ کروڑ روپے آمدن کی امید ہے۔
مگر میں سوچتا رہا:
یہ پینسٹھ کروڑ کس چیز کی قیمت ہیں؟
ایک زندگی کی؟
یا انسان کے اس اختیار کی، جس کے تحت وہ دوسری زندگیوں کی قیمت مقرر کرتا ہے؟
مارخور نے کس کا کیا بگاڑا تھا؟
وہ کسی اسمبلی میں نہیں بیٹھا تھا۔ اس نے کسی حکومت کے خلاف دھرنا نہیں دیا تھا۔ اس نے کسی کا گھر نہیں جلایا تھا۔ اس نے کسی کا حق نہیں چھینا تھا۔ وہ پہاڑوں میں پیدا ہوا، انہی پہاڑوں میں جیا، ہوا میں سانس لی، اپنے بچوں کو دیکھا اور اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارتا رہا۔
پھر ایک دن انسان آیا۔
اس کے پاس دولت تھی۔
اس کے پاس بندوق تھی۔
اس کے پاس اجازت نامہ تھا۔
اور مارخور کے پاس صرف زندگی تھی۔
انسان نے دولت دی، حکومت نے اجازت دی، شکاری نے نشانہ لیا، اور ایک زندہ وجود خاموش ہوگیا۔
پھر ہم نے اس خاموشی کو آمدن کا نام دے دیا۔
میں آج یہ سوال نہیں کر رہا کہ شکار کا قانون کیا کہتا ہے۔ میں یہ بھی نہیں پوچھ رہا کہ کون سا ملک، کون سا مذہب یا کون سا محکمہ اسے جائز قرار دیتا ہے۔ میرا سوال اس سے پہلے کا ہے:
کیا قانون بن جانے سے ظلم، ظلم نہیں رہتا؟
اگر کل کوئی طاقتور مخلوق ہم سے کہے کہ تمہاری زندگی ہماری تفریح ہے، تمہارا شکار ہماری خوشی ہے، اور تمہاری موت سے ہماری حکومت کو کروڑوں روپے آمدن ہوگی، تو کیا ہم یہ دلیل سن کر خاموش رہیں گے؟
ہم کہیں گے:
ہمیں جینے کا حق ہے۔
اور اگر وہ ہم سے پوچھے:
"یہ حق تمہیں کس نے دیا؟"
تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
ہم کہیں گے کہ ہم انسان ہیں؟
تو کیا زندگی کی قدر صرف انسان ہونے سے شروع ہوتی ہے؟
کیا پہاڑوں میں سانس لینے والی زندگی، جنگل میں دوڑنے والی زندگی، درخت پر بیٹھنے والی زندگی، زمین پر رینگنے والی زندگی، سمندر میں تیرنے والی زندگی صرف اس لیے کم قیمتی ہوگئی کہ وہ ہماری زبان میں اپنا مقدمہ پیش نہیں کرسکتی؟
میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔
میں اس تصور کو قبول نہیں کرتا کہ جس کے ہاتھ میں بندوق ہو، اسے فیصلہ کرنے کا حق بھی مل جائے۔ میں اس فلسفے کو قبول نہیں کرتا کہ دولت کسی جاندار کی موت خرید سکتی ہے۔ میں اس تہذیب پر سوال اٹھاتا ہوں جو ایک جانور کو مارنے کے لیے اجازت نامہ جاری کرتی ہے اور پھر اس اجازت نامے سے حاصل ہونے والی رقم کو کامیابی سمجھتی ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ دنیا میں شکار کے بارے میں مذہبی، قانونی اور ثقافتی تصورات مختلف ہیں۔ میں ان تمام مباحث میں جانے کے بجائے صرف ایک سوال چھوڑنا چاہتا ہوں:
اگر قتل ضروری نہیں تو صرف شوق کے لیے قتل کیوں؟
اگر انسان کو خوراک درکار ہے تو یہ ایک الگ سوال ہے۔ اگر کسی جانور سے انسان کی جان بچانا مقصود ہو تو یہ بھی الگ معاملہ ہے۔ مگر محض اس لیے کہ کسی انسان کو شکار کا شوق ہے، کسی زندہ مخلوق کو نشانہ بنانا کس اخلاقی ضرورت کا نام ہے؟
اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم نے اس قتل کو خوبصورت نام دے دیے ہیں۔
ٹرافی ہنٹنگ۔
تحفظِ جنگلی حیات۔
محکمہ کی آمدن۔
مقامی معیشت۔
پرمٹ۔
نیلامی۔
الفاظ بدل گئے، مگر مارخور کی آنکھ میں شاید سوال وہی رہا:
"میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟"
کاش ہم اس سوال کو سن سکتے۔
کاش شکار پر جانے سے پہلے شکاری ایک لمحے کے لیے اس جانور کی آنکھوں میں دیکھتا۔ شاید بندوق کا وزن اچانک بڑھ جاتا۔ شاید انگلی ٹریگر سے ہٹ جاتی۔ شاید اسے احساس ہوتا کہ جسے وہ "ٹرافی" کہنے جا رہا ہے، وہ کسی اور کے لیے پوری کائنات تھا۔
اس کے لیے پہاڑ گھر تھا۔
اس کے لیے زندگی بھی اتنی ہی عزیز تھی جتنی ہمیں اپنی زندگی عزیز ہے۔
وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔
یہ بات شاید کسی قانون کی کتاب میں نہ لکھی ہو، مگر زندگی کی سب سے پہلی زبان یہی ہے۔
کوئی بھی زندہ مخلوق مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوتی۔
اور اگر انسان واقعی اس کرۂ ارض کی سب سے باشعور مخلوق ہے تو اس کی برتری کا ثبوت یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ جانیں لے سکتا ہے۔ اس کی برتری کا ثبوت یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے باوجود جانیں بچاتا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک دن ایسی دنیا دیکھیں جہاں جنگلی جانور کی قیمت اس کی کھال، سینگ، دانت یا شکار کے پرمٹ سے نہیں بلکہ اس کی زندہ موجودگی سے متعین ہو۔
ایسی دنیا جہاں کسی حکومت کے لیے یہ فخر کی بات ہو کہ اس نے کتنے جانوروں کے شکار سے کتنے کروڑ کمائے، نہیں؛ بلکہ یہ فخر ہو کہ اس نے کتنے جانوروں کو مرنے سے بچایا۔
جہاں مقامی انسان کو یہ ترغیب ملے کہ جنگل میں موجود مارخور کو زندہ رکھنا اس کے لیے مردہ مارخور سے زیادہ فائدہ مند ہے۔
جہاں شکاری بندوق لے کر پہاڑ پر نہ جائے، کیمرہ لے کر جائے۔
جہاں ٹرافی دیوار پر لٹکانے کے بجائے تصویر میں محفوظ ہو۔
جہاں انسان اپنے بچوں کو یہ نہ سکھائے کہ "دیکھو، میں نے یہ جانور مارا تھا"، بلکہ یہ کہے:
"دیکھو، میں نے اسے زندہ دیکھا تھا۔"
یہ زیادہ بڑی کامیابی ہوگی۔
آج میں مارخور کے لیے صرف اس لیے نہیں رو رہا کہ وہ نایاب ہے۔
اگر دنیا میں مارخور کروڑوں کی تعداد میں بھی ہوتے، تب بھی ایک بے ضرر جانور کو محض تفریح کے لیے مارنے کا منظر میرے لیے تکلیف دہ ہوتا۔
زندگی کی حرمت تعداد سے نہیں بڑھتی۔
ایک زندگی بھی ایک پوری زندگی ہے۔
ایک چڑیا کی۔
ایک تتلی کی۔
ایک چیونٹی کی۔
ایک مارخور کی۔
ایک انسان کی۔
ہم نے دنیا کو انواع میں تقسیم کیا، نام رکھے، درجے بنائے، حقوق مقرر کیے۔ شاید یہ سب انتظام کے لیے ضروری ہو۔ مگر میرے دل میں ایک سوال پھر بھی زندہ رہتا ہے:
کیا زندگی نے بھی ہم سے اجازت مانگی تھی کہ ہم اسے اپنے بنائے ہوئے خانوں میں تقسیم کریں؟
نہیں۔
زندگی پہلے آئی تھی۔
قانون بعد میں آیا۔
انسان بعد میں آیا۔
ہم نے کتابیں بعد میں لکھیں۔
ہم نے سرحدیں بعد میں بنائیں۔
ہم نے حکومتیں بعد میں قائم کیں۔
زندگی نے ہم سے کوئی اجازت نہیں مانگی تھی۔
وہ صرف وجود میں آئی تھی۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ جب اسے کسی دوسری زندگی پر اختیار مل جائے تو وہ کیا کرتا ہے۔
وہ اسے ختم کرتا ہے؟
یا اسے جینے دیتا ہے؟
آج مارخور پہاڑ پر کھڑا ہو کر ہم سے کوئی تقریر نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس الفاظ نہیں۔ اس کے پاس وکیل نہیں۔ اس کے پاس ووٹ نہیں۔ اس کے پاس اخبار نہیں۔
اس کے پاس صرف آنکھیں ہیں۔
اور شاید انہی آنکھوں میں انسانیت کا اصل امتحان چھپا ہے۔
کیا ہم اس کی آنکھوں میں اپنی زندگی دیکھ سکتے ہیں؟
اگر دیکھ سکتے ہیں تو شاید بندوق نیچے رکھ دیں۔
اگر نہیں دیکھ سکتے تو شاید ہمیں اپنی انسانیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
کیونکہ مجھے آج یہ بات بار بار یاد آ رہی ہے:
جانور ہماری تفریح کے لیے پیدا نہیں ہوئے۔
جنگل ہماری ملکیت نہیں۔
زندگی ہماری جاگیر نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر:
کسی زندہ مخلوق کی موت ہماری تفریح بن جائے، تو شاید مرنے والا صرف جانور نہیں ہوتا؛ انسان کے اندر بھی کچھ مر جاتا ہے۔
واپس کریں