قیدی بھی کم از کم انسان تو ہوتے ہیں ۔ خلیق الرحمٰن سیفی ایڈووکیٹ

یہ دونوں تصاویر اسلام آباد فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کی ہیں۔ جہاں آپ کو پولیس کی قیدی گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ یہ گاڑیاں صبح 7 بجے سے 8 کے درمیان جیل سے روانہ ہوتی ہیں، 9 بجے سے قبل جوڈیشل کمپلیکس یعنی کچہری پہنچتی ہیں۔ قیدیوں کو گاڑیوں سے نکال کر بخشی خانے میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے باری باری مختلف عدالتوں میں پیش کر کے ساڑھے 3 بجے دوبارہ ان گاڑیوں میں ڈال کر واپس جیل لے جایا جاتا ہے۔
تلخ اور تکلیف دہ لمحات یہ ہیں کہ اس آگ برساتی گرمی میں پورا دن گاڑیاں دھوپ میں کھڑی رکھی جاتی ہیں اور سہہ پہر کو ان تپتی گاڑیوں میں قیدیوں کو کھڑا کر کے واپس جیل لے جایا جاتا ہے۔
میرے اندازے کے مطابق اس گاڑی میں آسانی سے 20 سے 30 بندے کھڑے کیے جانے کی گنجائش ہو گی لیکن تخمینے اور دیکھے جانے کے نتیجے میں اس بغیر ہوا والی گرما گرم گاڑی جو پورا دن سورج کی شعاعوں کو اپنے اندر محفوظ کرتی ہے، اس میں اس کے حجم سے دگنا قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ڈال کر جیل لے جایا جاتا ہے۔ اور اندر سے پانی پانی کی قابلِ رحم آوازیں سنائی دیتی ہیں جنہیں سننا یا ان کا جواب دینا بالکل بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
ایک ہی پارکنگ ہے جہاں ہماری معزز عدلیہ کی گاڑیوں کیلئے چھاؤں کی خاطر پورا چھت مہیا کیا گیا ہے جہاں ہماری بار کے عہدیداروں کو بھی اپنی گاڑیاں اس سائباں کے نیچے کھڑی کرنے کی سہولت بھی میسر ہے لیکن اسی جگہ پہ انصاف کی بھیک مانگنے والوں کیلئے رائج دستور ہمارے سامنے ہے۔
ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ آپ ان قیدیوں کو اپنے جیسا سمجھیں بلکہ صرف اتنی درخواست کرتے ہیں کہ انہیں کم از کم انسان ضرور سمجھا جائے۔ اور انسان غریب ہو یا امیر، منصف ہو یا ملزم، حاکم ہو یا رعایا ان کے جسم کی محسوسات ایک سی ہی ہوتی ہیں۔
ان کے مقدمات میں انصاف تو چلیں سالوں بعد شاید ہو ہی جائے لیکن ان کی بنیادی انسانی ضروریات کا تھوڑا سا خیال کر لینا میرے ہماری ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ہم وکلاء اور ججز شاید اپنا احساسِ ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
یاد رہے یہ ایک دن نہیں بلکہ ہفتے کے 6 دن یعنی روزانہ کی بنیاد پر مبنی داستان ہے اور دہائیوں سے رائج ہے۔
واپس کریں