ہٹلر، آئی جی فاربن اور دوا ساز اجارہ داری۔ دوسری جنگِ عظیم کے پیچھے کارپوریٹ مفادات کی کہانی

خصوصی تحقیق و تحریر خالد خان ۔ تاریخ میں کچھ کمپنیاں صرف کاروباری ادارے نہیں رہتیں بلکہ اپنے زمانے کی سیاسی، معاشی اور تزویراتی طاقت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جرمنی کی آئی جی فاربن انڈسٹری اے جی ایسی ہی ایک کمپنی تھی۔ 2 دسمبر 1925 کو قائم ہونے والی یہ کمپنی محض ایک کیمیائی ادارہ نہیں تھی بلکہ اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور صنعتی تنظیموں میں شمار ہوتی تھی۔ اس میں جرمنی کی چھ بڑی کیمیائی کمپنیوں، باسف، بائر، ہوئخسٹ، آگفا، گریشائم الیکٹرون اور وائلر تِر میر، کو یکجا کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ کیسلا اور کالے جیسے کاروباری ادارے بھی اس وسیع صنعتی اتحاد کا حصہ بن گئے تھے۔ باسف کی اپنی تاریخی دستاویز بھی تسلیم کرتی ہے کہ آئی جی فاربن اس وقت جرمنی کی سب سے بڑی کیمیائی کمپنی اور دنیا کی پانچ بڑی کیمیائی کمپنیوں میں شامل تھی۔
آئی جی فاربن کی تشکیل دراصل اس دور کی عالمی معاشی مسابقت کا جواب تھی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کی کیمیائی صنعت اپنی سابقہ عالمی برتری بحال کرنا چاہتی تھی۔ چھ بڑی کمپنیوں نے اپنی دولت، کارخانے، تحقیق، ماہرین اور ٹیکنالوجی کو ایک ہی صنعتی چھتری تلے جمع کر دیا۔ یوں ایک ایسا ادارہ وجود میں آیا جو رنگ سازی، کیمیکلز، ادویات، کھاد، مصنوعی ایندھن، مصنوعی ربڑ اور صنعتی خام مال سمیت بے شمار شعبوں میں پھیل گیا تھا۔ 1926 تک اس کے پاس تقریباً ایک لاکھ کارکن تھے اور اس کے اثاثے جرمنی کی باقی تمام کیمیائی کمپنیوں کے مجموعی اثاثوں سے کئی گنا زیادہ تھے۔
یہ صرف ایک بڑی کمپنی نہیں تھی؛ یہ اپنے دور کی صنعتی طاقت کا ایک ایسا مرکز تھی جس کے پاس سائنس، تحقیق، سرمایہ، پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈی تک رسائی سب کچھ موجود تھا۔ اس لیے جب جرمنی میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے تو آئی جی فاربن کے لیے سیاست سے مکمل طور پر الگ رہنا تقریباً ناممکن تھا بلکہ اس کے برعکس، معاشی مفادات نے اسے ریاستی طاقت کے قریب پہنچا دیا۔
1933 میں ایڈولف ہٹلر کے اقتدار میں آنے کے بعد آئی جی فاربن اور نازی حکومت کے درمیان تعاون بڑھتا گیا۔ یہاں تاریخی احتیاط بہت ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہٹلر صرف آئی جی فاربن کا کٹھ پتلی تھا یا نازی حکومت مکمل طور پر اس کمپنی کے حکم پر چلتی تھی۔ لیکن یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے کہ آئی جی فاربن نے نازی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کیا، جرمنی کی معاشی خود کفالت اور دوبارہ عسکری تیاری کی پالیسیوں سے فائدہ اٹھایا اور بالآخر جنگی معیشت کے لیے انتہائی اہم صنعتی صلاحیت فراہم کی۔ باسف اپنی موجودہ تاریخی دستاویز میں خود لکھتی ہے کہ معاشی مفادات کے تحت آئی جی فاربن نے 1933 کے بعد نازی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کیا اور اس کی خود کفالت، دوبارہ عسکری تیاری، حملہ آور جنگ اور تباہی کی پالیسیوں کو ممکن بنانے میں مدد دی۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: ایک صنعتی کمپنی جنگی ریاست کے لیے اتنی اہم کیوں بن گئی؟
اس کا جواب اس کی ٹیکنالوجی اور پیداوار میں چھپا ہوا تھا۔ جرمنی قدرتی خام مال کی بیرونی فراہمی پر انحصار کم کرنا چاہتا تھا۔ مصنوعی ایندھن اور مصنوعی ربڑ اس مقصد کے لیے انتہائی اہم تھے۔ آئی جی فاربن نے مصنوعی ایندھن اور مصنوعی ربڑ، خصوصاً بونا، کی تیاری میں ایسی صلاحیت پیدا کی جس نے نازی جرمنی کی خود کفالت اور جنگی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ باسف کی تاریخی دستاویز کے مطابق آئی جی فاربن کے کارخانے نائٹروجن، میتھانول، ایندھن، ربڑ، ادویات اور دوسرے کیمیائی شعبوں میں بنیادی پیداوار کرتے تھے، جبکہ نازی حکومت کی خود کفالت اور دوبارہ عسکری تیاری کی پالیسی کے لیے مصنوعی مصنوعات انتہائی اہم تھیں۔
1939 میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی تو کمپنی اور جنگی معیشت کا تعلق مزید گہرا ہو گیا۔ بائر کی اپنی تاریخی دستاویز کے مطابق جنگ کے دوران آئی جی فاربن نے آشوٹز کے قریب مصنوعی ربڑ کا ایک بہت بڑا کارخانہ قائم کرنا شروع کیا۔ اس منصوبے کے لیے جرمن ماہرین کے ساتھ ساتھ آشوٹز کے قیدیوں، جنگی قیدیوں اور پورے یورپ سے لائے گئے جبری مزدوروں کو استعمال کیا گیا۔ 1942 سے کمپنی اور نازی حکومت نے اس صنعتی منصوبے کے لیے بونا-مونووِٹز نامی کیمپ بھی قائم کیا۔ بائر کے مطابق اس مقام پر غیر انسانی حالات کے باعث بڑے پیمانے پر لوگ ہلاک ہوئے اور صرف اس تعمیراتی منصوبے پر 25,000 سے زیادہ افراد جان سے گئے۔
یہاں آئی جی فاربن کی تاریخ کا وہ باب شروع ہوتا ہے جہاں صنعتی طاقت انسانی المیے سے براہ راست جڑ جاتی ہے۔
ایک طرف دنیا کی جدید ترین کیمیائی تحقیق، بڑے کارخانے، ہزاروں سائنس دان اور صنعتی منصوبہ بندی تھی، دوسری طرف وہ انسان تھے جنہیں آزادی سے محروم کرکے جبری مشقت پر لگا دیا گیا تھا۔ اس نظام میں انسان ایک مزدور نہیں بلکہ استعمال ہونے والا وسیلہ بن گیا تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے آئی جی فاربن کا نام آج بھی نازی دور کے جرائم، آشوٹز اور جبری مشقت کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ باسف آج خود اپنی تاریخی دستاویز میں آئی جی فاربن کے نازی حکومت کے ساتھ تعاون اور آشوٹز سے تعلق کو اپنی تاریخ کا ایک انتہائی تاریک باب تسلیم کرتی ہے۔
اب آتے ہیں میتھیاس راتھ کے اس نظریے کی طرف جس نے اس پوری تاریخ کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی۔
راتھ کا دعویٰ ہے کہ بڑی جرمن کیمیائی اور دوا ساز کمپنیوں کی طاقت محض کاروباری طاقت نہیں تھی بلکہ اس نے ریاستی پالیسی، جنگی تیاری اور عالمی معاشی مفادات کے ساتھ ایسا تعلق قائم کیا جسے عام تاریخ میں پوری طرح نہیں دیکھا گیا۔ وہ آئی جی فاربن کو ایک ایسے صنعتی نظام کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں کیمیکل، دوا، تحقیق، سرمایہ اور ریاستی طاقت ایک دوسرے سے جڑ گئے تھے۔ اسی تناظر میں وہ ’’دوا ساز اجارہ داری‘‘ یا ’’فارما کارٹل‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
لیکن یہاں بھی تاریخی دیانت لازم ہے۔
یہ کہنا کہ ہٹلر صرف دوا ساز اجارہ داری کا نمائندہ تھا ایک متنازع تاریخی تشریح ہے، ثابت شدہ تاریخی حقیقت نہیں۔ اسی طرح یہ کہنا کہ دوسری جنگِ عظیم صرف آئی جی فاربن یا کسی دوا ساز گروہ نے اپنے منافع کے لیے شروع کروائی، موجودہ مستند تاریخی تحقیق سے ثابت نہیں ہوتا۔
لیکن اس احتیاط کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آئی جی فاربن اور نازی حکومت کے تعلق کو نظرانداز کر دیا جائے۔ تاریخی دستاویزات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ کمپنی نے نازی حکومت کے ساتھ تعاون کیا، جنگی معیشت سے فائدہ اٹھایا، جبری مشقت استعمال کی اور آشوٹز کے قریب ایک وسیع صنعتی منصوبہ قائم کیا۔
آئی جی فاربن کے حوالے سے زائیکلون بی کا معاملہ بھی اکثر انتہائی سادہ اور بعض اوقات غلط انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زائیکلون بی بنیادی طور پر ایک زہریلی کیڑے مار اور جراثیم کش گیس تھی، جسے بعد میں نازی قتل گاہوں میں انسانوں کے قتل کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ کہنا تاریخی طور پر درست نہیں کہ آئی جی فاربن نے کوئی دوا بنائی جو بعد میں زہریلی گیس میں تبدیل ہو گئی۔ اس معاملے میں الگ الگ کمپنیوں، ملکیتی تعلقات اور تجارتی اداروں کے کردار موجود تھے۔ اس لیے اس موضوع کو جذباتی یا سنسنی خیز انداز کے بجائے دستاویزی حقائق کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
جنگ ختم ہوئی تو آئی جی فاربن کی باری آئی۔
اتحادی طاقتوں نے جنگ کے بعد اس دیوہیکل صنعتی ادارے کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔ 1952 میں آئی جی فاربن کی تقسیم کے نتیجے میں اس کے کاروباری ورثے کو مختلف اداروں میں بانٹ دیا گیا۔ ان میں بائر، باسف، ہوئخسٹ اور کیسلا سب سے نمایاں جانشین ادارے تھے۔ بعد میں آئی جی فاربن قانونی طور پر ختم ہونے کے عمل میں داخل ہوئی، جبکہ اس کے سابقہ کاروبار نئے اداروں کے ذریعے دوبارہ ترقی کرتے گئے۔
یہاں تاریخ کا ایک نہایت دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔
جس کمپنی کو اس کی غیر معمولی صنعتی طاقت اور نازی دور سے تعلق کی وجہ سے توڑا گیا، اس کے بطن سے نکلنے والے کاروباری ادارے آنے والی دہائیوں میں دوبارہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شامل ہو گئے۔
باسف آج بھی دنیا کی بڑی کیمیائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کی عالمی فروخت 59.657 ارب یورو رہی۔ اسی سال اس نے تحقیق و ترقی پر تقریباً 1.995 ارب یورو خرچ کیے۔ اس طرح آئی جی فاربن کا ایک بڑا صنعتی ورثہ آج بھی ایک انتہائی طاقتور عالمی کیمیائی ادارے کی شکل میں موجود ہے۔
بائر نے بھی آئی جی فاربن کے بعد اپنی شناخت ایک بڑی عالمی صحت اور حیاتیاتی علوم کی کمپنی کے طور پر دوبارہ قائم کی۔ آج اس کے کاروبار میں ادویات، صارفین کے لیے صحت کی مصنوعات اور زرعی علوم شامل ہیں۔ بائر کی اپنی تاریخ تسلیم کرتی ہے کہ وہ 1925 میں آئی جی فاربن کا حصہ بنی اور جنگ کے بعد 19 دسمبر 1951 کو نئی بائر کمپنی کے طور پر دوبارہ قائم ہوئی۔
بائر کی نازی دور کی تاریخ بھی صرف آئی جی فاربن کے نام تک محدود نہیں رہی۔ امریکی ہولوکاسٹ میوزیم کی دستاویزات کے مطابق بائر، آئی جی فاربن کے اندر رہتے ہوئے، نازی جرائم سے جڑی ہوئی تھی اور اس کے بعض سائنس دانوں اور ادارہ جاتی سرگرمیوں کا تعلق حراستی کیمپوں میں انسانی تجربات سے بھی رہا۔ یہ تاریخ آج بائر کی اپنی یادداشت اور ذمہ داری کے نظام کا حصہ ہے۔
ہوئخسٹ کی کہانی مزید پیچیدہ ہے۔ یہ بھی آئی جی فاربن کی بڑی جانشین کمپنیوں میں شامل ہوئی، لیکن بعد میں اس کے کاروبار مختلف سمتوں میں تقسیم ہوئے۔ اس کے کیمیائی کاروبار کا ایک بڑا حصہ سیلانیز سے جڑا، جبکہ اس کا حیاتیاتی اور دوا ساز کاروبار فرانس کی رون پولانک کے ساتھ ملا اور اس کے نتیجے میں ایونٹس وجود میں آیا۔ 2004 میں ایونٹس اور سانوفی-سنتی لابو کے انضمام سے موجودہ سانوفی وجود میں آئی۔
یہ محض ناموں کی تبدیلی نہیں تھی؛ یہ اس بات کی مثال تھی کہ ایک بڑی صنعتی سلطنت کس طرح مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر نئی کارپوریٹ شناختوں کے ساتھ عالمی معیشت میں دوبارہ داخل ہوتی ہے۔
آج سانوفی ایک بڑی عالمی دوا ساز کمپنی ہے۔ 2025 میں اس کی مجموعی فروخت 43.626 ارب یورو رہی، جبکہ اسی سال اس نے تحقیق اور ترقی پر تقریباً 2.3 ارب یورو خرچ کیے اور خالص آمدنی 7.813 ارب یورو رہی۔ یعنی ہوئخسٹ کی تاریخی دوا ساز وراثت کا ایک اہم حصہ آج ایک بالکل نئی شناخت، نئی ملکیت اور نئی انتظامی ساخت کے ساتھ سانوفی میں موجود ہے۔
پاکستان میں بھی اس تاریخی سلسلے کی ایک دلچسپ جھلک موجود ہے۔ ہوئخسٹ پاکستان کی اپنی تاریخ کے مطابق ہوئخسٹ اور رون پولانک کے حیاتیاتی کاروبار کے انضمام سے ایونٹس وجود میں آیا، پھر 2004 میں ایونٹس اور سانوفی-سنتی لابو کے انضمام کے بعد سانوفی-ایونٹس اور بعد میں سانوفی کا نام سامنے آیا۔ 2023 میں پاکستان میں سانوفی کی ملکیت ایک سرمایہ کار اتحاد نے حاصل کی، جس کے نتیجے میں پاکستانی قانونی ادارے کا نام دوبارہ ہوئخسٹ پاکستان لمیٹڈ رکھا گیا۔ اس لیے آج پاکستان میں ہوئخسٹ کا نام دیکھ کر اسے براہ راست 1925 کی آئی جی فاربن سمجھنا درست نہیں ہوگا؛ درمیان میں تقریباً ایک صدی کے انضمام، تقسیم، خرید و فروخت اور ملکیتی تبدیلیاں موجود ہیں۔
آئی جی فاربن کی باقی شاخوں کی داستان بھی اسی طرح مختلف راستوں سے آگے بڑھی۔ آگفا الگ کاروباری سمت میں گئی، جبکہ کیسلا اور دوسرے ادارے بھی بعد کی تقسیم میں الگ ہو گئے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ آج آئی جی فاربن ایک ہی کمپنی کے نام سے موجود ہے۔ درست بات یہ ہے کہ اس کے صنعتی، سائنسی اور تجارتی ورثے کے مختلف حصے متعدد موجودہ کمپنیوں اور کاروباری سلسلوں میں منتقل ہوئے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کسی کمپنی کو توڑ دیا جائے تو کیا اس کی طاقت بھی ختم ہو جاتی ہے؟
آئی جی فاربن کی تاریخ کا جواب اتنا سادہ نہیں۔
اصل کمپنی کا نام ختم ہو گیا، اس کا ڈھانچہ ٹوٹ گیا، کاروبار مختلف حصوں میں بانٹ دیے گئے، لیکن اس کی ٹیکنالوجی، صنعتی علم، کارخانے، ماہرین اور کاروباری تجربہ مکمل طور پر غائب نہیں ہوئے۔ وہ نئے اداروں میں منتقل ہوئے اور نئی کارپوریٹ شناختوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔
اصل آئی جی فاربن کئی دہائیوں تک قانونی طور پر تصفیے کے مرحلے میں موجود رہی۔ بالآخر 31 اکتوبر 2012 کو اسے فرینکفرٹ کی تجارتی رجسٹری سے خارج کر دیا گیا اور اس کی قانونی زندگی بھی ختم ہو گئی۔
جنگ کے بعد صرف کمپنی کو عدالت کا سامنا نہیں کرنا پڑا؛ اس کے اعلیٰ افسران بھی عدالت کے کٹہرے میں آئے۔
نورنبرگ میں آئی جی فاربن کے 23 اعلیٰ منتظمین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ 1948 میں ان میں سے 13 کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ 10 کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ باسف کی موجودہ تاریخی دستاویز کے مطابق سزا پانے والوں میں بعض کو مقبوضہ علاقوں میں لوٹ مار اور بعض کو جبری مشقت اور اجتماعی قتل سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ بائر کی دستاویز کے مطابق سزا پانے والے تمام افراد بعد میں وقت سے پہلے رہا کر دیے گئے اور ان میں سے کئی دوبارہ اپنی اپنی کمپنیوں میں اہم عہدوں تک پہنچ گئے۔
یہ پہلو تاریخ کے ایک اور تلخ سوال کو جنم دیتا ہے: کیا ایک کاروباری سربراہ صرف اس لیے ریاستی اور انسانی جرائم کی ذمہ داری سے الگ ہو سکتا ہے کہ وہ فوجی افسر یا حکومتی وزیر نہیں بلکہ ایک کمپنی کا منتظم تھا؟
آئی جی فاربن کے مقدمے نے دنیا کے سامنے یہ سوال رکھا کہ کارپوریٹ ذمہ داری کہاں ختم ہوتی ہے اور ریاستی ذمہ داری کہاں شروع ہوتی ہے۔ اگر ایک کمپنی جنگی معیشت کے لیے بنیادی خام مال، ٹیکنالوجی اور پیداوار فراہم کر رہی ہو، جبری مزدوروں سے فائدہ اٹھا رہی ہو اور ریاستی جنگی منصوبوں سے مالی فائدہ حاصل کر رہی ہو، تو کیا اسے صرف ایک غیر جانب دار کاروباری ادارہ سمجھا جا سکتا ہے؟
یہ سوال آج بھی اہم ہے۔
میتھیاس راتھ اسی تاریخ کو ایک بڑے عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک آئی جی فاربن اس بات کی مثال تھی کہ کیمیائی صنعت، دوا سازی، تحقیق، سرمایہ اور ریاستی طاقت کس طرح ایک دوسرے سے جڑ سکتی ہیں۔ لیکن یہاں بھی فیصلہ کن بات یہی ہے کہ راتھ کا نظریہ ایک تشریح ہے، تاریخی عدالت کا فیصلہ نہیں۔
دستاویزی تاریخ ہمیں البتہ یہ ضرور بتاتی ہے کہ آئی جی فاربن نے نازی حکومت کے ساتھ تعاون کیا، اس کی خود کفالت اور دوبارہ عسکری تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جنگی معیشت سے فائدہ اٹھایا، جبری مشقت استعمال کی اور آشوٹز کے قریب ایک بہت بڑا صنعتی منصوبہ قائم کیا۔
اور پھر جنگ کے بعد اس کمپنی کو توڑ دیا گیا۔
لیکن اس کے بڑے صنعتی ورثے ختم نہیں ہوئے۔
باسف آج ایک 59.657 ارب یورو سالانہ فروخت رکھنے والی عالمی کیمیائی کمپنی ہے۔ بائر ایک عالمی صحت اور زرعی علوم کا ادارہ ہے۔ ہوئخسٹ کی دوا ساز وراثت ایونٹس کے ذریعے سانوفی تک پہنچی، جس نے 2025 میں 43.626 ارب یورو کی فروخت حاصل کی۔ سیلانیز اور دوسری کمپنیوں میں ہوئخسٹ کے کیمیائی کاروبار کی مختلف شاخیں منتقل ہوئیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آج کی باسف، بائر یا سانوفی کو براہ راست نازی جرمنی کی کمپنی قرار دیا جائے۔ یہ تاریخی اور قانونی طور پر غلط ہوگا۔ ان کمپنیوں کی موجودہ ملکیت، انتظام، کاروباری مقاصد اور قانونی حیثیت الگ ہیں۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ان کے بعض صنعتی اور کاروباری سلسلے اسی بڑے جرمن صنعتی نظام سے نکلے تھے جس کا مرکزی نام کبھی آئی جی فاربن تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ایک غیر معمولی سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے:
کیا بڑی کمپنی کو توڑ دینا طاقت کو ختم کر دیتا ہے، یا طاقت صرف اپنا نام، ملکیتی ڈھانچہ اور کاروباری شناخت بدل کر دوبارہ سامنے آ سکتی ہے؟
آئی جی فاربن آج موجود نہیں۔ اس کا نام تاریخ میں نازی دور، جنگی معیشت، جبری مشقت اور آشوٹز کے ساتھ جڑا ہوا ایک سنگین باب ہے۔ لیکن اس کے بطن سے نکلنے والی صنعتی اور سائنسی وراثت آج بھی دنیا کی بڑی کمپنیوں کے مختلف حصوں میں دکھائی دیتی ہے۔
کمپنی ختم ہو سکتی ہے، نام بدل سکتا ہے، حصص کی ملکیت بدل سکتی ہے، کارخانے تقسیم ہو سکتے ہیں اور کاروباری ڈھانچہ تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن علم، ٹیکنالوجی، سرمایہ، تحقیق اور صنعتی تجربہ کہاں جاتے ہیں؟
شاید یہی آئی جی فاربن کی تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہے۔
یہ صرف ایک جرمن کمپنی کی کہانی نہیں؛ یہ اس سوال کی کہانی ہے کہ ریاست اور کارپوریشن کے درمیان طاقت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟
اور شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جب ایک کارپوریشن ریاست کی جنگی ضرورت، سائنسی تحقیق، صنعتی پیداوار اور انسانی زندگی کے درمیان مرکزی کردار اختیار کر لے تو کیا اسے صرف ایک کاروباری ادارہ سمجھا جا سکتا ہے؟
میتھیاس راتھ نے اس سوال کا اپنا جواب دیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کے ہر نتیجے سے اتفاق کریں۔ لیکن آئی جی فاربن کی دستاویزی تاریخ ہمیں کم از کم اتنا ضرور بتاتی ہے کہ صنعت، سرمایہ، سائنس، ریاست اور جنگ کے درمیان تعلق کو محض سازشی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کیونکہ کبھی کبھی تاریخ کی سب سے خطرناک طاقت بندوق اٹھانے والے کے ہاتھ میں نہیں ہوتی؛ وہ اس ہاتھ میں بھی ہو سکتی ہے جو جنگ کے لیے ایندھن، ربڑ، کیمیکل، ٹیکنالوجی اور صنعتی وسائل فراہم کرتا ہے۔
واپس کریں