دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناوں
No image پنجاب میں غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو قومی اقتصادی سروے 2025-26 اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 2024-25 کے اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے۔ 2018-19 میں پنجاب میں غربت کی شرح 16.5 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 23.3 فیصد ہو گئی۔ یہ نسبتی اضافہ تقریباً 41 فیصد بنتا ہے، جو چاروں صوبوں میں سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب کی تقریباً 23 فیصد سے زیادہ آبادی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ غربت کی لکیر کو موجودہ مہنگائی کے حساب سے ایک بالغ فرد کے لیے ماہانہ تقریباً 8,483 سے 8,508 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے کم آمدنی والے افراد بنیادی ضروریات کھانا، رہائش، صحت اور تعلیم پوری کرنے سے قاصر ہیں۔دیہی علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہے۔ قومی سطح پر دیہی غربت 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو چکی ہے، جبکہ شہری غربت 11 فیصد سے 17.4 فیصد تک پہنچی۔ پنجاب اگرچہ اب بھی سب سے کم غربت والا صوبہ ہے، لیکن اس کی آبادی سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد بہت بڑی ہے۔
مذکورہ بالا صورت حال بتاتی ہے کہ بلعموم ملک عزیر اور بلخصوص صوبہ پنجاب مالی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے اور ملک و صوبے میں سرمایہ کاری کی ضروت ہے تا کہ غربت کم ہو سکے لیکن ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ سرمایہ کاری کا وزیر دہائی دیتا ہوا نظر آتا ہے کہ اس کے وزیر اعظم کے پاس ملنے کا وقت نہیں جبکہ وزیر اعظم کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔گویا صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کو سرے سے امور سرمایہ کاری سے متعلق کوئی دلچسپی ہی نہیں،ہاں اگر انہیں دلچسپی ہے تو اس بات سے کہ کہاں سے قرض پکڑ کر آئی ایم ایف کی قسط ادا کرنی ہے اور مذید قرضہ کب اور کہاں سے پکڑنا ہے۔ مرزا غالب نے شائد ہمارے ان حکمرانوں کے لیئے ہی کہا تھا کہ قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں،رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔
بات ستھرے اور چڑھدے پنجاب کی ہو رہی تھی جس کی معاشی اور مالی حالت کا مختصر زکر اوپر مختصر طور پر کیا ہے لیکن نہلے پر دہلا کہ اربوں روپے کا جہاز جو اس ایسے صوبے کے خزانے سے خریدا گیا ہے جہاں غربت کی شرح مذید اضافے کے ساتھ 41 فیصد تک جا پہنچی ہے،مسلسل حدف تنقید بنا ہوا ہے اور ستم یہ کہ اس قیمتی جہاز کو سرکاری مقاصد سے زیادہ زاتی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور محترمہ ترجمان پنجاب اسمبلی میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتی ہیں کہ ہاں خریدا ہے۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناوں!!
واپس کریں