دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا ہم اقوامِ عالم کی نرسری ہیں؟ ڈاکٹر حبیب الحق رندھاو
No image اس پاک سرزمین میں روحانی تاثیر یقیناََ موجود ہے کہ جسکی زرخیزی میں نمو پانے والے ننھے پودے اور پھل پوری دنیا کو اپنی خوشبوئوں اور ذائقوں سے مہکا رہے ہیں، لذت دے رہے ہیں۔ اس دھرتی پر جنم لینے والے محنت کشوں نے بیرونی ممالک مشرقِ وسطیٰ کے صحرائوں کو نخلستانوں میں تبدیل کر دیا۔ بیابانوں کو تعمیرات کے ذریعے دنیا کے عظیم شہر بنا دیا۔ اس کے ڈاکٹرز اپنی مہارت اور تجربے کی بنا پر دنیا بھر کے بیماروں کیلئے مسیحا بنے ہوئے ہیں۔ اس دھرتی میں اتنی تاثیر کیوں نہ ہو کہ اسکی آزادی کیلئے ہزاروں انسانوں نے جان کی قربانی دی اور اپنے لہو کے خراج سے اس بنجر زمین کو زرخیز بنایا، بلکہ اسکی زرخیزی کو مسلسل قربانیوں سے قائم رکھا ہوا ہے۔ یونیورسٹی کی گریجویٹ کلاس میں پروفیسر صاحب کا لیکچر پُرجوش تقریر میں ڈھل چکا تھا کہ دفعتاََ ایک اسٹوڈنٹ (متعلم) کی مداخلت نے کلاس کو چوکنا کر دیا۔ متعلم کا سوال تھا کہ ملک عزیز پاکستان کو ہم نے انسانوں کی محض نرسری کیوں بنا رکھا ہے؟ ایسی نرسری جسکے پودے یعنی نوجوان نسل بیرونِ ملک، بیرونی زمینوں میں جا کر شاندار شجر بن رہے ہیں اور بیرونی معاشروں کو عظیم انجینئرز، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور محنتی ہنرمندوں سے فیض یاب کرتے ہیں، اپنی قابلیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ بعدازاں یہ نوجوان بیرونی سماج اور سیاست کے کامیاب اور متحرک پرزہ جات بن جاتے ہیں۔ متعلم کا سوال تھا کہ نوجوان، یہ نوخیز نرسریاں اُس زمین سے نمو پاتی ہیں، تو ہم ان کیلئے فضا کو سازگار کیوں نہیں کرتے کہ وہ یہاں درخت بنیں۔ اس چمن وطن کو گل و گلزار کریں۔ ہم کیوں ان کو برآمد کرنے پر مجبور ہیں؟ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک سے جدائی کون چاہتا ہے؟ کیا ہم بطور پالیسی انکی بیرونی ہجرت اور روانگی کو ممکن بنا رہے ہیں؟ دیدۂ دانستہ اس ملک پاک اور جنت نظیر کی زیست کو ان کیلئے مشکل بنا رہے ہیں؟ عجب متضاد پالیسی ہے کہ یہ نوجوان بیرونی دنیا کو اپنی محنت سے آباد کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بغیر یہاں کی دھرتی بانجھ ہو رہی ہے، زمینیں بنجر پڑی ہیں۔ ان کی زرعی پیداوار میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ کیا ہماری منصوبہ بندی میں فرق ہے کہ ملکی انڈسٹری سکڑ رہی ہے؟ لیکن ہم ان جوانوںکی بیرونی ممالک جاکر مشینوں کا پہیہ گھمانے کے لئے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ناکافی سہولتوں کی وجہ سے بیمار سسک رہے ہیں، لیکن ہم اپنی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں دیس نکالا دیئے جا رہے ہیں۔ طلباء کا استفسار تھا، ہم بیرونی اقوام کیلئے افرادی قوت کی نرسری اور انسانی منڈی کیوں بن چکے ہیں؟ ان کو اپنی فضائوں میں تن آور درخت بنا کر ان کے پھولوں سے ان کے پھل سے کیوں فائدہ نہیں اُٹھا سکتے؟ ہم اپنی افرادی قوت کے لئے سازگار ماحول کیوں نہیں مہیا کر سکتے؟ ان کی خدمات کا مناسب صلہ دیں تو یقیناََ یہ اس ملک کو فائدہ پہنچائیں۔ ان استفسارات پر پروفیسر صاحب کا جواب تھا: اس ملک کو محض نرسری کی شکل اس لئے دی گئی ہے کہ یہاں سرمائے سے کھیلا جاتا ہے۔ محنت کی برکات مسلمہ تو ہیں، لیکن اس سے دیگر گروہوں کو چنداں منفعت حاصل نہیں ہوتی۔ اُلٹا سماجی بیداری کا خوف لگا رہتا ہے۔ فیصلہ سازوں کے بس میں ہو تو ان نرسریوں کو بھی بند کر دیں۔ انسانوں کو ڈھورڈنگر ہی رہنے دیں اور بطور غلام بیرونِ ملک بھجوا دیں۔ یہ تو اس بابرکت دھرتی کی تاثیر ہے کہ اس کی زرخیزی میں خود رو نرسریاں وجود میں آ رہی ہیں۔ اپنی مالی اور جسمانی کمزوریوں کے باوجود بوڑھے ماں باپ بچوں کو لکھا پڑھا کر روزگار کے لئے تیار کر رہے ہیں، وگرنہ ملکی ادارے ان کی پیشہ ورانہ تربیت کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ ان تعلیم یافتہ، ہنرمندوں کےملک کے اندر رہنے کا اہتمام کریں گے تو یونیورسٹیاں اور کارخانے مزید آباد ہوں گے۔ لیکن یہ منظر اقتدار پسند اشرافیہ کو قبول نہیں، کیوں کہ ہنرمندوں کا اندرون ملک اجتماع ہو گا یا تعلیمی اداروں میں باشعور لوگوں کی بیٹھک ہو گی تو نوآبادیاتی نظام جو اب بھی کسی نہ کسی صورت اس ملک میں جاری ہے، غلام بن سکتا ہے، شعوری بیداری ادارہ جاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے اور اشرافیہ کے نسل دَر نسل تسلط کے آگے دیوار بن سکتی ہے۔ اس منظر سے بچنے کے لئے منصوبہ بازوں کے لئے شعور اور محنت کش کی برآمد ہی بہتر آپشن ہے۔ معلم اور متعلم کے مابین یہ ساری گفتگو اب ممنوعہ حدوں کو چھونے لگی تو پروفیسر صاحب نے اس موضوع کو اگلی کسی نشست کے لئے مؤخر کر دیا۔ لیکن اس وعدہ کے ساتھ کہ وہ طلباء کو درپیش ان سوالوں کا جواب اگلی ملاقات میں ضرور فراہم کریں گے کہ آزادی کے دوران پاکستان کی فی کس آمدنی پڑوسی ممالک سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کے پاس زرخیز زمین اور آبی وسائل کی بہتات تھی۔ افرادی قوت موجود تھی تو اس کے باوجود ملکی فی کس آمدنی کیوں تنزل کا شکارہوئی اور پڑوسی ممالک سے تقریباً آدھی رہ گئی؟۔ ہم اوپن مارکیٹ، بیرونی سرمایہ کاری کے لئے مؤثر پالیسیاں کیوں نہ بنا سکے؟ ہم اندرونِ ملک انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے اقدامات کیوں نہ کر سکے؟ صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی آئی ٹی کے فروغ کے لئے دُوررَس پالیسیاں کیوں نہ بنا سکے؟ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے پسماندہ پڑوسی ممالک نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ سےبھی پیچھے رہ گئے ہیں۔
پالیسی سازوں، اہلکاروں اور سرکاری اداروں نے اپنی ذاتی اور ٹیکس منفعت کے لئے درآمدات کو کیوں فروغ دیا؟ برآمدات کیلئے ماحول کش پالیسیاں بنائیں۔ نتیجتاً اس ملک میں نام نہاد تجارت یعنی دُکانداری کو فروغ ملا، جبکہ صنعتی پیداوار برائے نام ہو چکی ہے۔ افرادی قوت کا زیادہ تر حصہ درآمدی اشیاء پر کثیر منافع حاصل کر رہا ہے اور عوام الناس اس طرزِعمل پر مہنگائی کے ہاتھوں پس رہے ہیں۔ نوجوان استفسار کر رہے ہیں کہ 1958ء سے لے کر اب تک ہم 20بار آئی-ایم-ایف سے قرض لے چکے ہیں، لیکن اس کے مثبت اثرات کدھر ہیں؟ آئی-ایم-ایف اور اداروں کے درمیان اس باہمی سہولت کاری کا چکر کب ختم ہو گا؟ ہم کب تک غیرملکی امداد، قرضوں اور اُدھاری سودوں پر گزارہ کرتے رہیں گے؟ اس عفریت اور غربت سے نجات کیلئے ہماری طویل المیعاد اقتصادی اور تعلیمی پالیسی کہاں ہے؟ اگر طویل منصوبہ بندی موجود ہے تو اس کے بعد یہ ترقی معکوس کیوں؟
واپس کریں