
قوم آج 14 اگست کو وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کا 79 واں جشنِ آزادی اور 80 واں یومِ آزادی اتحاد و یگانگت کے قومی اور ملیّ جذبے سے معمور ہو کر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ منارہی ہے۔ اس دن کی مناسبت سے آج عام تعطیل ہے۔ آج دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31، اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہو گا جس کے بعد مزارِ قائد اور مزارِ اقبال پر گارڈ کی تبدیلی کی رسم ادا کی جائے گی، آج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یومِ آزادی کی مناسبت سے خصوصی اشاعتوں اور خصوصی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ تعلیمی اور دوسرے سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں بھی آج یوم آزادی کو پُر جوش ا نداز میں منانے کے لئے خصوصی تقاریب کا اہتمام جا رہا ہے۔ آج ملک بھر میں سرکاری اور نجی عمارتوں کو قومی پرچموں اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے اور عوام کا جوش و ولولہ دیدنی ہے جو دشمن کے لئے اٹل اعلان ہے کہ ملک کی بقاء و سلامتی کے تحفظ کے لئے پوری قوم جری و بہادر عساکرِ پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور اس مکار دشمن بھارت کی کسی بھی جارحیت اور جارحانہ، توسیع پسندانہ عزائم کا گذشتہ سال مئی کے معرکے سے بھی بڑھ کر جواب دیا جائے گا اور اسے اقوام عالم میں پہلے سے بھی زیادہ ہزیمتیں اٹھانا پڑیں گی۔ بے شک آج ہمیں ملکی سلامتی و استحکام کے تقاضوں کے تحت مکار دشمن بھارت کی ان سازشوں کو بھی پیش نظر رکھنا ہے جن کا آغاز اس نے 5 اگست 2019ء کو اپنے ناجائز زیر تسلط کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اور اسے بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا کر کیا تھا۔ کشمیری عوام نے اس بھارتی جبری اقدام کے خلاف دنیا بھر میں ہفتہِ استحصالِ کشمیر منایا جبکہ کل 15 اگست کو کشمیری اور پاکستانی عوام بھارتی یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے جس کے دوران اقوام عالم میں بھارتی جبر و تسلط کو اجاگر کیا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی گذشتہ ہفتے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ دیرینہ مسئلہ 1949ء میں منظور کی گئی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق ہی حل ہونا ہے جن کے تحت کشمیریوں کو استصواب کا حق دیا گیا ہے۔ بے شک وطن عزیز کا جشنِ آزادی آج قائداعظم کے ویژن کے مطابق مادرِ وطن کو امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے پختہ عزم کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آج ملک بھر میں مختلف مقامات پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی جبکہ سرکاری اور نجی سطح پر سیمینارز اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں مقررین آزادی کی تحریک میں دی جانے والی قربانیاں اجاگر کرتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی و استحکام کے لیے قوم کے بے پایاں جذبہ کا تذکرہ کریں گے۔ حکومتی اکابرین اور عوام آج علامہ اقبال اور قائداعظم کے مزارات پر حاضری دیں گے، پھولوں کی چادریں چڑھائیں گے اور ملک کی ترقی و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں گے۔
یہ حقیقت تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوچکی ہے کہ متعصب ہندو اکثریت نے مسلم دشمنی کے باعث برصغیر کے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر کے اور انہیں اپنے سے کمتر انسان کا درجہ دے کر دو قومی نظریے کی خود بنیاد رکھی تھی جو تحریک پاکستان کی بھی بنیاد بنی اور بالآخر قیام پاکستان پر منتج ہوئی جس میں قائداعظم کی بے بدل قیادت میں ایک ایسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس آزاد و خود مختار پاکستان کا تصور متعین ہوا، جس میں مسلمانوں کو نہ صرف مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی بلکہ انہیں اقتصادی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے والی ہندو بنیاء ذہنیت اور انگریز کے ٹوڈی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے استحصال سے بھی نجات ملے گی اور اس خطے کے مغلوب مسلمانوں کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں قائم ہونے والی اس مملکت خداداد میں خلقِ خدا کے راج کا تصور بھی عملی قالب میں ڈھل جائے گا۔ قیامِ پاکستان کے مقاصد، اس کے نظریے اور نظام کے حوالے سے قائداعظم کے ذہن میں کوئی ابہام نہیں تھا چنانچہ وہ قیام پاکستان کی جدوجہد کے دوران ہر مرحلے پر مسلمانانِ برصغیر اور دنیا کو قیام پاکستان کے مقاصد سے آگاہ کرتے رہے۔ آج جو دانشور حلقے نظریہ پاکستان اور قیام پاکستان کے مقاصد کے حوالے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حقائق کو مسخ کر کے پیش کررہے ہیں انھیں اسلامیہ کالج پشاور میں قائداعظم کی 13 جنوری 1948ء کی تقریر کے یہ الفاظ ذہن نشین کر لینے چاہئیں کہ ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘
بدقسمتی سے قائد کی رحلت کے بعد ’’کھوٹے سکوں‘‘ نے اپنے مفادات کی بجا آوری میں پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے اپنے مفادات اور مراعات کی آماجگاہ بنا دیا۔ سیاست دانوں کے آپس کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرنیلی آمروں کو ماورائے آئین اقدامات کے تحت جمہوریت کی بساط الٹانے اور اقتدار میں آنے کا موقع ملتا رہا۔ اس طرح وطن عزیز کے 34 سال جرنیلی آمریتوں کی نذر ہوگئے۔سیاست دان قائداعظم کے صحیح جانشین ہوتے تو ملک میں جمہوریت مضبوط ہوتی، آمریت کے سائے وطن عزیز پر نہ پڑتے اور قومی وسائل کو بروئے کار لا کر قوم ترقی و خوشحالی کی منازل سے ہمکنار ہوچکی ہوتی۔
یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کو اس کے دشمن کی ملک کی سلامتی کمزور کرنے کی گھناؤنی سازشوں کے تحت طویل عرصہ سے دہشت گردی کے ناسور کا بھی سامنا ہےجسے پاک فوج اور دوسرے سکیورٹی اداروں نے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور وہ مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کر رہی ہیں۔ یہ دہشت گرد اپنے آقاؤں کے احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اس وقت بھی سرگرم ہیں جن کے قلع قمع کے لئے ملک بھر بالخصوص خیبر پی کے اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے مختلف اپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ روز بھی بلوچستان کے علاقے سوراب میں فورسز نے بارودی گاڑی بنانے والے 18 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا ہے ۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ بھارت پاکستان میں موجود اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں جن کے پاکستان میں بھی سلیپنگ سیلز ہیں۔دہشت گردی پاکستان کے اندر سے ہوتی ہے یا پاکستان کے باہر سے، دہشت گردوں کی پشت پناہی بھارت کی طرف سے ہی کی جاتی ہے چنانچہ بھارت کی سازشوں کو ٹھوس حکمت عملی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ناکام بنانا ہی وقت کا تقاضہ ہے۔بھارت کی طرف سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے بلوچ علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے۔اس حوالے سے پاکستان کی حالیہ سفارت کاری فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بار آور ثابت ہوئی ہے اور ان کی کاوشوں سے ہی امریکہ کی طرف سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باقاعدہ دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا۔ آج امریکہ پاکستان کی بات سن اور سمجھ رہا ہے اور بھارت کی بے اصولیوں اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے میں عدم تعاون کے باعث امریکہ مودی سرکار سے دوری اختیار کر رہا ہے۔ بھارت کے حوالے سے یہ پاکستان کے موقف کی بڑی کامیابی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام سے بھارت کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں پھیلانے کا نادر موقع ملتا ہے جو پہلے ہی کشمیر کو ہڑپ کر کے پاکستان پر اپنی نظر بد گاڑے بیٹھا ہے۔ کشمیری عوام دنیا سے کٹ چکے ہیں مگر اس سے فرق نہیں پڑتا، آزاد عالمی میڈیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی رپورٹیں مسلسل نشر کررہا ہے۔ اس کا عالمی برادری کے ضمیر پر کتنا اثر ہوتا ہے، یہ سوالیہ نشان ہے تاہم پاکستان نے کشمیری عوام کا دامے درمے قدمے سخنے ساتھ نبھاتے ہوئے ان پر جاری بھارتی مظالم کو اقوام عالم میں اجاگر کرنے اور سلامتی کونسل سمیت ہر عالمی اور علاقائی فورم پر کشمیریوں کے استصواب کے حق کے لیے آواز اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارتی شرارتوں سے نمٹنے کے لیے ہمیں اس وقت قائداعظم کے وژن پر عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہو سکتا لہٰذا کشمیر میں استصواب کے لیے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری کشمیر پالیسی میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ کشمیریوں کی جدوجہد درحقیقت تکمیل و استحکام پاکستان کی جدوجہد ہے جو ہمارے کسی فیصلے یا اقدام کے نتیجہ میں ضائع نہیں ہونی چاہیے۔
آج کے یوم آزادی کی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت ہے کہ ہمیں آج متعدد اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ گذشتہ چھ ماہ سے جاری امریکہ ایران کشیدگی اور جنگی ماحول نے پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کا انجر پنجر ہلا دیا ہے اور یہ کشیدگی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ پاکستان شروع دن سے امریکہ ایران کشیدگی کے خاتمہ، دنیا کو خوف سے نکالنے اور علاقائی و عالمی امن کے قیام کے لئے سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے اور پاکستان کے اس بے مثال کردار کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہے چنانچہ پاکستان کو حاصل ہونے والی اس پذیرائی کو دانشمندی سے بروئے کار لا کر ہم ایک ایسے خوشحال، خود مختار اور فلاحی پاکستان کی بنیاد مستحکم بنا سکتے ہیں جس کا خواب بانیان پاکستان قائد و اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ خطہ ارضی کے حصول کی صورت می دیکھا تھا۔ آج قائد کے پاکستان میں دانستہ طور پر اور ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت سسٹم کے بارے میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے سسٹم کو 80 سال سے ہی ناکارہ قرار دے کر بحث مباحثے کے نئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اس میں تو یقینناً دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ متحدہ ہندوستان میں انگریز اور ہندو کی ملی بھگت سے مسلمان اقلیتوں کا آبرو مندی کے ساتھ زندہ رہنا بھی دوبھر کر دیا گیا تھا جنہیں نہ مذہبی آزادیاں حاصل تھیں اور نہ ہی ان کی اقتصادی خوشحالی کا کوئی امکان تھا جبکہ مسلمان اقلیتوں کو ہندو انتہاء پسندی کی بھینٹ چڑھانا روز مرہ کا معمول بن چکا تھا۔ مسلمانوں کی اس حالتِ زار کی بنیاد پر ہی دو قومی نظریئے اور اس کے تحت مسلمانوں کے الگ خطہ ارضی کی سوچ پیدا ہوئی جسے شاعرِ ملت علامہ اقبال نے اپنے خطبہِ الہٰ آباد میں تصورِ پاکستان کی صورت میں پروان چڑھایا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر تحریک پاکستان کا آغاز کر کے اس تصور کو عملی قالب میں ڈھالا۔ اس تناظر میں نظریہ پاکستان اور پاکستان کے سسٹم کے حوالے سے کوئی ابہام یا تضاد نہیں ہے کہ قائداعظم اس ارضِ وطن کو جدید اسلامی، فلاحی جمہوری ریاست کے قالب میں ڈھالنا چاہتے تھے اور یہی نظریہ پاکستان اور پاکستان کا نظام ہے جس میں کسی قسم کے شکوک و شبہات کو راستہ دینے کی مملکتِ خدادادِ پاکستان کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس سسٹم کے استحکام کے لیئے بانیِ پاکستان قائداعظم کےخواب اب تک شرمندہِ تعبیر نہیں ہوسکے تو یہ سسٹم کو چلانے والوں کا قصور ہے اس لئے سسٹم کی اصلاح کی نہیں، اپنی من مرضی کا سسٹم لانے کی سوچ رکھنے والوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
آج وطن عزیز کے یومِ آزادی کے موقع جشن آزادی مناتے ہوئے ہمیں دشمن کی سازشوں پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ملک کی بقاء و سلامتی کے خلاف ملک کے اندر پنپنے والی سازشوں کے توڑ کا بھی مناسب بندوبست کرنا ہے جس کے لئے ملک میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے جو قومی قائدین کی باہمی چپقلش میں غارت ہوتا نظر آرہا ہے۔ بے شک ملک و قوم کو درپیش چیلنجز سے وسیع تر قومی اتحاد کے ذریعے ہی عہدہ براء ہوا جا سکتا ہے۔ ملک کی نظریاتی سرحدوں کے پاسبان کی حیثیت سے ادارہ نوائے وقت اپنے بانی حمید نظامی اور معمارِ نوائے وقت مجید نظامی کے اصولی موقف پر ہی کاربند ہے اور ان کے جدید اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست کے مشن کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہے۔ اس تناظر میں ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری ہمارا مطمح نظر ہے جو درحقیقت بانیانِ پاکستان اقبال و قائد کا وطن عزیز کے لیے روشن تصور تھا۔ خدا استحکام پاکستان کے مشن میں ہمیں استقامت عطا فرمائے تاکہ کسی کو بھی ہماری جانب مَیلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ ہو۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
واپس کریں