
پاکستان کو دنوں میں نہیں تو چند برسوں میں ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا جا سکتا ہے- اگر ملک میں سیاسی کشیدگی ختم کرکے آئین کے مطابق سب کو یکساں انصاف کی فراہمی یقینی بنایا جائے توترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کا خواب کوئی ناممکن خواب نہیں۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں چند دہائیاں پہلے تک غربت، بدامنی، بے روزگاری، جرائم اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار معاشرے آج دنیا کے ترقی یافتہ اور پُرامن ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت، ریاستی ادارے، تاجر برادری، صنعت کار، ماہرین اور عوام ایک واضح سمت پر متفق ہو جائیں تو پاکستان بھی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔مجھے 1993ء میں سنگاپور جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پہنچ کر جو ترقی، صفائی، نظم و ضبط، امن و امان اور شہری سہولیات دیکھنے کو ملیں، وہ میرے لیے انتہائی حیران کن تھیں۔
اس سے بھی زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب سنگاپور کے ماضی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور مقامی لوگوں سے وہاں کے حالات کی داستانیں سنیں جس شہر کے بارے میں بتایا گیا کہ ایک وقت میں شام کے بعد باہر نکلنا خطرے سے خالی نہیں تھا، جہاں جرائم پیشہ عناصر لوگوں کو چاقو دکھا کر ان کا مال و اسباب چھین لیتے تھے، وہی جگہ چند دہائیوں بعد ایسی محفوظ، صاف ستھری اور خوبصورت ریاست بن چکی تھی کہ انسان دن ہو یا رات، بلا خوف و خطر سڑکوں پر گھوم سکتا ہے، اپنے کاروبار اور زندگی سے لطف اندوز ہو سکتا ہےیہ منظر میرے لئے محض ایک سیاحتی تجربہ نہیں تھا بلکہ ایک سبق تھا۔ اس تجربے نے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر سنگاپور جیسے محدود رقبے اور محدود وسائل رکھنے والے ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے تو پاکستان، جسکے پاس وسیع رقبہ، زرخیز زمین، معدنی وسائل، سمندر، دریا، پہاڑ، نوجوان افرادی قوت اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی باصلاحیت قوم موجود ہے، وہ ترقی کیوں نہیں کر سکتا؟اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کے درست استعمال، بہتر منصوبہ بندی، اچھی حکمرانی اور مستقل پالیسیوں کا فقدان ہےپاکستان کے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمینوں میں شمار ہونے والی زمین موجود ہے۔ اگر جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج، پانی کے بہتر انتظام، تحقیق اور جدید مارکیٹنگ کو فروغ دیا جائے تو ہم نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ زرعی اجناس، پھل، سبزیاں، گوشت اور دیگر مصنوعات دنیا بھر میں برآمد کر کے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں اسی طرح پاکستان میں صنعت کے فروغ کے بے پناہ امکانات ہیں۔
اگر صنعت کاروں کو آسانیاں دی جائیں، بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ٹیکس نظام کو سادہ اور شفاف بنایا جائے اور سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جائے تو ملک میں نئی صنعتیں قائم ہو سکتی ہیں۔ نئی صنعتوں کا مطلب صرف پیداوار میں اضافہ نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کیلئےروزگار کے مواقع بھی پیدا ہونا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان تعلیم، آئی ٹی، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اگر انہیں جدید تعلیم، تربیت اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں تو پاکستان اپنے گھروں میں بیٹھے نوجوانوں کے ذریعے اربوں ڈالر کی برآمدات حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن ترقی صرف بلند عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کا نام نہیں۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عام شہری خود کو محفوظ محسوس کرے، اسے انصاف بروقت ملے، بچے معیاری تعلیم حاصل کریں، بیمار کو بہتر علاج دستیاب ہو، نوجوان کو روزگار ملے اور کاروباری شخص کو یقین ہو کہ اس کی محنت کا پھل اسے ضرور ملے گا سنگاپور کی ترقی سے ہمیں سب سے بڑا سبق یہی ملتا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور نظم و ضبط کے بغیر کوئی معاشرہ مستقل ترقی نہیں کر سکتا۔ وہاں شہریوں کو معلوم ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ اگر پاکستان میں بھی قانون کی بالادستی یقینی بنا دی جائے اور طاقتور و کمزور کے لیے قانون کا معیار ایک ہو جائے تو معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ پاکستان کے مسائل بڑےضرورہیں، مگر پاکستانی قوم کی صلاحیتیں ان مسائل سے کہیں زیادہ بڑی ہیں اگر ہم بدعنوانی کے خاتمے، قانون کی بالادستی، تعلیم کے فروغ، میرٹ کے نفاذ، صنعتی ترقی، زرعی اصلاحات، برآمدات میں اضافے، ٹیکس نظام کی بہتری اور سیاسی استحکام کو قومی ترجیحات بنا لیں تو پاکستان کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ پاکستان چند دنوں میں ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت ضرور ہے کہ درست سمت، مضبوط ارادے اور مسلسل محنت کے ساتھ پاکستان چند برسوں میں اپنی معیشت، امن و امان اور معیارِ زندگی میں غیر معمولی بہتری لا سکتا ہے۔
سنگاپور کا سفر میرے لئے اسی حقیقت کا عملی مشاہدہ تھا کہ قومیں ہمیشہ وسائل سے نہیں، بلکہ وژن، نظم و ضبط، دیانت دار حکمرانی اور مسلسل محنت سے ترقی کرتی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کریں۔ حکومت اپنا کردار ادا کرے، ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، کاروباری طبقہ ملکی معیشت میں سرمایہ کاری کرے، نوجوان علم اور ہنر حاصل کریں اور عوام قانون و نظم و ضبط کی پابندی کریں اگر یہ سب طبقات ایک قومی مقصد کے تحت متحد ہو جائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوگا جہاں لوگ امن، عزت، خوشحالی اور ترقی کے ساتھ زندگی گزارنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان کے پاس سب کچھ ہے،ضرورت صرف اس صلاحیت کو درست سمت استعمال کرنے کی ہے۔
واپس کریں