دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیاپی ٹی آئی نے آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں بائیکاٹ کر کے سیاسی غلطی کی ہے؟
No image احتشام الحق شامی : پی ٹی آئی کے الیکشن بائیکاٹ فیصلے کے پیچھے عملی کمزوریاں موجود تھیں۔ جیسے پارٹی کو انتخابی نشان اور رجسٹریشن کے قانونی مسائل کا سامنا ،یوں پارٹی کے اندر موجود ایک طبقہ کے مطابق مقابلے کی مضبوط پوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا۔ جانتے کی کوشش کرتے ہیں کہ پارٹی کی جانب سے الیکشن بائیکاٹ ناچیز کے مطابق کیوں ایک بڑی سیاسی غلطی تھا؟سب سے اہم تو یہی ہے کہ سیاسی میدان خالی چھوڑ دینے سے نورا کشتی لڑنے والے سیاسی مخالفین یعنی پی پی پی اور ن لیگ کو فائدہ پہنچا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے اکثر نشستیں حاصل کر کے حکومت سازی کی طرف بڑھ رہی ہے (تقریباً 24 نشستیں ابتدائی مرحلوں میں)، جبکہ پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت بنی گویا سیاسی میدان میں پی ٹی آئی کی عدم موجودگی نے ن لیگ کے لیے راستہ ہموار کر دیا ۔ مطلب صاف ہے کہ اگر پی ٹی آئی میدان میں موجودہوتی تو ووٹوں کی تقسیم یا بندر بانٹ مختلف ظاہر ہو سکتی تھی اور اپوزیشن کے طور پر پی ٹی آئی مضبوط آواز بن سکتی تھی۔اس کے علاوہ بائیکاٹ سے عوامی نمائندگی کا موقع ضائع ہوا۔ انتخابات میں باوجود احتجاج اور بائیکاٹ کالز کے، کئی علاقوں میں 50 فیصد کے قریب ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ ہوا۔ سیاسی جماعتوں کا کام صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ نظام کے اندر رہ کر عوام کے مسائل اٹھانا بھی ہے۔ بائیکاٹ سے اب پی ٹی آئی کے کارکنان اور حامی اسمبلی سے باہر ہو گئے، جبکہ مخالفین اندر بیٹھ کر فیصلے کر یں گے ۔
الیکشن بائیکاٹ کے مذکورہ فیصلے سے پارٹی کی طویل مدتی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے بھی کئی مواقع پر بائیکاٹ یا احتجاج کا راستہ اختیار کیا، لیکن اقتدار اور سیاسی اثر و رسوخ کے لیے الیکشن میں حصہ لینا ضروری نہیں بلکہ ناگزیر ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے یا مضبوط اپوزیشن بننے کا موقع گنوا کر پی ٹی آئی نے خود کو سیاسی طور پر کمزور کر لیا ہے۔ جیک کے ساتھ یکجہتی کسی حد تک درست پالیسی تھی، لیکن اس کا مطلب الیکشن سے مکمل باہر نکلنا نہیں ہونا چاہیے تھا۔سیاسی یا الیکشن بائیکاٹ اکثر اس وقت کارگر ہوتا ہے جب پورا نظام مسترد ہو یا عوام بڑی تعداد میں اس کی حمایت کریں۔ آذاد کشمیر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ الیکشن مکمل طور پر غیر متعلق ہو جائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پی پی پی اور ن لیگ سسٹم پر غالب آئی اور پی ٹی آئی کی جگہ خالی رہی۔عوامی مسائل حل کرنے کے لیے نظام کے اندر رہ کر جدوجہد کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو مستحکم حکومت، معاشی مسائل کے حل اور سیاسی حقوق کی ضرورت ہے۔ بائیکاٹ سے ان مسائل کا حل نہیں نکلتا، بلکہ خلا پیدا ہوتا ہے جس سے دیگر سیاسی قوتیں فاءدہ اٹھاتی ہیں ۔
پی ٹی آئی کا آزاد کشمیر الیکشن بائیکاٹ ایک اصولی موقف لگ سکتا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ غلطی تھی۔ اس سے پارٹی کا اثر کم ہوا، مخالفین مضبوط ہوئے اور عوامی نمائندگی کا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ مستقبل میں ایسے فیصلے کرتے وقت زمینی حقائق اور طویل مدتی سیاسی فوائد کا زیادہ محتاط جائزہ لینا ضروری ہے۔
واپس کریں