
آج چودہ اگست ہے اور ہر سال کی طرح پوری قوم جوش و ولولے کے ساتھ یوم آزادی منا رہی ہے۔ گلی گلی‘ نگر نگر سبز ہلالی پرچم لہرائے جائیں گے اور قریہ قریہ ملی نغموں اور قومی ترانوں کی گونج میں بچے‘ بوڑھے اور مرد و زن جھنڈیاں اٹھا کر جھومتے گاتے نظر آئیں گے: دل دل پاکستان‘ جان جان پاکستان۔ بلاشبہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ ورثہ ہے۔ ہماری پہچان‘ ہماری شان اور ہماری آن بان ہے۔ آزادی کی نعمت ملے آج 79 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ایک نسل نے نہیں بلکہ چار نسلوں نے قومی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ لیکن آج ایک سوال بہت کھٹک رہا ہے: کیا یہ وہی اسلامی جمہوری فلاحی ریاست ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا اور جس کے قیام کیلئے ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں تھیں۔ ان 79 سالوں میں ہم نے کیا کھویا‘ کیا پایا؟ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ بلاشبہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 1947ء میں ہمیں ایک ٹوٹا پھوٹا تباہ حال خطہ ملا تھا اور برصغیر کی تقسیم کے وقت اثاثہ جات اور وسائل کی بندر بانٹ میں پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کے جائز وسائل سے یہ سوچ کر محروم رکھا گیا کہ یہ ملک اپنی بقا وسلامتی برقرار نہیں رکھ پائے گا اور چند ہی برس بعد دوبارہ متحدہ ہندوستان میں شمولیت پر مجبور ہو جائے گا۔ اس طرح ہم نے خالی خزانے اور دو ٹیکسٹائل ملوں سے اپنا سفر شروع کیا اور دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔ جہاں ہم نے بہت کچھ کھویا وہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ آئیے تصویر کے دونوں رخ دیکھتے ہیں۔
ہمارا جغرافیہ ہماری طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سب سے نمایاں ترقی کی۔ آج ناقابلِ تسخیر مسلح افواج ہماری ملکی سلامتی اور فولادی دفاع کی ضامن ہیں۔ 1998ء میں پاکستان دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا‘ جس کی بدولت وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدیں ناقابلِ تسخیر بن گئیں۔ دفاع کے شعبے میں ہمارا میزائل پروگرام ایک قیمتی اثاثہ ہے‘ جس میں شاہین‘ غوری‘ بابر اور فتح جیسے جدید ترین میزائل شامل ہیں جو 2750 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں دفاعی صنعت میں اب ہم JF-17 تھنڈر جہاز‘ الخالد ٹینک‘ بحری بیڑا اور سٹیلتھ آبدوز بنا رہے اور مختلف انواع و اقسام کا جدید اسلحہ برآمد بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں خلائی پروگرام میں سپارکو کے تحت سٹیلائٹ اور 2024ء میں چین کی مدد سے چاند پر آئی کیوب قمر مشن روانہ کر چکے۔ انفراسٹرکچر کے شعبے میں موٹر ویز کا جال ہزارہ‘ پشاور‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ ملتان اور سکھر تک پھیل چکا ہے جس کی بدولت سفر کے اوقات آدھے رہ گئے ہیں۔ تربیلا اور منگلا کی توسیع کے بعد اب دیامیر بھاشا اور داسو ڈیم زیرِ تعمیر ہیں۔ چین کی مدد سے 2015ء سے اب تک سی پیک منصوبے پر 25ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی جا چکی اور گوادر پورٹ فعال ہو چکی ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں مالی سال 2026ء میں آئی ٹی برآمدات 4.6ارب ڈالر تک جا پہنچیں اور فری لانسنگ میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ ملکی تعمیر وترقی میں خواتین کا کردار اجاگر ہو چکا۔ آج ہر شعبے میں خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ کھیل کے میدان میں بھی ہم نے کئی کامیابیاں اپنے نام کی ہیں‘ 1992ء میں کرکٹ ورلڈکپ‘ 2009 ء میں T20 ورلڈکپ جیتا۔ ہاکی میں چار بار ورلڈکپ ہمارے حصے میں آیا۔ 1980ء کی دہائی میں جہانگیر خان اور جان شیر خان نے ورلڈ سکواش چیمپئن بن کر کئی ریکارڈز اپنے نام کیے اور وطن عزیز کا وقار پوری دنیا میں بلند کیا۔ 2024ء میں ارشد ندیم نے اولمپک جیولن تھرو میں عالمی ریکارڈ قائم کر کے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ انسانی ہمدردی اور خدماتِ عامہ میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ 2005ء کا خوفناک زلزلہ ہو یا 2010ء‘ 2022ء اور 2025ء کے تباہ کن سیلاب‘ ہر آفت میں پاکستانی قوم نے دنیا کو بتایا کہ وہ مصیبت میں گھرے پاکستانی بہن بھائیوں کو ہرگز اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی مدد کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کریں گے۔ خدمت خلق کے شعبہ میں ایدھی‘ سیلانی اور اخوت جیسے ادارے دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں اپنی جگہ مگر ان سالوں میں ہم نے جو کھویا وہ بھی کم تکلیف دہ نہیں۔
بدقسمتی سے امورِ ریاست کو چلانے کیلئے ہم 79 سال سے مختلف تجربات کرتے آ رہے ہیں۔ پہلا آئین منظور کرنے میں ہی ہم نے نو سال گنوا دیے اور 1956ء کا آئین صرف دو سال تک ہی نافذ العمل رہ سکا۔ 1958ء میں مارشل لاء لگ گیا اور 1962ء میں صدارتی نظام پر مشتمل نیا دستوری ڈھانچہ کھڑا کیا گیا۔ پہلا متفقہ وفاقی پارلیمانی آئین 1973ء میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا اور عام انتخابات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل حکومت نے ملکی باگ ڈور سنبھالی۔ 1977ء میں پھر مارشل لاء نافذ ہو گیا جو ایک عشرے سے زائد عرصہ تک قائم رہا۔ اسی دوران 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اور پھر 1988ء‘ 1990ء‘ 1993ء‘ اور 1997ء میں چار انتخابات کے نتیجے میں سیاسی حکومتیں وجود میں آئیں مگر یہ چاروں اپنی مقررہ مدت سے قبل ہی ختم کر دی گئیں۔ 1999ء میں ایک مرتبہ پھر مارشل لاء نافذ ہو گیا جو 2008ء کے عام انتخابات پر منتج ہوا۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ان 79 سالوں میں کوئی بھی منتخب وزیراعظم آج تک اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پایا۔ نتیجتاً ملک مسلسل غیر یقینی‘ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران سے دو چار رہا‘ جس سے بدامنی‘ بیروزگاری‘ مہنگائی اور غربت کے شکار عوام کی زندگی ہمہ وقت اجیرن بنی رہی۔ سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف تجربات کے نتائج اچھے نہیں نکلے اور عوام کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اخلاقی اقدار کا بحران سنگین ہوتا گیا جس کے باعث رشوت ستانی‘ گراں فروشی‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی اور آسان دولت کے حصول کی روش عام ہو گئی۔ تقریباً ہر شعبہ زندگی میں جھوٹ‘ مکر و فریب‘ چاپلوسی اور خوشامد کی فراوانی ہے جبکہ سچ بولنے والا سادھو بلکہ بدھو کہلاتا ہے۔ قومی ہم آہنگی کا فقدان ہے اور لسانیت اور فرقہ واریت نے پوری قوم کو اکائیوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ سب سے تکلیف دہ امر یہ ہے کہ ہم نے چار نسلوں کے خواب کھوئے ہیں جو وطن عزیز کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی بڑا خواب قیام پاکستان کا اولین مقصد تھا‘ جسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی ولولہ انگیز قیادت سے متشکل کیا تھا۔
چند روز قبل پاکستان نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جو ایک اور بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے گزشتہ سال بھارت کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر اسے جنگی میدان میں شکست فاش دی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران اور امریکہ کے مابین مفاہمت اور خطے میں پائیدار امن کیلئے مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا۔ لہٰذا اب وقت آن پہنچا ہے کہ ملک میں گورننس‘ نظام قانون وانصاف‘ تعلیم‘ صحت اور معیشت کے شعبوں پر پوری یکسوئی سے کام کیا جائے تاکہ دفاعی اور سفارتی میدان میں سمیٹی گئی کامیابیوں کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے جا سکیں اور ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے۔ امید واثق ہے کہ اگر آج ہم نے اخلاصِ نیت سے یہ عہد کر لیا تو ان شاء اللہ اگلا یومِ آزادی ہم ایک خوشحال اور خوددار قوم کے طور پر منائیں گے۔ پاکستان زندہ باد!
واپس کریں