ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
میں اس شہر کے ایک پرسکون کونے میں بیٹھا تھا، جہاں مارگلہ کی پہاڑیاں فیصل مسجد کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھیں، اور سورج کی کرنیں درختوں کی شاخوں سے چھن کر زمین پر جادو بکھیر رہی تھیں۔ اتنے میں میرے ایک آشنا آ پہنچے، جن کی آنکھوں میں اس شہر کی تمام بے چینی اور پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ وہ آئے اور میرے پاس جا بیٹھے، اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ہلکی سی آہ بھر کر بولے کہ یہ شہر آہستہ آہستہ اپنا چہرہ کھو رہا ہے، جہاں کبھی ہریالی تھی وہاں آج کنکریٹ اُگ رہی ہے، اور جہاں کبھی پرندے گاتے تھے وہاں آج مشینوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ شاید یہ ترقی کی ایک شکل ہے، جو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے نرمی سے جواب دیا کہ ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے شہر کی روح کو کنکریٹ کے ڈھیروں میں دفن کر دیں، اور فیصل ایونیو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ راستہ مسجدِ فیصل تک جاتا ہے، وہ مسجد جو اس شہر کی پہچان ہے، اور اب وہاں ایک اور انڈرپاس بن رہا ہے۔
میں نے کہا کہ شاید یہ ٹریفک کے مسائل کا حل ہے، شاید شہریوں کو اس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نرم لہجے میں پوچھا کہ کیا تم نے کبھی کسی شہری سے سنا کہ وہ یہ چاہتا ہے؟ یہ فیصلے دفتروں میں بیٹھے لوگ کرتے ہیں، اور شہری محض تماشائی ہیں۔ اور پھر انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ بارش کی پہلی بوندا باندی ان پلوں کے اصل چہرے سے پردہ اٹھا دیتی ہے، نئی سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں اور خوبصورت مجسمے مون سون کی پہلی ہی لہر میں ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ شاید یہ رفتار کا معاملہ ہے، محسن نقوی اور شہباز شریف کی رفتار تو ہماری قومی پہچان ہے۔ وہ آہستہ سے مسکرائے اور کہا کہ کیا تم نے کبھی ایف نائن پارک کے بارے میں سوچا ہے؟ وہ پارک جو اس شہر کا دل ہے، اس کے دو اطراف پہلے ہی پل بنا دیے گئے ہیں اور ایک حصہ عدالتی حکم کے باوجود ایک کاروبار کو دے دیا گیا۔ ذرا سوچو اگر نیویارک میں سینٹرل پارک کے ساتھ کوئی پل بنا دیا جائے تو وہاں کیا ہوگا، مگر ہمارے یہاں تو یہ معمول ہے۔
میں خاموش رہا، کیونکہ ان کی باتوں میں ایک گہرا سچ تھا۔ پھر میں نے کہا کہ کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے بہت خوب کہا تھا کہ سی ڈی اے کے پاس وہ اختیارات ہیں جو منتخب نمائندوں کو ہونے چاہئیں، یہ نظام ایک ڈھانچہ ہے جس میں جان نہیں، جوابدہی نہیں، اور جہاں جوابدہی نہیں وہاں فیصلے شہریوں کے حق میں نہیں ہو سکتے۔ میں نے کہا کہ کیا مقامی حکومتیں اس کا حل ہو سکتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ مقامی حکومتیں کوئی خواب نہیں ہیں، جب عوام اپنے نمائندے منتخب کریں گے اور وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہوں گے تبھی فیصلے شہریوں کے مفاد میں ہوں گے، ورنہ یہ وہی پرانی کہانی رہے گی۔
میں نے کہا کہ یہ تو طویل عمل ہے، اس دوران شہر اپنی پہچان کھو چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کہانی صرف اس شہر کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ہے۔ جب آزاد کشمیر میں انتخابات ہوئے اور مقامی حکومتوں پر بحث چھڑی تو ایک موقع تھا کہ ہم اپنے نظام کا جائزہ لیتے، لیکن ہم نے وہ موقع گنوا دیا کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ سڑکیں اور پل ہی ترقی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر ترقی کیا ہے؟ انہوں نے کچھ دیر سوچ کر کہا کہ ترقی وہ نہیں جو ہم دیکھیں، بلکہ وہ ہے جو ہم محسوس کریں۔ جب ہم پہاڑیوں کو پلوں کے پیچھے غائب ہوتے دیکھیں، تو کیا ہم واقعی محسوس کرتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں؟ میں خاموش تھا۔
انہوں نے کہا کہ انجام یہ ہوگا کہ ایک دن مارگلہ کی پہاڑیاں غائب ہو جائیں گی اور فیصل ایونیو پر مزید پل بن چکے ہوں گے، اور ہم پوچھیں گے کہ ہمارا شہر کہاں گیا؟ اور کوئی جواب نہ ہوگا۔ میں نے کہا کہ کیا ہم اس خاموشی کو توڑ سکتے ہیں؟ انہوں نے نرمی سے کہا کہ خاموشی کو توڑنا ہماری مرضی ہے، لیکن جب تک شہری اپنی آواز نہیں اٹھائیں گے اور مقامی حکومتوں کو اختیار نہیں ملے گا، یہ دیواریں ہمارے خوابوں کو نگلتی رہیں گی۔ یہ وہی پرانی کہانی ہے کہ قومیں اپنے شہروں کی تعمیر سے نہیں، بلکہ ان کی روح سے زندہ ہوتی ہیں، اور جب وہ روح ختم ہو جاتی ہے تو شہر صرف ایک جنازہ رہ جاتا ہے۔ اور پھر وہ کچھ دیر خاموش رہے۔
میں نے پوچھا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ شہر پھر سے زندہ ہو سکتا ہے؟ انہوں نے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ زندہ ہونے کا مطلب مزید پل بنانا نہیں، بلکہ پہاڑیوں کو واپس لانا، سرسبزی کو بحال کرنا اور شہریوں کو ان کا حق دینا ہے، اور یہ ممکن ہے اگر ہم اپنی سوچ بدل لیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ شہر سڑکوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک جاندار ہے، اور جب ہم اس کی روح مار دیتے ہیں تو ہم خود کو مار دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی باتوں سے نہ ڈرو، کیونکہ قومیں انہی سے زندہ رہتی ہیں۔
پھر وہ اٹھ کر چلے گئے، اور میں اکیلا رہ گیا اس شہر کے درمیان جہاں پہاڑیاں پلوں کے پیچھے غائب ہو رہی تھیں اور خاموشی کنکریٹ کی دیواروں کے درمیان دب کر رہ گئی تھی۔ اور میں سوچتا رہا کہ کیا واقعی یہ ترقی ہے یا ایک عظیم شہر کا خاموش جنازہ جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے دے رہے ہیں۔ شاید جواب ہم میں ہی ہے، شاید ہم خود وہ دیوار ہیں جو اپنے شہر کی روح کو قید کر رہی ہے، اور جب تک ہم اسے نہیں پہچانیں گے، یہ شہر اپنی پہچان کھوتا رہے گا، اور ہم اس کے جنازے کو ترقی کا نام دیتے رہیں گے۔
واپس کریں