دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کاکروچ سے ڈرتے ہو۔ آصف عفان
No image 80ویں یومِ آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ ماہ و سال ہوں یا طلوع و غروب ہوتے چاند سورج‘ روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک‘ گھڑی کی ٹک ٹک سے لے کر گھنٹوں اور شب وروز تک‘ آتے جاتے موسموں کی بدلتی رُتوں سے لے کر بد سے بدترین ہوتے حالات تک‘ سبھی گواہی اور دہائی دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ پون صدی سے زائد عرصہ بیت چکا‘ شوقِ حکمرانی کے ماروں نے جہاں مارا ماری کو مشن بنا رکھا وہاں اپنی رعایا کی بدحالی میں ہی اپنی خوشحالی تلاش کر کے اس بدعت کو ہر دور میں کئی اضافوں کے ساتھ دوام بخشا ہے۔ قائد کی روح کے لیے تو یہ صدمہ بھی باعثِ ملال ہو گا کہ مملکتِ خداداد کے جس منصب پر وہ خود براجمان رہے ہیں ٹھیک تین سال بعد اُسی منصب پر ایک ایسا شخص لا بٹھایا گیا جو خود کو سنبھالنے سے بھی قاصر تھا۔ مملکتِ خداداد کیسے کیسوں کے ہتھے چڑھتی چلی آئی ہے جنہوں نے ابتدائی چوبیس برسوں میں آدھا ملک گنوا دیا۔ حکمران کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جو مردوں میں جان ڈال دے‘ حکمرانی کا اعجاز تو یہ ہے کہ کوئی ناحق اور بے موت نہ مارا جائے۔ مملکتِ خداداد میں جہاں مرنے کی آزادی کے ڈھیروں مواقع اور جواز روز فراہم کیے جا رہے ہیں وہاں جینا محال کرنے کا کریڈٹ بھی طرزِ حکمرانی ہی کو جاتا ہے۔ گویا:
کون پُرسانِ حال ہے میرا
زندہ رہنا کمال ہے میرا
میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب
حوصلہ کب نڈھال ہے میرا
چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے
بس یہیں سے زوال ہے میرا
سب کی نظریں مری نگاہ میں ہیں
کس کو کتنا خیال ہے میرا
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے ہاتھوں مودی سرکاری کی پسپائی اور گھٹنے ٹیکنے کے حیرت انگیز واقعات کا سہم ہمارے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک وزیر باتدبیر نے جہاں منہدم سسٹم کی نشاندہی کی وہیں اقبالؒ کے شاہینوں کو کاکروچ سے تشبیہ دیتے ہوئے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر یہ ''کاکروچ‘‘ اکٹھے ہو گئے تو سب کچھ اُلٹ دیں گے۔ وزیر موصوف کے پورے اور کڑوے سچ نے گلی محلوں سے لے کر ایوانوں تک مباحثے کا سماں باندھ دیا۔ سسٹم کا غیرمعمولی بینی فشری ہوکر اس کی ناکامی اور متوقع خدشات سے خبردار کرنے پر انہیں جہاں حکومتی حلقوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہاں دور کی کوڑی لانے والے اسے کھلا پیغام بھی قرار دے رہے ہیں۔ کس کا پیغام اور کس کس کے لیے؟ یعنی سمجھنے والے سمجھ گئے‘ جو نہ سمجھے وہ اَناڑی ہے۔ وفاقی وزرا نے وزیر داخلہ کو آڑے ہاتھوں لیا تو قیادت نے روک دیا۔ گویا محاذ آرائی اور مزاحمت سے بچ بچا کر ہی صورتحال کو سنبھالنا بہتر آپشن تصور کر لیا گیا ہے۔ بھارت میں کاکروچوں نے جنتر منتر کے سبھی منتر اُلٹ ڈالے۔ خواجہ سعد رفیق بھی گلی محلوں اور کچی بستیوں سے کاکروچ نکلنے کا اَلارم بجا چکے ہیں۔ کب کہاں کیسے؟ یہ معمہ تو آنے والا وقت اور کوئی واقعہ ہی حل کرے گا۔ یعنی:
کون سمجھا ہے صرف باتوں سے
سب کو اک واقعہ ضروری ہے
اقبال کے شاہینوں کو خبر ہو کہ نیپال‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بعد بھارتی طلبہ بھی بازی لے گئے۔ بھارت کے چیف جسٹس کے منہ سے نکلنے والے ہتک آمیز الفاظ کو اپنی طاقت بنا کر طلبہ نے ایسا شدید ردعمل دکھایا کہ حکومتی ایوان ہلا ڈالے۔ شاباش! غیرت اسی کو کہتے ہیں۔ ہمارے شاہینوں کو وفاقی وزرا سمیت دیگر شخصیات 'کاکروچ‘ سے برابر تشبیہ دے رہی ہیں لیکن ہم اس گٹر سے باہر نکلنے کو ہرگز تیار نہیں جسے طرزِ حکمرانی نے نسل در نسل ہمارا مقدر بنا رکھا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا‘ دادا کے بعد پوتا شوقِ حکمرانی پورے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ ایک طرف 'کاکروچوں‘ سے خوفزدہ ہیں‘ دوسری طرف صوبوں کا منصوبہ لانچ کر دیا گیا ہے۔ سیاسی پنڈت حالات کے اس اونٹ کو کسی اور کروٹ بیٹھتا دیکھ رہے ہیں جبکہ الٹی کروٹ کے امکانات بھی ہرگز خارج از امکان نہیں۔ جہاں کالاباغ ڈیم اور نہری منصوبہ سیاست اور مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ گیا وہاں خدشہ ہے کہ نئے صوبے بھی کہیں منصوبے میں ہی نہ رہ جائیں۔ نئے صوبوں کے لیے ''کاکروچ‘‘ اکٹھے کرنے کا عندیہ بھی اشاروں کنایوں میں برابر دیا جا رہا ہے جبکہ کاکروچ نکلنے کے امکانات کو ردّ کرنے والے بھی اپنی تھیوری اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ہماری یوتھ اور بالخصوص نظامِ تعلیم بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ یوتھ کہیں ڈگریوں کی بھاری قیمت تلے دَبی ہوئی ہے تو کہیں گروی پڑی ہوئی ہے‘ ماں باپ کی بھاری لاگت کا بوجھ اسے حالاتِ دیگر سے بوجوہ لاتعلق رکھے ہوئے ہے؛ البتہ وقت گزارنے کے لیے چائے خانوں اور کافی شاپس کے علاوہ دیگر خانوں میں بٹی ہوئی ہے‘ یوتھ کا بٹوارہ ہی حکمران اشرافیہ کے لیے اچھے گمان کا باعث ہے۔ کاکروچ سے ڈرتے ہو‘ کاکروچ تو تم بھی ہو‘ کاکروچ تو ہم بھی ہیں‘ جس گٹر میں رہتے ہیں‘ سب اس گٹر سے ہیں۔ کاکروچی گردان سے چند اشعار بے اختیار یاد آرہے ہیں تو بطور استعارہ پیشِ خدمت ہیں:
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو‘ آدمی تو ہم بھی ہیں!
اَن کہی سے ڈرتے ہو!
جو ابھی نہیں آئی‘ اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!
اژدہامِ انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے‘ راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے!
آدمی چھلک اٹّھے
آدمی ہنسے دیکھو‘ شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
یہ تھیوری بھی مارکیٹ کی جارہی ہے کہ نئے صوبے دکھا کر بااختیار بلدیاتی اداروں کی کڑوی گولی کھلا دی جائے گی جسے باامرِ مجبوری سبھی سٹیک ہولڈرز صوبوں کے بدلے ہنسی خوشی نگل لیں گے۔ چلتے چلتے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ حکومت پنجاب کی ریڈ لائن نیلی پیلی ہو چکی ہے گویا: اَکھ دا چانن مر جاوے تے نیلا پیلا لال برابر۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ستھرے پنجاب منصوبے سے برآمد ہونے والے نتائج کچھ یوں ہیں کہ صفائی پر مامور بابوؤں نے ہاتھ کی صفائی کو نصب العین بنا لیا ہے جس کے بدبودار نظارے گلی کوچوں سے لے کر سڑکوں اور بازاروں میں بخوبی کیے جا سکتے ہیں۔ ماضی کا پڑھا لکھا پنجاب ہو یا سرسبز اور ستھرا پنجاب‘ ان سبھی جھانسوں کے نقطے ملائیں تو بننے والی اشکال میں کہیں بھوکا پنجاب دکھائی دیتا ہے تو کہیں بدحال اور رُلتا ہوا پنجاب۔
واپس کریں