ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
رات گہری تھی۔ کراچی کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں، مگر شہر کے شور سے الگ ایک خاموش سوال دو آدمیوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ ایک نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا: ’’تمہیں معلوم ہے، میر رضا علی کو کس نے قتل کیا؟‘‘ دوسرے نے کچھ دیر خاموش رہ کر جواب دیا: ’’اگر معلوم ہوتا تو سوال باقی نہ رہتا۔‘‘ پہلے نے کہا: ’’مگر شہر میں تو قاتلوں کے نام گردش کررہے ہیں۔‘‘ جواب آیا: ’’شہر میں نام گردش کرتے ہیں، حقیقت نہیں؛ حقیقت کو اپنے قدموں سے چل کر ثبوت تک پہنچنا پڑتا ہے۔‘‘ پہلا مسکرایا: ’’تو کیا تم کہتے ہو کہ جو کچھ ہم سن رہے ہیں، اس میں سے کچھ بھی حقیقت نہیں؟‘‘ دوسرے نے کہا: ’’میں یہ نہیں کہتا۔ میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ ہر اطلاع حقیقت کی طرف جانے والی ایک سیڑھی ہوسکتی ہے، مگر ہر سیڑھی منزل نہیں ہوتی۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: ’’بتاؤ، ایک نوجوان گھر سے نکلے، واپس نہ آئے، اگلے روز اس کی لاش ملے، جسم پر چوٹوں کے آثار ہوں اور گولی پشت سے داخل ہوئی ہو؛ کیا اسے محض ایک اتفاق کہا جاسکتا ہے؟‘‘ جواب ملا: ’’نہیں۔‘‘ ’’تو پھر؟‘‘ ’’پھر تحقیق کا دروازہ کھلتا ہے۔‘‘ ’’اور اگر اس دروازے کے باہر سوشل میڈیا پہلے ہی قاتل کھڑا کردے؟‘‘ دوسرے نے کہا: ’’تب سب سے پہلے تحقیق کو اسی شور سے خود کو بچانا ہوگا۔ کیونکہ افواہ کا کمال یہ ہے کہ وہ سوال سے پہلے جواب لے آتی ہے، جبکہ انصاف کا کمال یہ ہے کہ وہ جواب سے پہلے سوال کو مکمل کرتا ہے۔‘‘
کچھ دیر بعد پہلا بولا: ’’CCTV میں پستول کا منظر ہے، پھر صبح کی روانگی ہے، ٹیکسی ہے، گلستانِ جوہر کی سمت سفر ہے، موبائل کا بند ہونا ہے، اور پھر ایک موٹرسائیکل ہے جو لاش ملنے والے مقام پر تقریباً بائیس سیکنڈ رکتی ہے۔ کیا یہ سب مل کر قاتل کا چہرہ نہیں بناتے؟‘‘ جواب آیا: ’’یہ چہرہ نہیں، آئینے کے ٹکڑے ہیں۔‘‘ ’’فرق کیا ہے؟‘‘ ’’چہرہ ایک حقیقت ہے؛ آئینہ صرف اس کی ممکنہ تصویر۔ اگر تم ایک ٹکڑے کو پورا چہرہ سمجھ لو تو تم تحقیق نہیں، گمان کررہے ہو۔‘‘ پہلا بولا: ’’لیکن موٹرسائیکل کا وہاں رکنا؟‘‘ ’’بڑا سراغ ہے۔‘‘ ’’تو قاتل وہی؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’اس لیے کہ سراغ قاتل تک پہنچا سکتا ہے، مگر سراغ خود قاتل نہیں ہوتا۔ اگر موٹرسائیکل کا نمبر مل جائے، سوار کا تعین ہوجائے، اس کا راستہ معلوم ہوجائے، اور پھر اس کا تعلق میر رضا کی آخری نقل و حرکت سے ثابت ہوجائے، تب ایک سلسلہ بنے گا۔ عدالت سلسلے کو دیکھتی ہے، شور کو نہیں۔‘‘ پہلا خاموش ہوگیا۔ پھر بولا: ’’اور موبائل؟‘‘ جواب آیا: ’’موبائل شاید اس قصے کا سب سے خاموش گواہ ہے۔ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، مگر ڈیجیٹل وقت کبھی کبھی جھوٹ کی گرد جھاڑ دیتا ہے۔ آخری کال، آخری پیغام، آخری مقام، حذف شدہ معلومات، مالی لین دین یہ سب وہ نشان ہیں جو انسان کی زبان سے زیادہ بے رحم ہوتے ہیں۔‘‘
پہلا پھر بولا: ’’تو کیا راز مالی معاملات میں ہے؟ کروڑوں کے قرض، سرمایہ کاری، کاروباری شراکتیں، تین کروڑ روپے کی مبینہ فوری درخواست کیا یہی محرک نہیں؟‘‘ دوسرے نے کہا: ’’ہوسکتا ہے، مگر ممکن ہونا اور ثابت ہونا ایک چیز نہیں۔‘‘ ’’اگر کسی پر رقم واجب ہو؟‘‘ ’’تو وہ مقروض ہے۔‘‘ ’’اگر کسی سے کاروباری اختلاف ہو؟‘‘ ’’تو وہ فریقِ اختلاف ہے۔‘‘ ’’اگر خاندان اس پر شک کرے؟‘‘ ’’تو وہ تفتیش کا موضوع ہے۔‘‘ ’’اور قاتل؟‘‘ ’’قاتل تب ہوگا جب ثبوت اسے جرم کے ساتھ باندھ دے۔‘‘ پہلا بولا: ’’تو عابد؟‘‘ ’’ثبوت کہاں ہے؟‘‘ ’’مونی؟‘‘ ’’ثبوت کہاں ہے؟‘‘ ’’کاروباری شریک؟‘‘ ’’ثبوت کہاں ہے؟‘‘ سوال پر سوال آتے گئے اور ہر نام کے سامنے ایک ہی دروازہ کھلتا رہا: ثبوت کہاں ہے؟ تب پہلا قدرے مضطرب ہوکر بولا: ’’کیا تم انسانی وجدان کی کوئی قدر نہیں کرتے؟‘‘ جواب آیا: ’’کرتا ہوں، مگر وجدان تحقیق کا آغاز ہوسکتا ہے، اختتام نہیں۔ شک تفتیش کو جنم دیتا ہے؛ فیصلہ ثبوت سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘ پھر اس نے قدرے توقف کے بعد کہا: ’’سوچو، اگر ہمارا شک غلط نکلا تو؟ ہم نے صرف ایک شخص پر الزام نہیں لگایا ہوگا؛ ہم نے ایک بے گناہ کی زندگی، خاندان اور عزت پر ایسا پتھر پھینکا ہوگا جس کے دائرے بہت دور تک جائیں گے۔‘‘
اب رات مزید گہری ہوچکی تھی۔ پہلے نے پوچھا: ’’پوسٹ مارٹم؟‘‘ جواب آیا: ’’وہ جسم کی خاموش زبان ہے۔‘‘ ’’اور قبر کشائی؟‘‘ ’’وہ اس خاموش زبان کو دوبارہ پڑھنے کی کوشش۔‘‘ ’’DNA؟‘‘ ’’شناخت کا سائنسی حرف۔‘‘ ’’gunshot residue؟‘‘ ’’ایک نشان۔‘‘ ’’جسم پر چوٹیں؟‘‘ ’’ایک اور نشان۔‘‘ ’’پشت سے داخل ہونے والی گولی؟‘‘ ’’ایک اور نشان۔‘‘ ’’تو کیا ان سب کو جوڑ کر قاتل نہیں مل سکتا؟‘‘ جواب آیا: ’’مل سکتا ہے اگر یہ سب ایک مربوط داستان بنائیں۔ لیکن سائنس کا وقار اسی میں ہے کہ وہ اپنی پسند کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے شواہد کو مجبور نہیں کرتی۔ وہ شواہد کو بولنے دیتی ہے۔‘‘ پہلا بولا: ’’اور اگر ہر ثبوت الگ سمت اشارہ کرے؟‘‘ دوسرے نے کہا: ’’تو تحقیق کو مزید وقت چاہیے۔‘‘ ’’اور اگر وقت گزر جائے؟‘‘ ’’تو انصاف کی آزمائش بڑھ جاتی ہے۔‘‘ ’’اور اگر معاشرہ شور مچانے لگے؟‘‘ ’’تو خاموش ثبوت کی حفاظت اور بھی ضروری ہوجاتی ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: ’’یاد رکھو، ریاست کی اصل قوت یہ نہیں کہ وہ کتنی جلدی کسی کو گرفتار کرلیتی ہے؛ اصل قوت یہ ہے کہ وہ کتنی دیانت داری سے صحیح شخص تک پہنچتی ہے۔‘‘
پہلا شخص دیر تک خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا: ’’مجھے اب لگتا ہے کہ ہم غلط سوال پوچھ رہے تھے۔‘‘ دوسرے نے پوچھا: ’’کیوں؟‘‘ ’’ہم پوچھ رہے تھے: قاتل کون ہے؟ شاید ہمیں پہلے پوچھنا چاہیے: حقیقت کیا ہے؟‘‘ جواب آیا: ’’اب تم سوال کے قریب پہنچے ہو۔‘‘ ’’اور حقیقت کہاں ملے گی؟‘‘ ’’وہاں نہیں جہاں سب سے زیادہ شور ہو؛ وہاں جہاں شواہد ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔‘‘ ’’تو میر رضا علی کے مقدمے کا اصل سبق کیا ہے؟‘‘ دوسرے نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کراچی کی روشنیاں اب بھی ویسی ہی تھیں، مگر سوال پہلے سے زیادہ گہرا ہوگیا تھا۔ اس نے کہا: ’’یہ مقدمہ ہمیں صرف قاتل کی تلاش نہیں سکھا رہا؛ یہ ہمیں حقیقت اور گمان کے درمیان فرق سکھا رہا ہے۔ پستول، موبائل، Apple Watch، CCTV، موٹرسائیکل، مالی روابط، فرانزک نمونے اور پوسٹ مارٹم یہ سب حقیقت کے دروازے پر پڑی ہوئی دستکیں ہیں۔ مگر دروازہ تب کھلے گا جب یہ دستکیں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کریں گی۔‘‘ پہلا بولا: ’’اور اگر ایسا ہوگیا؟‘‘ جواب آیا: ’’تب قاتل کا نام کسی کالم نگار، پولیس افسر یا سوشل میڈیا کی زبان سے نہیں نکلے گا؛ خود ثبوت اسے عدالت کے سامنے لے آئے گا۔‘‘
پھر دونوں خاموش ہوگئے۔ باہر شہر اپنی معمول کی بے قراری میں مبتلا تھا۔ مگر اس خاموشی میں جیسے ایک آخری سوال ابھرا: ’’کیا انصاف صرف قاتل کو سزا دینے کا نام ہے؟‘‘ جواب شاید اس رات کراچی کی ہوا نے دیا: ’’نہیں، انصاف اس سے پہلے یہ یقین پیدا کرنے کا نام ہے کہ جس شخص کو قاتل کہا جارہا ہے، وہ واقعی قاتل ہے۔‘‘ کیونکہ اگر ریاست جلدی میں کسی بے گناہ کو مجرم بنا دے تو وہ صرف ایک انسان سے انصاف نہیں چھینتی، اپنے ہی نظامِ انصاف کی حرمت زخمی کرتی ہے۔ اور اگر وہ سچ تک پہنچنے میں وقت لے، مگر ثبوت کے ساتھ پہنچے، تو مقتول کی خاموشی کو آواز ملتی ہے۔ میر رضا علی کی داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی؛ اس کے کردار سامنے ہیں، کچھ نام زیرِ بحث ہیں، کچھ راستے مشکوک ہیں، کچھ شواہد خاموش ہیں اور کچھ ابھی لیبارٹریوں میں اپنی زبان تلاش کررہے ہیں۔ اس لیے آج کا سب سے دیانت دار جواب شاید یہی ہے: قاتل کون ہے؟ ہمیں ابھی معلوم نہیں۔ مگر حقیقت کہاں ہے؟ وہ ثبوت کے راستے پر ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک قتل کی داستان، انسانی تہذیب کے سب سے قدیم سوال میں بدل جاتی ہے: ہم حقیقت کو چاہتے ہیں، یا صرف اپنی پسند کا جواب؟
واپس کریں