دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہم کہاں کھڑے ہیں !!!
No image پاکستان اپنی آزادی کے 79برس مکمل کر کے 80ویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلی صدی کی تکمیل میں اب صرف 21برس باقی ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب کسی بھی ملک کو اپنے سفر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کہاں سے چلا‘ کہاں پہنچا ہے اور اگلی منزل کیا ہونی چاہیے۔ آٹھویں دہائی تک آتے آتے ملک عموماً تجربات کے دور سے نکل کر استحکام کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں مسائل بدستور وہی ہیں جو کئی دہائیاں پہلے تھے۔ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ صحت اور تعلیم پر ناکافی اخراجات‘ بنیادی سہولتوں کا فقدان اور غیرمعمولی تیزی سے بڑھتی آبادی۔ ہم اس حال میں ملک کی آٹھویں دہائی کے آخری سال کا آغاز کر چکے ہیں کہ ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے 40فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ غربت کی شرح ورلڈ بینک کے اشاریے (یومیہ 4.2ڈالرآمدنی) کے مطابق 48فیصد اور اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق 29فیصد ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس میں پاکستان 193ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے۔ گلوبل ہنگر انڈکس میں 123ممالک میں 106ویں نمبر پر۔ رُول آف لاء میں 143میں 130پر۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد کا ذکر تو ہو چکا مگر ان بچوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو سکولوں میں ہیں مگر معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق تیسری جماعت کے صرف سات فیصد بچے دوسری جماعت کی کہانی پڑھ سکتے ہیں اور صرف آٹھ فیصد دو ہندسوں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔ ملک کی آبادی میں 79برس میں سات گنا اضافہ ہو چکا ہے اور آبادی میں نوجوانوں کی شرح تقریباً 65فیصد ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی تعلیم و تربیت‘ صحت اور صلاحیتوں کی ترقی پر خرچ کیا جائے تو یہ ملک کا سب سے اہم اثاثہ ہیں مگر نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور صلاحیت پر ضرورت کے مطابق خرچ نہیں ہو رہا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کا اثر تعلیم‘ صحت اور خوراک پر سب سے زیادہ ہے‘ جس کے اثرات ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ اس وقت جب ہم ملک کی پہلی صدی کی تکمیل سے صرف دو دہائیوں کے فاصلے پر ہیں یہ فیصلہ کن وقت ہے یہ طے کرنے کا کہ 14اگست 2047ء کو جب پاکستان اپنا صد سالہ یوم آزادی منائے گا تو ہم کس قسم کا پاکستان دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم مسائل کے اسی بوجھ کے ساتھ پاکستان کی پہلی صدی کی تکمیل چاہتے ہیں یا ترقی یافتہ‘ روشن خیال اور عالمی معیشت میں اہم شراکت دار ملک چاہیے؟
فیصلہ پاکستانی قوم اور اس کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ یقینا کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ افلاس‘ بیماریوں‘ تعلیمی زوال اور معاشی کسمپرسی کے حالات یونہی برقرار رہیں۔ مگر اس کیلئے عہد اور اس کی پاسداری کرنا ہو گی۔ سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہماری سمت درست ہو اور ان بنیادی رکاوٹوں کا ادراک کیا جائے جو ہماری مشکلات کا سبب ہیں۔ ہمیں دنیا کی مثالوں سے بھی سیکھنا ہو گا۔ ہم چین کی مثال دے سکتے ہیں کہ انہوں نے چار دہائیوں میں 80کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا یا جنوبی کوریا نے ہمارے پنج سالہ ترقیاتی ماڈل سے فائدہ اٹھایا اور آج وہ کہاں پہنچ چکا ہے یا سنگاپور‘ ماہی گیروں کی بدحال بستی کس پستی سے ابھری اور کس بلندی کو جا پہنچی۔
یہ ترقی کی مثالیں قائدانہ صلاحیتوں‘ درست فیصلوں اور حالات کی پرکھ کا نتیجہ ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں اختیارات پر گرفت اور من مرضی کی حکمرانی کا رواج رہا۔ پاکستان کو اس جمود سے نکالنے کیلئے کچھ فیصلے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام‘ وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم‘ عوامی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری‘ غیر ترقیاتی اخراجات میں فیصلہ کن کٹوتی اور سیاسی تنوع اور قومی ہم آہنگی کا ماحول ہی ہمیں اس قابل بنا سکتا ہے کہ ملکِ عزیز کے صد سالہ جشن آزادی تک ان مسائل سے نکل پائیں۔
بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں