دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قومی اعزازات کے اصل حقدار کون؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
قوم کے محسنوں، سائنس دانوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، ادیبوں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور بہادر شہریوں کو قومی سطح پر خراجِ تحسین پیش کرنا ایک مہذب ریاست کی خوبصورت روایت ہے۔ اس سال بھی سینکڑوں ملکی و غیر ملکی شخصیات کو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں سول اعزازات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔لیکن اس اعلان کے ساتھ ہی ایک سوال ہمیشہ کی طرح عوامی حلقوں میں گونجنے لگتا ہے: کیا یہ اعزازات واقعی میرٹ پر دیے جاتے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ پاکستانی عوام خود کبھی کسی ایوارڈ کی مستحق قرار پائے گی؟ قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو صدرِ پاکستان کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 259 اور ڈیکوریشنز ایکٹ 1975 کے تحت اعزازات دینے کا اختیار حاصل ہے۔ وزارتیں، صوبائی حکومتیں اور دیگر ادارے مختلف شخصیات کے نام تجویز کرتے ہیں، ایک اسٹیئرنگ کمیٹی ان سفارشات کا جائزہ لیتی ہے وزیراعظم اور پھر صدرِ مملکت حتمی منظوری دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک منظم اور شفاف طریقہ کار معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر ہر سال اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔
تنقید کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ کئی اعزازات حقیقی خدمات کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی وابستگی، سرکاری قربت، سفارش، اقربا پروری، چاپلوسی اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی حکومتی عہدیدار، بیوروکریٹ، سیاسی شخصیت یا حکومتِ وقت کے قریب سمجھے جانے والے افراد کے نام سامنے آتے ہیں تو سوشل میڈیاپر شدید ردِعمل دیکھنے میں آتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے متعدد واقعات موجود ہیں جنہوں نے سول ایوارڈز کی ساکھ کو متاثر کیا۔ کبھی کسی حکمران کے ذاتی تعلقات رکھنے والے افراد اور رشتہ داروں کو اعزازات دیے گئے، کبھی سفارش کنندگان خود اعزاز یافتگان کی فہرست میں شامل ہوگئے اور کبھی ایسے افراد کو قومی اعزازات سے نوازا گیا جن کی قومی خدمات پر سوالات اٹھتے رہے۔ یہاں تک کہ کسی حکمران نے اپنی شیروانی سینے والے درزی کو اور کسی نے اپنی چپل تیار کرنے والے کاریگر تو کسی نے اپنے ذاتی معالج تک کو سول ایوارڈ سے نواز دیا۔ ایسے واقعات، چاہے ان کے پس منظر میں کوئی بھی جواز پیش کیا جائے، عوامی سطح پر یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ قومی اعزازات کا معیار غیر معمولی قومی خدمات کی بجائے ذاتی تعلقات اور قربت پر مبنی ہے۔ نتیجتاً ان اعزازات کی اصل روح پس منظر میں چلی جاتی ہے اور تنازعہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قومی اعزازات کا مقصد قوم کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن جب میرٹ کی جگہ تعلقات، سفارش اور خوشامد کو اہمیت ملنے لگے تو اعزاز کی وقعت کم ہونے لگتی ہے۔ ایک ایسا اعزاز جو قوم کے بہترین افراد کے لیے مخصوص ہونا چاہیے، وہ عوام کی نظر میں محض ایک سرکاری رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ یہاں ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہے۔ کیا پاکستان کی وہ کروڑوں عوام کسی اعزاز کی مستحق نہیں جو ریاست کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے؟ وہ عوام جو مہنگائی، بے روزگاری، اضافی ٹیکسوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باوجود ریاستی نظام کو چلانے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ ہر پاکستانی شہری پٹرول، بجلی، گیس، موبائل، بینکاری اور دیگر شعبوں میں مختلف ٹیکس ادا کرکے قومی خزانے میں مسلسل حصہ ڈالتا ہے۔ اس کے باوجود تعلیم، صحت، صاف پانی اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولیات کے لیے اسے اکثر اپنی جیب سے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یوں عوام نہ صرف ریاست کی مالی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اپنی بنیادی ضروریات کا بوجھ بھی خود اٹھاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اسی عوام کو آئے روز نئے ٹیکسوں، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن لوگوں کی کمائی سے ریاست کا نظام چلتا ہے، انہیں اعزازات نہیں بلکہ مہنگائی کے نئے جھٹکے ملتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف تعریفی اسناد، ریلیف تو درکنار بلکہ اضافی بلوں اور محصولات کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ یہی احساس محرومی عوام کے دلوں میں اس سوال کو مزید گہرا کر دیتا ہے کہ آخر قومی اعزازات کے اصل حقدار کون ہیں؟
سول ایوارڈز کی روایت اس وقت حقیقی معنوں میں باوقار بن سکتی ہے جب اس میں مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔ سفارش اور تعلقات کی بجائے صرف خدمات کو معیار بنایا جائے۔ نامزدگی اور انتخاب کا پورا عمل عوام کے سامنے رکھا جائے تاکہ کسی قسم کے شبہات باقی نہ رہیں۔ جب قوم یہ محسوس کرے گی کہ اعزازات واقعی ان لوگوں کو مل رہے ہیں جنہوں نے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں، تب ہی ان اعزازات کا وقار بحال ہوگا۔ اور شاید اسی لیے آج ہر پاکستانی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر وہ دن کب آئے گا جب ریاست اپنے حقیقی محسن، یعنی پاکستانی عوام، کو بھی کسی اعزاز کا مستحق سمجھے گی؟ کیونکہ اگر قربانی، صبر، برداشت اور ریاست کے لیے مسلسل مالی تعاون کسی اعزاز کا معیار ہے تو پھر پاکستانی عوام سے بڑھ کر اس اعزاز کا حقدار شاید ہی کوئی اور ہو۔
واپس کریں