دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تاریخ کے سنن اور شباب کا ابھار
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
جنوبی ایشیا کا موجودہ سیاسی و تاریخی افق ایک ایسے سحر انگیز مگر تلاطم خیز دورِ تحویل کا شاہد ہے جہاں وقت کی بے رحم منطق اور شباب کا عزمِ نو، استبداد کی قدیم عمارتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جانے پر تل چکے ہیں۔ تاریخ کا یہ دائمی سنن ہے کہ جب کسی قوم کی جوان سال توانائی کو جبر و استحصال کی زِنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی جائے، تو وہ سنتِ الٰہی کے مطابق ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کے آگے قصرِ سلطانی کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی ہے۔ جس نعرۂ زیبائے "آبادیاتی منافع" (Demographic Dividend) کو حکمران طبقہ اپنی بقا اور فرعونیت کا جواز بنا کر پیش کرتا رہا، آج وہی طاقتور طبقہ اسی شباب کے غضب کو ایک ہولناک اور بے قابو "آبادیاتی تباہی" کی صورت میں اپنے سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ اَعمال کا وہ وبال ہے جس کا وعدہ صحیفہٴ حیات میں بارہا کیا گیا ہے۔
بھارت کی معاصر ’جن زیڈ‘ (Gen Z) تحریک کو اگر محض ایک امتحانی بے ضابطگی یا عارضی طغیان پر محمول کیا جائے تو یہ تاریخ کے اشارات سے بے خبری ہوگی۔ امتحانی پرچوں کا افشا ہونا اصل میں اس اخلاقی و فکری زوال کی طشت از بامی تھی جس نے لاکھوں نوواردانِ تمنا کی جہدِ مسلسل کو پامال کیا۔ ان مظالم اور مظلوم نوجوانوں کے دل دوز واقعات نے جمہوریت کے اس نام نہاد بت کا پردہ چاک کر دیا جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے قوم پرستی کے زعم میں اپنے سیکیولر و آئینی خد و خال کو مسخ کر رہا تھا۔ 'کاکروچ جنتا پارٹی' جیسے غیر روایتی فکری و سیاسی گروہوں کا اچانک ابھرنا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ جب عدل کی مسند پر بیٹھنے والے تحقیر و استخفاف کو اپنا شعار بنا لیں، تو باطل کا ایوان زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اقتدار کی مسند پر فائز جس "مضبوط رہنما" کی ہیبت کا چرچا تھا، اس کا سحر اس وقت ٹوٹ گیا جب احتجاج کے دباؤ نے طاقت کے رتھ سے وزیرِ تعلیم کو اتار پھینکا—یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جبر کی فرعونیت بالآخر زوال پذیر ہوتی ہے۔
ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے حالیہ احوال بھی اسی عالمگیر اور تہذیبی قانون کی توثیق کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اقربا پروری اور غیر منصفانہ کوٹہ سسٹم کے خلاف اٹھنے والی چنگاری نے بالآخر ایک قائم بالذات آمریت کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا، اور اقتدار کی باگ ڈور فرار ہونے والے حکمرانوں سے چھن کر عوام کی جانب پلٹ آئی۔ نیپال میں سوشل میڈیا کی عارضی اور قلیل المدتی بندش نے وہ آگ بھڑکائی جو سالہا سال کی بدعنوانی اور اشرافیہ کے غصب کے خلاف سینوں میں سلگ رہی تھی؛ نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمان کے در و دیوار عوام کے غیظ و غضب کی زد میں آئے اور اقتدار کا پنسل محل مسمار ہو گیا۔ اسی طرح سری لنکا کی ’ارگالیا‘ یعنی ہمہ گیر عوامی جدوجہد اس بات کی برہانِ قاطع ہے کہ جب معاشی بدانتظامی اور خاندانی بادشاہتیں عوام کا معاشی استحصال حد سے بڑھا دیں، تو صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر ایوانِ صدارت کے لالچ و غرور کو بہا کر لے جاتا ہے۔
ان تمام علاقائی حوادث اور قرآن و تاریخ کے عبرت انگیز نقوش کی روشنی میں اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتِ حال کا محققانہ جائزہ لیا جائے تو یہاں کا منظر نامہ نہایت تشویش ناک دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً سات کروڑ کی کثیر نوجوان آبادی سے مزین یہ مملکت اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں آئینی حقوق کی غصب شدگی، عدلیہ کی آزادی پر حرف گیری، اور صحافت و اظہارِ رائے پر بے رحم قدغنیں معمول بن چکی ہیں۔ یہ ایک ایسی ناگفتہ بہ تمثیل ہے جس میں محل کے باہر بھوکا اور محروم طبقہ برسرِ پیکار ہے اور ایوانوں کے اندر بیٹھی اشرافیہ ماضی کے بوسیدہ قصوں اور عارضی سہارے سے خود کو فریب دینے میں مصروف ہے۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے خطوں میں ابھرنے والی بے چینی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس تمرکزِ اقتدار کے خلاف ایک فطری، فکری اور تہذیبی ردِعمل ہے جو عوام الناس کو بنیادی انسانی و آئینی حقوق سے محروم رکھتا چلا آیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور وسعتِ معلومات کے اس جدید عہد میں حقیقت کو سنسرشپ کے زنگ آلود پردوں میں چھپانا یا سوشل میڈیا کی آواز کو مسدود کرنا محض ایک طفلانہ فریب اور وقت سے نبرد آزما ہونے کی ناکام کوشش ہے۔ بیرونی امداد پر تکیہ کرنے والی معیشت جب اپنی خود مختاری کھو بیٹھتی ہے اور افراطِ زر نوجوانوں کی روح کو کچل دیتا ہے، تو غصے کی یہ اندرونی سوزش کسی بھی لمحے سرحدوں پر چھائی کشیدگی کے ساتھ مل کر ایک ہولناک اجتماعی زلزلے کا روپ دھار سکتی ہے۔
وقت کا بیباک اور قاطع تقاضا ہے کہ اقتدار کی راہداریوں میں مقیم فیصلے کرنے والے تمام اربابِ حل و عقد علاقائی منظر نامے کی اس جلی تحریر کو پڑھیں، جبر و استبداد کا راستہ ترک کریں، اور عدلِ فاروقی و جمہوری اقدار کی حقیقی بحالی کو اولین ترجیح بنائیں۔ قبل اس کہ شباب کا یہ ابلا ہوا غصہ تمام بندھنوں کو توڑ ڈالے اور "فاستقم کما امرت" کے عادلانہ اصولوں سے انحراف کا نتیجہ ایک ہمہ گیر تباہی کی صورت میں سامنے آئے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فوری واپسی ہی اس ملک اور معاشرے کی نجات کا واحد اور حتمی راستہ ہے۔
واپس کریں