دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاست کی رِٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
قوموں کی تاریخ میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جب الفاظ محض تجزیہ نہیں رہتے بلکہ عزم کا اعلان بن جاتے ہیں۔ 31 جولائی 2026 کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بھی اسی نوعیت کا ایک موقع تھی، جس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان دہشت گردی، تخریب کاری اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور اس معاملے میں کسی قسم کی مصلحت یا کمزوری کی گنجائش نہیں۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ ہزاروں شہری، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان قربانیوں کے بعد یہ توقع رکھنا کہ ریاست اپنے دشمنوں کے سامنے پسپائی اختیار کرے گی، نہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ امن صرف خواہش سے نہیں بلکہ ریاستی عملداری، قانون کی بالادستی اور مؤثر حکمتِ عملی سے قائم ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ریاست کی رِٹ کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ یہ پیغام صرف دہشت گرد گروہوں کے لیے نہیں بلکہ ان تمام عناصر کے لیے بھی تھا جو نفسیاتی جنگ، جھوٹے پروپیگنڈے، گمراہ کن اطلاعات اور قومی انتشار کو ہتھیار بناتے ہیں۔
آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی۔ یہ جنگ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سفارتی محاذ، معیشت اور عوامی ذہنوں میں بھی جاری ہے۔ دشمن اس کوشش میں رہتا ہے کہ پاکستانی قوم کے اعتماد کو کمزور کیا جائے، اداروں پر بے اعتمادی پیدا کی جائے اور داخلی تقسیم کو ہوا دی جائے۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد محض ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بنیادی تقاضا بن جاتا ہے۔
پریس کانفرنس میں شہریوں کے حقوق کے ساتھ ان کی ذمہ داریوں کی بھی یاد دہانی کرائی گئی۔ آئین صرف حقوق کا ضامن نہیں بلکہ ریاست سے وفاداری، قانون کی پاسداری اور قومی مفاد کے تحفظ کی بھی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، لیکن اگر اختلاف کو تشدد، نفرت یا ریاستی اداروں کے خلاف غیرقانونی اقدامات میں تبدیل کر دیا جائے تو اس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دیرپا استحکام صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ انصاف، شفاف حکمرانی، ترقی، تعلیم، روزگار اور مقامی آبادی کی شمولیت سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب ریاست طاقت اور ترقی، دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے تو شدت پسندی کے لیے جگہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، مذہبی قیادت اور عام شہری سب اس قومی جدوجہد کے اہم کردار ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانا، افواہوں کو تقویت دینا یا دشمن کے بیانیے کو دانستہ یا نادانستہ فروغ دینا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ذمہ دارانہ اظہارِ رائے آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
یہ وقت سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کا نہیں بلکہ قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا ہے۔ جب ریاست مضبوط ہوگی تو جمہوریت بھی مستحکم ہوگی، معیشت بھی آگے بڑھے گی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور آئینی نظام ہر سیاسی اختلاف سے بالاتر قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف غیرمعمولی قربانیاں دے کر ثابت کیا ہے کہ یہ قوم دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ آج بھی پیغام واضح ہے ریاست اپنی رِٹ، آئین کی بالادستی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ جو عناصر پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری کو چیلنج کریں گے، ان کا مقابلہ قانون، ریاستی قوت اور قومی اتحاد سے کیا جائے گا۔
یہی وہ دوٹوک مؤقف ہے جو آج کے پاکستان کو درکار ہے۔ ایک ایسا پاکستان جو امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری، قومی وقار اور آئینی عملداری پر کبھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
واپس کریں