دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پشاور کے 12 لاکھ سے زائد کرایہ دار غنڈہ ٹیکس کے شکنجے میں؟ ہر سال آدھا کرایہ دوبارہ کیوں؟
No image (پشاور)خالد خان سے: پاکستان کی 2023 کی ساتویں مردم و خانہ شماری کے مطابق ضلع پشاور کی آبادی 47 لاکھ 58 ہزار 762 نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ ضلع بھر میں 6 لاکھ 91 ہزار 505 گھرانے آباد ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 80 ہزار 181 گھرانے کرائے کے مکانات میں رہتے ہیں، جو مجموعی گھرانوں کا تقریباً 26 فیصد بنتے ہیں۔ مردم و خانہ شماری کے مطابق ایک گھرانے میں اوسطاً 6.88 افراد رہتے ہیں۔ اس حساب سے ضلع پشاور میں تقریباً 12 لاکھ 40 ہزار افراد کرائے کے مکانات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ گویا پشاور کا ہر چوتھا گھرانہ براہِ راست کرایہ داری کے نظام سے وابستہ ہے، لیکن ان لاکھوں شہریوں کے ایک دیرینہ مسئلے پر آج تک مؤثر توجہ نہیں دی گئی۔
کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ کرایہ داری کے معاہدے عموماً صرف ایک سال کے لیے کیے جاتے ہیں۔ سال مکمل ہونے پر معاہدے کی تجدید کے ساتھ 10 فیصد سالانہ کرایہ بڑھا دیا جاتا ہے اور نیا کرایہ نامہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ کرائے میں اضافے کا معاملہ اپنی جگہ، مگر اصل مسئلہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق معاہدے کی ہر سال تجدید کے موقع پر پراپرٹی ڈیلر دوبارہ آدھے ماہ کے کرائے کے برابر کمیشن وصول کرتا ہے، حالانکہ نہ اس نے نیا مکان تلاش کیا، نہ مالک مکان بدلا اور نہ ہی کوئی نئی دلالی انجام دی۔ اگر کسی مکان کا ماہانہ کرایہ 60 ہزار روپے ہو تو صرف معاہدے کی تجدید کے نام پر کرایہ دار سے 30 ہزار روپے کمیشن وصول کیا جاتا ہے، جبکہ کرایہ دار پہلے ہی اسی مکان میں رہائش پذیر ہوتا ہے۔
کرایہ دار سوال اٹھاتے ہیں کہ جب دلال کی اصل ذمہ داری مکان تلاش کرنا، مالک اور کرایہ دار کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا اور ابتدائی معاہدہ کرانا ہے، تو پھر ایک ہی مکان، ایک ہی مالک اور ایک ہی کرایہ دار کے درمیان ہر سال نئے سرے سے کمیشن کس خدمت کے عوض لیا جاتا ہے؟ اگر کوئی خاندان دس سال تک ایک ہی مکان میں مقیم رہے تو کیا وہ دس مرتبہ اسی ایک مکان کی دلالی ادا کرتا رہے گا؟
شہریوں کے مطابق ایک طرف ہر سال 10 فیصد کرایہ بڑھ جاتا ہے، دوسری طرف ہر سال آدھے ماہ کے کرائے کے برابر کمیشن بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ یوں متوسط اور سفید پوش طبقہ دوہرے مالی بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ مہنگائی، بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات کے بعد یہ اضافی ادائیگی ہزاروں خاندانوں کے لیے شدید ذہنی اور معاشی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
متاثرہ کرایہ داروں کا کہنا ہے کہ اگر ایک شخص پہلی مرتبہ مکان حاصل کرتے وقت پراپرٹی ڈیلر کو کمیشن ادا کرتا ہے تو یہ ایک جائز کاروباری خدمت کا معاوضہ ہو سکتا ہے، لیکن ہر سال محض معاہدے کی تجدید پر دوبارہ کمیشن وصول کرنا انصاف اور کاروباری اخلاقیات کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ شہری اسی بنا پر اس اضافی وصولی کو "غنڈہ ٹیکس" قرار دے رہے ہیں۔
کرایہ داروں نے ڈپٹی کمشنر پشاور، ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، سالانہ کمیشن وصول کرنے کی قانونی حیثیت واضح کی جائے، اگر یہ عمل قانون کے مطابق نہیں تو اسے فوری طور پر روکا جائے، اور اگر اس حوالے سے قانون خاموش ہے تو کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے واضح ضابطۂ کار مرتب کیا جائے تاکہ لاکھوں شہری غیر ضروری مالی بوجھ سے نجات حاصل کر سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پشاور میں رہائش پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر کرایہ داروں کو ہر سال کرایہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ دوبارہ بھاری کمیشن بھی ادا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بن جاتا ہے، جس پر فوری توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واپس کریں