
پاکستان کے بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں پر میں کئی کالمز لکھ چکا ہوں لیکن آج تجزیہ کرنا چاہوں گا کہ کیا ہمارے قرضے قابل برداشت ہیں، پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہر سال کتنے ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں اور وہ کن ذرائع سے حاصل کئے جارہے ہیں۔ اِن بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہر سال ہمیں دوست ممالک سے درخواست کرنا پڑتی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے سیف ڈپازٹس کی تجدید (رول اوور) کریں۔
آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والے قرضوں کی گارنٹی کیلئے دوست ممالک نے آئی ایم ایف کے قرضے کی مدت تک پاکستان کے پاس مجموعی 12.5ارب ڈالر سیف ڈپازٹس رکھے ہیں جس میں سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر اور چین کے 4 ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے یو اے ای کی درخواست پر اس کے مجموعی 4.5 ارب ڈالر کے تمام ڈپازٹس 23اپریل 2026ء کو واپس کردیئے۔ یہ فنڈز کئی برسوں سے پاکستان کے پاس بطور سیف ڈپازٹس رول اوور ہورہے تھے لیکن اس بار یو اے ای نے اپنے ڈپازٹس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا تھا اور اس مشکل وقت میں سعودی عرب نے مالی امداد کرکے پاکستان کو ادائیگی کے دبائو سے بچایا۔ پاکستان، یو اے ای کے سیف ڈپازٹس پر 6 فیصد سالانہ سود ادا کررہا تھا جبکہ سعودی عرب کے سیف ڈپازٹس 4فیصد شرح سود پر ہیں اور اس طرح پاکستان کو اب یو اے ای کے مقابلے میں سعودی عرب کو ہر سال 23.63ارب روپے سود کی مد میں کم ادائیگی کرنا پڑے گی۔ پاکستان 2019ء سے سعودی عرب سے ایک سال کی موخر ادائیگی پر تیل لے رہا ہے لیکن اب پاکستان نے سعودی عرب سے 15سال کیلئے سالانہ 6.7ارب ڈالر ادھار تیل کی درخواست کی ہے تاکہ پاکستان کا سالانہ امپورٹ بل کم ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں۔اس وقت پاکستان کے مجموعی بیرونی قرضے 138 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ گزشتہ 5سال کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے جائزے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے ہر سال 20سے 24ارب ڈالر واپس کرنا ہوتےہیں۔ 2021-22 ء میں جب پاکستان کے مجموعی قرضے 127ارب ڈالر تھے، اُس وقت بیرونی قرضوں کی واپسی 15سے 20ارب ڈالر تھی جو 2022-23ء میں بڑھکر 21سے 22ارب ڈالر، 2023-24 ء میں 24ارب ڈالر، 2024-25ء میں پرانے بانڈز کی ادائیگی کے باعث 24.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ 2025-26ء میں بھی پاکستان کو 23سے 24 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگی کا سامنا ہے لیکن چین اور سعودی عرب کی بروقت رول اوور سہولت کے باعث آج ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 24ارب ڈالر پر مستحکم ہیں جس میں اسٹیٹ بینک کے 18.71ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے 5.51 ارب ڈالر شامل ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 30جون 2026 ء تک 19.92ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا تھیں جس کیلئے پاکستان نے 16.2ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کی لیکن اب بھی 3.72ارب ڈالر کی شارٹ فنانسنگ ہے۔ 2025-26ء میں پاکستان کو قرضے دینے والے اداروں میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) 953.74 ملین ڈالر، چائنا ڈویلپمنٹ بینک (CDB) 1.7 ارب ڈالر، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک 1.9ارب ڈالر اور دیگر بینکوں کے کمرشل قرضے شامل ہیں۔ اس طرح پاکستان نے 2025-26ء میں مختلف بینکوں سے مجموعی طور پر 6.39ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے۔ اس دوران پاکستان نے ایک ارب ڈالر کے یورو اور پانڈا بانڈز اور ’’نیا پاکستان سرٹیفکیٹ‘‘ (NPC)میں بیرون ملک پاکستانیوں سے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ پاکستان کے قرضوں پر سود کی ادائیگیاں دفاعی بجٹ سے تجاوز کرگئی ہیں اور ہر سال ان ادائیگیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2025-26ء کے بجٹ میں دفاعی اخراجات 2550ارب روپے (14فیصد) کے مقابلے میں قرضوں پر صرف سود کی ادائیگیاں 8207ارب روپے (47فیصد) تک پہنچ گئیں جو ہمارے بجٹ کا آدھے سے زیادہ ہے جبکہ اس میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں شامل نہیں۔ پاکستان قرضوں کے حصول کیلئے آئی ایم ایف کے پاس 1958ء سے لیکر اب تک 25مرتبہ جاچکا ہے لیکن اسکے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ ہم اب پرانے قرضے اتارنے کیلئے نئے قرضے لینے پر مجبور ہیں جس کیلئے بھی ہمیں دوست ممالک کی گارنٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم قرضوں کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔ کیا کوئی حکومت ان قرضوں کو اتارنے کیلئے جامع حکمت عملی بنائے گی؟
واپس کریں