ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخِ اقوام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ریاستوں کی پائیداری کا انحصار صرف مضبوط اداروں، بلند و بالا عمارتوں یا فعال سفارت کاری پر نہیں ہوتا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس بات پر ہوتا ہے کہ حکمران اپنے عوام کے مسائل، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ جب داخلی چیلنجز پس منظر میں چلے جائیں اور بیرونی سرگرمیاں قومی توجہ کا مرکز بن جائیں تو ریاست کو مختلف نوعیت کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آج کے پاکستان میں بھی بعض حلقے اسی تناظر میں داخلی صورتِ حال پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت کئی خطے اپنے اپنے مخصوص مسائل سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی عمل اور عوامی اعتماد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات موجود ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور سرحدی سلامتی کے چیلنجز نے عام شہریوں اور ریاستی اداروں دونوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ متعدد منتخب نمائندوں اور مبصرین نے انسدادِ دہشت گردی کی موجودہ حکمتِ عملی پر نظرثانی اور زیادہ جامع پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی عمل کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔
وفاقی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی نے قومی ماحول کو خاصا متاثر کیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کے حق میں احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کرتی رہی ہیں، جبکہ آئینی ترامیم کے بعض پہلوؤں پر وکلا، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک عدلیہ کی آزادی، اختیارات کے توازن اور آئینی اداروں کی خودمختاری پر مسلسل مکالمہ ایک مضبوط جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے۔ اسی دوران مہنگائی، توانائی کے مسائل اور بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی اخراجات نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث معاشی مسائل بھی قومی مباحثے کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔
ایسے حالات میں ریاستی حکمتِ عملی کا سب سے اہم امتحان یہ ہوتا ہے کہ اختلافِ رائے کو کس انداز سے سنا اور اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ مضبوط جمہوری معاشروں میں تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ مکالمہ، برداشت اور شفافیت کو قومی استحکام کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ ریاستی نظم کے لیے قانون کا مؤثر نفاذ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم دیرپا استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اسی تناظر میں "طاقت" (Power) اور "اخلاقی و قانونی اختیار" (Authority) کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ طاقت نظم و نسق برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، مگر پائیدار اختیار عوامی اعتماد، آئین کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور انصاف کی فراہمی سے حاصل ہوتا ہے۔ وہ ریاستیں زیادہ مستحکم سمجھی جاتی ہیں جو مؤثر ادارے، منصفانہ نظامِ قانون، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیح بناتی ہیں۔
جدید ابلاغی دور میں معلومات کے بہاؤ کو مکمل طور پر محدود کرنا ممکن نہیں رہا۔ روایتی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی عوامی اظہارِ رائے کا اہم وسیلہ بن چکے ہیں۔ اس لیے مؤثر حکمتِ عملی یہی ہو سکتی ہے کہ شفاف معلومات، ذمہ دار ابلاغ اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جائے تاکہ غلط فہمیوں اور بے یقینی میں کمی آئے۔
بالآخر ریاستوں کی اصل طاقت ان کے باشعور، مطمئن اور بااختیار شہری ہوتے ہیں۔ قومی استحکام صرف انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی یکساں عملداری، مؤثر اداروں، معاشی انصاف اور عوامی اعتماد سے فروغ پاتا ہے۔ اگر ریاست اور سیاسی قوتیں باہمی مکالمے، آئینی توازن، شفاف حکمرانی اور قومی مفاہمت کو اپنی ترجیح بنائیں تو موجودہ چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ وہی ریاستیں دیرپا استحکام حاصل کرتی ہیں جو اپنی اصلاح کی گنجائش کو زندہ رکھتی ہیں، عوام کی آواز کو اہمیت دیتی ہیں اور عدل و انصاف کو اپنی حکمرانی کی بنیاد بناتی ہیں۔
واپس کریں