دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
انقلاب و ارتقاء
زین سہیل وارثی
زین سہیل وارثی
میں نوحوں کے علاوہ کچھ بھی لکھ پاتا نہیں
اس پر مری دیوار، دیوارِ گریہ بنتی جاتی ہے
تاریخ کا ایک عجیب مگر مستقل اصول ہے کہ ہر سیاسی اور سماجی تحریک اپنے آغاز میں امید کا استعارہ ہوتی ہے۔ اس کے نعروں میں انسانی حقوق، آزاد عدلیہ، انصاف، امن، معاشی خوشحالی اور عوامی فلاح کی خوشبو ہوتی ہے۔ اس وقت اس کے کارکنوں کے چہروں پر ایک ایسے کل کا خواب ہوتا ہے جہاں ظلم کا خاتمہ اور انصاف کی حکمرانی ہو گی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام اپنے خواب اس تحریک کے سپرد کر دیتے ہیں۔لیکن تحریکیں بھی انسانوں کی طرح عمر کے مختلف مراحل سے گزرتی ہیں۔
ابتدا میں وہ ایک معصوم بچے کی مانند ہوتی ہیں جو دنیا کو صرف خیر و شر، حق و باطل اور سیاہ و سفید میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہوتا ہے اور وہ ہے موجودہ نظام کا خاتمہ۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ جیسے ہی پرانا ڈھانچہ گرے گا، ایک مثالی معاشرہ خود بخود وجود میں آ جائے گا۔
پھر وقت گزرتا ہے۔ تحریک جوان ہوتی ہے، اس کا تصادم ریاست اور سماج سے بڑھتا ہے، اس کے کارکنوں میں جوش اور قربانی کا جذبہ شدت اختیار کرتا ہے، مگر اسی مرحلے پر جذبات اکثر عقل پر غالب آ جاتے ہیں۔ تاریخ کے تلخ اسباق، ریاستی اداروں کی پیچیدگی اور معاشروں کے تدریجی ارتقا کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انقلاب ایک رومانوی تصور بن جاتا ہے اور یہ سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ اگر موجودہ نظام ختم ہو گیا تو اس کی جگہ کون سا نظام آئے گا؟ اس کے ادارے، قوانین اور آئینی ڈھانچہ کیا ہوگا؟
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انقلاب حکومتیں گرا سکتے ہیں، مگر مضبوط ریاستیں تعمیر نہیں کرتے۔ ریاستیں اداروں، قانون کی حکمرانی اور مسلسل ارتقائی اصلاحات سے مضبوط ہوتی ہیں۔
بنگلہ دیش کی حالیہ طلبہ تحریک، سری لنکا کا سیاسی بحران، نیپال کی طویل کشمکش اور دنیا کے کئی دوسرے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ عوامی غصہ سڑکوں پر آتا ہے، حکمران بدل جاتے ہیں، لیکن کچھ ہی عرصے بعد وہی ریاستی ڈھانچہ یا اس سے جڑی ہوئی نئی طاقتیں استحکام کے نام پر اقتدار سنبھال لیتی ہیں۔ انقلاب کے خواب آہستہ آہستہ مصلحت کی دھند میں گم ہو جاتے ہیں۔
2007ء کی وکلاء تحریک، آزاد عدلیہ اور آئین کی بالادستی کے عظیم مقصد کے ساتھ اٹھی تھی۔ کروڑوں لوگوں نے اسے امید کی کرن سمجھا۔ مگر بعد کے برسوں میں اسی تحریک کے نتیجے میں سامنے آنے والی عدالتی قیادت کی کارکردگی پر خود معاشرے کے مختلف حلقوں نے سخت سوالات اٹھائے۔ اس تجربے نے یہ سبق ضرور دیا کہ صرف افراد کی تبدیلی کافی نہیں ہوتی، اصل ضرورت اداروں کے مزاج اور احتساب کے نظام کو بہتر بنانے کی ہوتی ہے۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم انقلاب کو ارتقا پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہم ایک ہی جھٹکے میں سب کچھ بدل دینا چاہتے ہیں، جبکہ جمہوریت اپنی فطرت میں ایک سست، صبر آزما مگر پائیدار عمل ہے۔ وہ آہستہ آہستہ ادارے مضبوط کرتی ہے، اختیارات تقسیم کرتی ہے اور معاشرے کو تبدیلی قبول کرنے کا وقت دیتی ہے۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی حقیقی جمہوریت کی بنیاد، یعنی مضبوط بلدیاتی نظام، کو کبھی اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ حالانکہ شہری کے روزمرہ مسائل پانی، صفائی، سڑک، صحت اور تعلیم پارلیمنٹ نہیں بلکہ مقامی حکومتیں بہتر انداز میں حل کر سکتی ہیں۔ مقامی نمائندہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، اور اگر وہ ناکام ہو تو اگلے انتخاب میں عوام اسے گھر بھیج سکتے ہیں۔ یہی جمہوریت کا اصل حسن ہے، یہی سیاسی احتساب ہے۔
قومی سیاست میں اکثر ووٹ کارکردگی سے زیادہ شخصیات، نعروں یا جذبات کی بنیاد پر پڑتے ہیں، جبکہ بلدیاتی سطح پر ووٹر اپنے نمائندے سے براہِ راست سوال کرتا ہے۔ یہی جمہوری ارتقا کی پہلی سیڑھی ہے۔
معاشرے نعروں سے نہیں، اداروں سے بنتے ہیں۔ قومیں غصے سے نہیں، شعور سے آگے بڑھتی ہیں۔ انقلاب ایک لمحہ پیدا کرتا ہے، مگر ارتقا ایک تہذیب تشکیل دیتا ہے۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال انقلاب سے نہیں، خود اپنے آپ سے کریں کہ ہمیں صرف حکمران بدلنے ہیں یا حکمرانی کا طریقہ بھی؟
کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب قومیں صرف چہروں کی تبدیلی پر مطمئن ہو جائیں تو نظام ویسا ہی رہتا ہے، صرف کردار بدل جاتے ہیں۔
تصویر وہی ہے پس تصویر کوئی اور
فن کار نواگر ہے نوا گیر کوئی اور
بس خواب ہی دیکھے گا فقط دیکھنے والا
پائے گا مگر خواب کی تعبیر کوئی اور
واپس کریں