محمد محسن خان ( راجپوت )
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی ایک جماعت نے شہری سیاست کا مزاج، زبان اور انداز بدل کر رکھ دیا تو وہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) تھی۔ یہ صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی مظہر تھی جس نے کراچی اور حیدرآباد کے لاکھوں شہریوں کو شناخت، نمائندگی اور سیاسی طاقت کا احساس دیا۔ مگر تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ جو جماعتیں وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کرتیں، وہ بالآخر اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔
1984ء میں قائم ہونے والی ایم کیو ایم نے شہری سندھ کے اردو بولنے والے طبقے کے احساسِ محرومی کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا۔ ریاستی اداروں میں نمائندگی، روزگار کے مواقع اور شہری حقوق جیسے مسائل نے اس کے بیانیے کو طاقت بخشی۔ یہی وجہ تھی کہ چند ہی برسوں میں کراچی کی سیاست کا نقشہ بدل گیا اور ایم کیو ایم ایک ناقابلِ تردید سیاسی حقیقت بن کر ابھری۔
نوے کی دہائی میں کراچی کی گلیاں سیاست سے زیادہ تصادم کی علامت بن گئیں۔ سیاسی کارکنوں کی ہلاکتیں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور مسلح جتھوں کی موجودگی نے شہر کی معیشت اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان برسوں کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے رہے، جبکہ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس دور نے کراچی کی شناخت کو گہرا نقصان پہنچایا۔
ایم کیو ایم کی سب سے بڑی طاقت اس کی منظم تنظیم، کارکنوں کا نظم و ضبط اور قیادت سے غیر معمولی وابستگی تھی، لیکن یہی طاقت وقت کے ساتھ اس کی کمزوری بھی بن گئی۔ جب سیاسی جماعتیں اداروں کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگیں تو اختلافِ رائے دب جاتا ہے، قیادت پر تنقید ختم ہو جاتی ہے اور اصلاح کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ یہی صورتحال ایم کیو ایم کے اندر بھی بتدریج پیدا ہوئی۔
2013ء کے بعد کراچی میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات نے شہر میں جرائم میں نمایاں کمی لائی، مگر اسی عرصے میں ایم کیو ایم کی تنظیمی گرفت بھی کمزور پڑتی گئی۔ کارکن منتشر ہوئے، سینئر رہنما الگ راستے اختیار کرتے گئے اور جماعت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ 2016ء کے بعد رونما ہونے والی تقسیم نے اس سیاسی قوت کو مزید منتشر کر دیا جسے کبھی کراچی کی "ناقابلِ شکست مشین" کہا جاتا تھا۔
تاہم ایم کیو ایم کے زوال کی تمام تر ذمہ داری صرف بیرونی عوامل پر ڈال دینا بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔ ہر سیاسی جماعت کو اپنی غلطیوں کا حساب دینا پڑتا ہے۔ اگر عوام کسی جماعت سے دور ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے قیادت کے فیصلے، تنظیمی کمزوریاں، عوامی رابطے میں کمی اور بدلتے ہوئے سیاسی تقاضوں کو نظر انداز کرنا بھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی کا ووٹر بھی بدل چکا ہے۔ آج کا نوجوان روزگار، پانی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، بلدیاتی نظام، انفراسٹرکچر اور شفاف حکمرانی پر ووٹ دینا چاہتا ہے۔ لسانی شناخت اب بھی ایک عنصر ہے، مگر وہ واحد فیصلہ کن عنصر نہیں رہی۔ یہی تبدیلی پاکستان کی شہری سیاست کا نیا رخ متعین کر رہی ہے۔
اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ کراچی کے مسائل صرف ایک جماعت کی ناکامی کا نتیجہ نہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش، کمزور بلدیاتی نظام، غیر متوازن شہری منصوبہ بندی، تیز رفتار آبادی میں اضافہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان بھی اس بحران کے بنیادی اسباب ہیں۔ کراچی کی بدحالی اجتماعی سیاسی ناکامی کی علامت ہے، نہ کہ کسی ایک جماعت کی۔
ایم کیو ایم آج بھی مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے غائب نہیں ہوئی۔ اس کے پاس ایک تاریخی ووٹ بینک، تجربہ کار کارکن اور شہری سیاست کا وسیع تجربہ موجود ہے، لیکن اگر اسے دوبارہ عوامی اعتماد حاصل کرنا ہے تو اسے شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ سازی، داخلی جمہوریت، نوجوان قیادت، شفاف سیاست اور کارکردگی پر مبنی بیانیہ اختیار کرنا ہوگا۔
پاکستان کی شہری سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب عوام نعروں سے زیادہ نتائج چاہتے ہیں، شناخت سے زیادہ خدمت چاہتے ہیں اور جذبات سے زیادہ بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر آئندہ برسوں میں ہر سیاسی جماعت کو پرکھا جائے گا۔
ایم کیو ایم کی کہانی صرف ایک جماعت کے عروج و زوال کی داستان نہیں بلکہ یہ پاکستان کی شہری سیاست کے ارتقا کا آئینہ بھی ہے۔ یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عوامی اعتماد حاصل کرنا مشکل ضرور ہے، مگر اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اقتدار وقتی ہو سکتا ہے، مگر عوام کا فیصلہ ہمیشہ تاریخ کا آخری فیصلہ ثابت ہوتا ہے۔
واپس کریں