بھارتی نوجوانوں کی کامیاب مزاحمت مودی کی اب تک کی سب سے بڑی شکست ہے۔ حسنین جمیل

بھارتی نوجوانوں کی مزاحمت کامیاب رہی ہے۔ وفاقی وزیرِ تعلیم، دھرمیندر پردھان، نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
جنوبی ایشیا کے ڈھائی ارب عوام گزشتہ چار سال سے مزاحمت کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے نیپال، پھر سری لنکا، اس کے بعد بنگلہ دیش، اور اب بھارت کے نوجوانوں نے ثابت کر دیا ہے:
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں پر
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ تبدیلی کا خواہش مند رہتا ہے۔ جمود موت ہے، جبکہ ارتقا ہی میں حیات ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے ایک خالص تعلیمی معاملے پر تحریک شروع کی تھی۔ ان کا ہرگز مدعا یہ نہیں تھا کہ وہ مودی حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، نہ ہی ان کے کوئی سیاسی عزائم تھے۔ ابھی تک نوجوانوں کی یہ "جنتا کاکروچ پارٹی” بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن آف انڈیا میں اپنا اندراج نہیں کرا سکی۔ بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس، جن کی بعد میں انہوں نے تردید بھی کی، کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اس تحریک نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کی صورت میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا جنتا کاکروچ پارٹی اپنا سیاسی سفر شروع کرے گی یا نہیں۔
ماضی میں، جب کانگریس کی حکومت تھی، تب کرپشن کے خلاف سماجی رہنما انا ہزارے نے ایک تحریک شروع کی تھی۔ اس تحریک کے دباؤ میں آ کر کانگریس حکومت نے لوک پال بل منظور کیا تھا، تاہم بعد میں انا ہزارے سیاسی منظرنامے پر زیادہ فعال نظر نہیں آئے۔
شروع میں مودی سرکار نے کاکروچ پارٹی کے احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج ہوا، تشدد کیا گیا، مگر جب راہول گاندھی کی انٹری ہوئی اور مختلف شہروں میں بھی نوجوان سڑکوں پر نکلنے لگے تو مودی سرکار کی سوچ بدلی۔
اس دوران مودی سرکار کو وہ بل بھی لوک سبھا میں پیش کرنے کا ارادہ مؤخر کرنا پڑا، جس میں بھارتی قومی ترانے "وندے ماترم” نہ گانے پر تین سال قید کی سزا کی شق شامل تھی۔ اس کی بھی ایک کہانی ہے۔
1987 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ اگر کوئی بھارتی شہری قومی ترانے کے دوران احتراماً کھڑا ہو جاتا ہے، لیکن اسے گاتا نہیں، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ قومی ترانے کا احترام نہیں کرتا۔ چونکہ وہ احتراماً کھڑا ہوا ہے، اس لیے یہی احترام کی علامت ہے۔
بہرحال، مودی سرکار نے کاکروچ پارٹی کے احتجاج کے سامنے جو پسپائی اختیار کی ہے، وہ بھارتی عوام کی فتح ہے۔ نریندر مودی نے ایک گھاگ اور دانا سیاست دان، بلکہ ایک statesman ہونے کا ثبوت دیا۔ انہوں نے عوامی مزاج کو بھانپ لیا تھا۔ جس طرح جوق در جوق عوام اس احتجاج میں شامل ہو رہے تھے، اس سے خطرہ تھا کہ یہ ایک ملک گیر اور بہت بڑا احتجاج بن جائے گا۔ لہٰذا مودی نے ایک وزیر کی قربانی دے کر اپنی حکومت بچا لی۔
بشکریہ:اردو نیا دور
واپس کریں