دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹیکس کا صحرا اور معیشت کا گمشدہ قافلہ
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخِ تمدن کے اوراق میں بعض ریاستیں ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنے خزانوں کو بھرنے کے لیے سونے کی کانیں تلاش نہیں کیں بلکہ انسانوں کی صلاحیتوں کو کان بنا دیا، اور بعض سلطنتیں وہ تھیں جنہوں نے اپنے باغبانوں ہی کو کاٹ کر باغ کی زرخیزی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ پہلی قسم کی اقوام نے صدیوں تک استحکام، خوش حالی اور اقتدار کا ذائقہ چکھا، جبکہ دوسری قسم کے ممالک اپنی ہی پالیسیوں کے بوجھ تلے اس طرح دب گئے جیسے ریت پر تعمیر ہونے والی عمارت پہلے جھک جاتی ہے، پھر دراڑیں پڑتی ہیں اور آخرکار ملبے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ خزانے میں کتنی رقم جمع ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خزانے تک پہنچنے والے راستے کتنے وسیع ہوئے۔

ہر سال بجٹ کا موسم ایک مخصوص طرز کے سرکاری بیانیے کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ محصولات کے اہداف بلند کیے جاتے ہیں، نئے مالیاتی اقدامات کو قومی ضرورت کا عنوان دیا جاتا ہے، رعایتوں کا دائرہ محدود کیا جاتا ہے اور وصولیوں کے اعداد کو کامیابی کا مترادف قرار دے دیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں مباحث کا محور بھی عموماً یہی رہتا ہے کہ کس شعبے پر کتنا بوجھ آیا اور کون سا طبقہ کس حد تک متاثر ہوا۔ مگر اس پورے منظرنامے میں وہ بنیادی سوال گم ہو جاتا ہے جو کسی بھی پائیدار معیشت کی بنیاد ہوتا ہے، یعنی کیا ریاست اپنے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے یا صرف انہی لوگوں سے زیادہ وصول کر رہی ہے جو پہلے ہی نظام کے اندر موجود ہیں؟

یہ کیفیت اس مسافر قافلے سے مشابہ ہے جس کا سردار ہر منزل پر پانی کے نئے چشمے تلاش کرنے کے بجائے موجود مشکیزوں ہی سے آخری قطرہ نچوڑنے پر اصرار کرے۔ ابتدا میں شاید پیاس وقتی طور پر بجھتی محسوس ہو، مگر رفتہ رفتہ نہ صرف مشکیزے خالی ہو جاتے ہیں بلکہ قافلہ بھی بکھر جاتا ہے۔ معیشت کا اصول بھی یہی ہے کہ ریونیو کی پائیداری کا انحصار شرحِ ٹیکس پر نہیں بلکہ ٹیکس کی بنیاد کی وسعت پر ہوتا ہے۔ جب بنیاد سکڑتی اور بوجھ بڑھتا ہے تو نظام اپنی داخلی قوت کھونے لگتا ہے۔

پاکستان میں ایک محدود دستاویزی شعبہ قومی محصولات کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت کا ایک وسیع حصہ مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر مالیاتی نظم میں شامل نہیں ہو پاتا۔ نتیجتاً ہر نئے مالی دباؤ کا رخ انہی افراد، اداروں اور کاروباروں کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جو پہلے ہی ریاستی ریکارڈ میں موجود ہوتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ قانون کی پاسداری انعام کے بجائے اضافی بوجھ میں تبدیل ہونے لگتی ہے، اور قانون سے گریز نسبتاً کم خرچ راستہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ وہ نفسیاتی تبدیلی ہے جو کسی بھی ریاست کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہے۔

اس مسئلے کا ایک کم زیرِ بحث مگر نہایت اہم پہلو تعمیل کی لاگت ہے۔ اگر کسی تاجر کو کاروبار چلانے سے زیادہ وقت کاغذی کارروائی، متضاد ضابطوں، مختلف اداروں کے تقاضوں اور مسلسل قانونی پیچیدگیوں سے نمٹنے پر صرف کرنا پڑے تو اس کے لیے رسمی معیشت میں رہنا خود ایک مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ جدید معاشیات میں یہ امر مسلمہ ہے کہ پیچیدہ ضابطے ٹیکس چوری سے زیادہ ٹیکس سے اجتناب کو جنم دیتے ہیں، کیونکہ لوگ شرحِ محصول سے پہلے نظام کی سہولت اور یقین دہانی کو دیکھتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ گہرا زخم انسانی سرمائے کی ہجرت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب وطن چھوڑتا ہے تو وہ صرف اپنی ملازمت تبدیل نہیں کرتا بلکہ اپنی آئندہ معاشی زندگی، اپنی آمدنی، اپنی سرمایہ کاری، اپنی اختراعات اور اپنی آئندہ نسلوں کی اقتصادی سرگرمی بھی دوسری ریاست کے سپرد کر دیتا ہے۔ یوں برین ڈرین دراصل صرف افرادی قوت کا انخلا نہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ ٹیکس دہندگان، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور روزگار پیدا کرنے والوں کا مسلسل اخراج ہے۔ جس قوم نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کا ہنر کھو دیا، وہ بالآخر اپنے مالیاتی استحکام کی بنیاد بھی کھو بیٹھتی ہے۔

اسی لیے دنیا کی کامیاب ریاستوں نے محاصل کو طاقت کے زور پر نہیں بلکہ اعتماد کے ذریعے مستحکم کیا۔ انہوں نے ٹیکس کو سزا نہیں بلکہ شراکت داری بنایا، نظام کو پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ رکھا، اور شہری کو مشتبہ نہیں بلکہ شریکِ تعمیر سمجھا۔ جہاں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے، وہاں محصولات خود بخود بڑھتے ہیں، کیونکہ معیشت جبر سے نہیں بلکہ اعتماد، سرمایہ کاری اور پیداواری سرگرمی سے پھلتی پھولتی ہے۔

پاکستان کو بھی اب اپنی مالیاتی سوچ کو صرف وصولیوں کے ہندسوں تک محدود رکھنے کے بجائے معیشت کی بنیادی ساخت کی طرف لوٹنا ہوگا۔ بجٹ کی کامیابی اس وقت حقیقی معنی اختیار کرے گی جب نئے فائلرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو، غیر رسمی کاروبار رضاکارانہ طور پر دستاویزی نظام میں شامل ہوں، کاروبار شروع کرنا آسان ہو، نوجوان ملک میں مستقبل دیکھیں، نجی سرمایہ کاری میں وسعت آئے اور پالیسیوں کا تسلسل سرمایہ کار کے اعتماد کو مضبوط کرے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جو کسی بھی قوم کی معاشی صحت کا حقیقی درجہ حرارت بتاتے ہیں۔

معیشت کا درخت محض ٹیکس کے پانی سے سرسبز نہیں ہوتا بلکہ اعتماد، انصاف، آسانی اور سرمایہ کاری کی زرخیز مٹی میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ جب ریاست اپنی تمام تر توانائی موجودہ شاخوں سے مزید پھل اتارنے کے بجائے نئے باغ اگانے پر صرف کرے گی، تبھی قومی خزانہ بھی پائیدار ہوگا اور قومی وقار بھی۔ بصورتِ دیگر ہم ہر سال بجٹ کی نئی کتاب ضرور شائع کریں گے، مگر معیشت کا پرانا المیہ اسی طرح ہمارے ساتھ سفر کرتا رہے گا۔
واپس کریں