بلوچستان میں آپریشن العزم جاری فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصانات

سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن العزم کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ بلوچستان میں کلی کند عمرانی، خڈ کوچہ، مستونگ سمیت مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ سکیورٹی فورسز نے آپریشن العزم میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اور کمین گاہوں کو تباہ کر کے اسلحہ و دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا۔ اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں چیک پوسٹ پر حملے کی ناکام کوشش کرنے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عبرت کا نشان بن گئے۔ ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں واقع پولیس اور پاک فوج کی مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔ ٹانک کے مقامی بازار میں مارے جانے والے حملہ آوروں کی لاشیں لائے جانے پر شہریوں کی جانب سے نفرت کا اظہار کیا گیا۔ مسلسل بدامنی اور تشدد سے متاثرہ مقامی آبادی اب ایسے عناصر کے خلاف کھلے عام اپنے شدید غصے اور بیزاری کا اظہار کر رہی ہے۔ عوام کی جانب سے یہ شدید ردعمل ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے والے عناصر کے لیے ایک واضح اور عبرتناک پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔
ادھر، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کو ناکام بنانے اور چار دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، غیر معمولی جرأت اور بروقت کارروائی کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز آپریشن عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
پاکستان ایک بار پھر ایسی صورتحال سے دوچار ہے جہاں دہشت گردی کا ناسور ملکی سلامتی، معیشت اور عوام کے سکون کو براہِ راست نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کا بیان محض ایک روایتی سیاسی بات نہیں بلکہ ایک ایسے قومی عزم کی علامت ہے جو ریاست پاکستان کے ہر ادارے، ہر سکیورٹی اہلکار اور ہر محبِ وطن شہری کے دل کی آواز ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا جا چکا ہے۔ فوجی جوانوں سے لے کر پولیس اہلکاروں تک، اور عام شہریوں سے لے کر بچوں تک ہر طبقے نے اس جنگ کی قیمت چکائی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی قوم کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہوا۔ آج بھی جب وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز آپریشن عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھیں گی تو یہ عزم اس قومی جذبے کا عکاس ہے جو ہر مشکل کے باوجود سرنگوں نہیں ہوا۔
آپریشن عزمِ استحکام دراصل ایک جامع حکمتِ عملی کا نام ہے جس کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف براہِ راست کارروائیاں کرنا ہے بلکہ ان کے نیٹ ورکس، مالی معاونت کے ذرائع اور نظریاتی بنیادوں کو بھی جڑ سے اکھاڑنا ہے۔ یہ آپریشن اس بات کا اعلان ہے کہ ریاست اب کسی بھی صورت میں دہشت گردی کے ساتھ نرمی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ ماضی میں کیے جانے والے مختلف آپریشنز، چاہے وہ ضربِ عضب ہو یا ردالفساد، سب نے یہ ثابت کیا کہ جب پوری قوم اور ریاست یک جہت ہوں تو دہشت گردی کی کمر توڑی جا سکتی ہے۔ آپریشن عزمِ استحکام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو موجودہ چیلنجز کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔
بلوچستان کی صورتحال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ صوبہ اپنی جغرافیائی اہمیت، معدنی وسائل اور سی پیک جیسے منصوبوں کی وجہ سے ہمیشہ سے دشمن قوتوں کی سازشوں کا مرکز رہا ہے۔ بیرونی قوتیں مقامی عناصر کو استعمال کرتے ہوئے بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں قوم کا بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا اور آپریشن العزم کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ریاست اور عوام ایک ہی نکتے پر متفق ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ سکیورٹی ادارے پوری مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عسکری اقدامات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی، معاشی اور تعلیمی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو انتہاپسندانہ نظریات سے دور رکھنے کے لیے تعلیمی نصاب میں بہتری، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور میڈیا کے ذریعے شعور بیدار کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کا خاتمہ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں جہاں دہشت گردی کا زیادہ اثر رہا ہے ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرے تاکہ مقامی آبادی کو یہ احساس ہو کہ ریاست ان کے ساتھ ہے اور ان کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا چاہتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کو اپنا موقف مضبوطی سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو بین الاقوامی برادری کے سامنے لانا اور ان قوتوں کو بے نقاب کرنا جو خطے میں عدم استحکام پھیلانے میں ملوث ہیں سفارتی محاذ پر ایک اہم ذمہ داری ہے۔ خطے میں امن و استحکام صرف پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔
وزیراعظم کا یہ عزم کہ دہشت گردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی پوری قوم کی امنگوں کا ترجمان ہے۔ آپریشن عزمِ استحکام اور آپریشن العزم جیسی کارروائیاں اس بات کی ضامن ہیں کہ ریاست پاکستان اپنی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ قوم کو چاہیے کہ وہ اپنی بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ اسی طرح شانہ بشانہ کھڑی رہے جیسا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام نے ثابت کیا ہے۔ جب تک ریاست، فوج اور عوام متحد رہیں گے کوئی بھی دہشت گرد قوت پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ یہی وہ اتحاد اور یگانگت ہے جو پاکستان کو ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں سے ہمکنار کر چکی ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے پر چل کر ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں