دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کپیسٹی پیمنٹس کا ناقابلِ برداشت بوجھ
No image پاکستان میں توانائی کا شعبہ ایک ایسے پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس نے ملک کی صنعتی ترقی‘ تجارتی مسابقت اور عام آدمی کے سکون کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس مسئلے کا سب سے ہولناک مظہر کپیسٹی پیمنٹس یا پیداواری صلاحیت کے عوض کی جانے والی وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی کے کارخانوں کو‘ انکی پیداوار سے ہٹ کر محض پیداواری استعداد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ یہ پالیسی‘ جو ماضی کی غلطیوں اور دور رس مضمرات سے عدم آگاہی کا شاخسانہ ہے‘ آج ملکی معیشت کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے اور ریاست کے مالیاتی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار اس المیے کی ہولناکی کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں جن کے مطابق حکومت نے پانچ سالوں کے دوران (مالی سال 2022ء سے مالی سال 2026ء کے مارچ تک) مجموعی طور پر بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو 13ہزار 397 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی ہیں جن میں صرف 6121ارب روپے رقم بجلی کی اصل قیمت تھی جبکہ 7275 ارب روپے سے زائد رقم کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی گئی۔ یعنی تقریباً 26 ارب ڈالر بجلی گھروں کو اُس بجلی کی مد میں ادا کیے گئے جو انہوں نے پیدا ہی نہیں کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کپیسٹی پیمنٹ کا سالانہ حجم اب پانچ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو تعلیم‘ صحت اور انفراسٹرکچر سمیت دیگر ناگزیر منصوبوں پر خرچ ہونی چاہیے تھی مگر توانائی کے ان معاہدوں کی نذر ہو گئی جن میں ملک و قوم کے مفادات کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
یہیں تک بس نہیں! اب بجلی کی اصل پیداواری قیمت سے کہیں زیادہ اس کے کپیسٹی اخراجات ہو چکے ہیں۔ اکنامک سروے 2026 ء کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 22ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ جبکہ بجلی کے انسٹالڈ منصوبوں کی کپیسٹی 42ہزار میگاواٹ سے زائد ہے۔ یعنی صارفین اُس 20 ہزار میگاواٹ کا بل بھی دیتے جو استعمال نہیں کرتے۔ ستمبر 2024ء میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی نے تسلیم کیا تھا کہ بجلی صارفین تقریباً 19روپے فی یونٹ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کر رہے۔ اس مہنگی بجلی نے صارفین پر ہی اضافی بوجھ نہیں لادا بلکہ صنعتوں کو بھی ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے۔ آج مہنگی بجلی پاکستان کے صنعتی و پیداواری شعبے کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات محض اسلئے مسابقت سے باہر ہو رہی ہیں کہ یہاں بجلی کی قیمت خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جب صنعتوں کو مسلسل ناقابلِ برداشت بجلی کے بل ادا کرنا پڑیں تو پیداواری لاگت آسمان کو چھونے لگتی اور کارخانے بند ہونے لگتے ہیں جس سے بیروزگاری کا ایسا طوفان امڈتا ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی کی منزلیں طے نہیں کر سکتا جب تک اسکی صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل توانائی فراہم نہ کی جائے۔
پاکستان میں یہ مسئلہ اب معاشی بقا کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 2019ء سے اس گمبھیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے جتن کیے جا رہے ہیں‘ پہلے ڈالر ادائیگیوں کو ملکی کرنسی میں تبدیل اور ایک ریٹ پر فکس کیا گیا‘ پھر مختلف کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز قائم کی گئیں‘ نجی بجلی گھروں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی اور قوم کو سالانہ سینکڑوں ارب روپے کی بچت کی نوید بھی سنائی گئی مگر حالیہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ خرابی کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام معاہدوں کا ازسرنو باریک بینی سے جائزہ لے اور کپیسٹی پیمنٹس کے جھنجھٹ سے ہمیشہ کیلئے نجات دلائے۔ ملک کے روشن معاشی مستقبل کیلئے یہ ناگزیر ہے کہ تمام تر دباؤ سے بالاتر ہو کر ایسا طویل مدتی توانائی پلان بنایا جائے جو عوام اور صنعت دوست ہو۔ جب تک کپیسٹی پیمنٹس کے گمبھیر مسئلے کا پائیدار حل نہیں نکالا جاتا تب تک ملک میں بجلی سستی ہونے کا کوئی امکان نہیں اور ہر سال ہزاروں ارب اسی طرح اندھے کنویں میں گرتے رہیں گے۔
بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں