دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نظام ِانصاف کی جئے ہو، منصف سلامت رہیں
No image احتشام الحق شامی: اگر آپ اپنی وراثتی جائیداد کی تقسیم کے قانونی اور شرعی حصول کی خاطر عدالت سے انصاف کے طلب گار ہیں اور اس ضمن میں پٹیشن فائل کرتے ہیں تو ہر”تاریخ“ پر معزز جج صاحب کی معزز عدالت جاتے ہوئے ساتھ میں اپنی اولاد کو بھی لے جایا کریں کیونکہ آپ کے انتقال کرنے کے بعد آپ کی اولاد نے ہی آپ کے مقدمہ کی پیروی کرنی ہے۔جی ہاں، کھلی حقیقت یہی ہے اور یہی ہو رہا ہے۔
وراثت کی تقسیم کا مقدمہ عدالت میں دائر کرتے ہوئے اگر آپ اپنی اولاد کو ساتھ نہیں لے جاتے تو یقین جانیئے آ پ ظلم کر رہے ہیں نہ صرف اپنے اوپر بلکہ ان بچوں پر بھی جو ابھی جنم لینے والے ہیں کیونکہ یہ مقدمہ آپ کا نہیں، یہ آپ کی نسل کی”میراث“ ہے۔ معززعدالت یا کورٹ کچہری جاتے وقت اپنی اولاد کو ہاتھ پکڑ کر لے جائیں، انہیں بتائیں کہ ''بیٹا، یہ تمہارا سکول نہیں، یہی تمہارا فیوچر یعنی تمہارا مستقبل ہے۔
اپنی اولاد کو بتائیں کہ، جب وہ بڑے ہو جائیں تو انہیں آپ کی جائیداد نہیں بلکہ، کیس نمبر XYZ/2026' سے واسطہ پڑے گا۔ وہ اسے سنبھالیں، کیونکہ یہی ان کے بابا جان مرحوم کا سب سے بڑا تحفہ ہو گا۔
اور ایک اہم مشورہ کہ اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ اپنے پوتوں کو بھی کورٹ کچہری کا راستہ دکھا دیں تاکہ جب آپ کی روح، عالم ارواح سے نیچے دیکھے تو مطمئن ہو جائے کہ الحمدللہ، انصاف کے حصول کا مقدمہ اب بھی چل رہا ہے، وراثت ملے یا نہ ملے، کم از کم اولاد کو ''عدالتی صبر'' کا سبق تو ملے گا۔ وہ سبق جو سکول و کالج کی کتابوں میں نہیں ملتا۔ ہمارے نظام ِانصاف کے جئے ہو اور منصف سلامت رہیں۔
واپس کریں