
اسمبلی کی کرسی کے حصول،حکومتی عہدوں کے لالچ اور اپنے مائی باپ یعنی اشٹبلشمنٹ کی خوشنودی کی خاطر آذاد کشمیر کے سیاسی میراثی اور ان کے طبلہ نواز، عوامی احتجاج میں گولیوں کی نظر ہونے ہونے والوں کے جنازوں میں شریک نہیں ہو رہے اور نہ ہی جا بجا جاری ماتم کدوں میں فاتحہ خوانی یا تعزیت کرنے کے لیئے جا رہے ہیں لیکن ان سیاسی میراثیوں کی بے شرمی،ڈھٹائی،بے غیرتی اور اقتدار کے لالچ کا عالم یہ ہے کہ عوام کے الیکشن بائیکاٹ کے باوجود یہ اقتدار کے بھوکے، آوارہ کتوں کی طرح گلی گلی ووٹ مانگتے پھر رہے ہیں۔
دوسری جانب دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 80 سے زائد افراد فورسزکی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں،زخمیوں کے تعداد ان گنت ہے لیکن”آذاد قومی میڈیا“ اور وفاقی وزراء جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہوئے، اپنے حقوق کے لیئے احتجاج کرنے والے عام کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں ہے جبکہ عالمی اور سوشل میڈیا اس کے برعکس حقائق بیان کر رہا ہے۔ یاد رہے مذکورہ عوامی احتجاج کے دوران 27 جولائی سے قبل 40 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 34 مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل تھے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد سے راولاکوٹ اور پلندری کی جانب جانے والے راستوں اور انٹری پوائنٹس(آذاد پتن) کو دوبارہ سے بند کر دیا گیا ہے،کھانے پینے کی اشیاء اور ادوایات کی ترسیل اور کم از کم پونچھ ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑے بازار بند ہیں جس سے عام پبلک اذیت سے دوچار ہے۔ اس بیان کردہ صورت حال میں عام عوام کے دلوں میں محبت کے پھول کھلیں گے یا نفرتیں جنم لیں گی؟
ابھی ایک غیر سرکاری ترجمان صاحب فرما رہے تھے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے پاس پکی اطلاعات ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی را فنڈڈ تھی لیکن غیر سرکاری ترجمان صاحب نے یہ بتانے کی زحمت نہیں فرمائی کہ اگر وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کے پاس اتنی خطرناک معلومات موجود تھیں تو پھر ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے جا رہے تھے،کیا دشمن کے ایجنٹوں سے مذاکرات ہوتے ہیں اور کیا دشمن ایجنٹوں کے 36 مطالبات مانے جاتے ہیں اور اگر ایکشن عوامی کمیٹی کے چند لیڈران سے حکومت یا اداروں کو اختلاف ہے، ان کی شکلیں پسند نہیں یا وہ سرنڈر نہیں کر رہے تو عام عوام کے دلوں میں کیوں زبردستی نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں؟ عام کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر کے انہیں اور دنیا کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟وہ کون سی قوتیں ہیں جو عوامی ایکشن کمیٹی،حکومت،اپوزیشن لیڈران اور اشٹبلشمنٹ کے درمیان عوامی احتجاج کے خاتمے اور خطے میں دوبارہ سے عوامی امن و ا مان کی خاطر مذاکرات کو عین حتمی مراحل میں ناکامی سے دوچار کر کے عوام پر ریاستی طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہیں؟ کشمیر بنے کا پاکستان کے نعرے بلند کرنے والوں کی سرزمین آذاد کشمیر میں پاکستان کے خلاف نفرتوں کی آبیاری کون کر رہا ہے؟
جب سوال کرنے والے زیادہ ہونے لگے اور جواب دینے والا کوئی نہ ہو تو پھر وہی ہوتا ہے جو اس وقت بلوچستان،خیبر پختون خواہ اور بدقسمتی سے اب امن کی علامت آذاد کشمیر میں برپا ہے۔
اسلام آباد میں مقیم معروف کشمیری صحافی،بشارت راجہ کا ایک ٹویٹ ملاحظہ فرمائیں جس سے پاکستان کی شہ رگ اور روح آذاد کشمیر کے حالات کی سنگینی کا اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ ”فیصلہ سازوں نے آزاد کشمیر کے حالات اس قدر خراب کر دئے کہ نرسری اور پریپ کے بچوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج جو بوئے گئے، آنے والی نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ راولاکوٹ میں جو بھی گولیوں سے مارا جاتا ہے، اس کی باڈی جب آبائی شہر پہنچتی ہے تو پانچ سات سال کے بچے جو نعرے لگاتے ہیں، الامان الحفیظ“
واپس کریں