دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مودی سرکار نے گھٹنے ٹیک دیے، طلبہ کا احتجاج کامیاب
No image بھارتی جین زی کی تحریک "کاکروچ جنتا پارٹی" کا احتجاج کامیاب ہو گیا۔ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیرِاعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا، جسے منظور بھی کر لیا گیا ہے۔ترجمان کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ ہمارے تمام مطالبات باضابطہ تحریری طور پر تسلیم کر لیے گئے ہیں، لہٰذا ہم اپنا احتجاج ختم کرکے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا مؤقف تھا کہ اس حکومت میں استعفے نہیں ہوتے، تاہم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے ثابت کر دیا کہ ہم نے کر دکھایا۔بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ لیک سکینڈل سے متعلق خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ معاوضہ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ حکومت جتنی بھی مضبوط اور طاقتور ہو، عوامی سیلاب کے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکتی۔ مودی حکومت کو بھی اپنی طاقت اور آمرانہ ہتھکنڈوں پر یہی زعم تھا، مگر بالآخر اصولوں پر مبنی احتجاج کے سامنے اسے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔یہ صرف ایک ملک یا ایک حکومت کی بات نہیں، بلکہ جہاں کہیں بھی جبر حد سے بڑھ جاتا ہے، وہاں عوام اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکل آتے ہیں، اور پھر انہیں طاقت کے ذریعے زیادہ دیر تک قابو میں رکھنا ممکن نہیں رہتا۔اگر نیپال، بھارت اور بنگلہ دیش کی طرح یہاں بھی ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہو گئی تو اپنے مسائل پر مضطرب ہوئے عوام یہاں بھی سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔حکومت کو اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل کی جو صورتِ حال پیدا کی جا رہی ہے، اس بنگلہ دیش اور بھارت جیسا عوامی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔خصوصاً پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ تقریباً ہر چیز وابستہ ہے۔ اگر پٹرولیم نرخ روزانہ بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا تو اس پر سخت عوامی ردعمل فطری امر ہوگا۔ جب ملک کے وسائل کا بڑا حصہ مراعات یافتہ اشرافیہ طبقات پر خرچ کیا جائے اور سیاسی اشرافیہ عیش و عشرت میں مصروف ہو تو اس کے نتائج بھارت اور بنگلہ دیش جیسی جین زی تحریکوں والے ہی سامنے آتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی بہر صورت اس کا ادراک ہونا چاہیئے۔
واپس کریں