اتحادِ امت، پیغامِ امن، پاکستان کا روشن فکری مستقبل
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
پاکستان کی تاریخِ سیاسی و اجتماعی کے پیچ و خم اور اضطراب انگیز مصحف پر یہ ایک ایسا تابناک اور درخشندہ باب ہے، جس کی نظیر ایک طویل عرصے سے اقلیمِ فکر میں ناپید تھی اور جو فکرِ اسلامی اور میثاقِ ملی کی تاریخ میں اتحادِ امت کا ایک عظیم سنگِ میل بن کر ابھرا ہے۔ وہ مملکتِ خداداد جو ایک عرصے سے فتنوں کی زد، افراط و تفریط کی فکری ملوکیت اور عسکریت پسندی کی خانمان سوز لہروں کا ہدف بنی رہی—جہاں فرقہ وارانہ منافرت کے زہراب نے امنِ عامہ کے قصرِ رفیع کو متزلزل کر رکھا تھا—وہاں جامعۃ الرشید کراچی کا آستانۂ علم و عرفان ایک ایسے روحانی و فکری مرجع کے طور پر جلوہ گر ہوا جہاں سے ہم آہنگی کی نسیمِ سحر گاہی چلی ہے۔ مختلف مکاتبِ فکر، مسالک اور طبقات سے تعلق رکھنے والے شیوخ العصر، علماءِ عظام اور مشائخِ کبار کا ایک ہی امامِ ہمام کی اقتدا میں صف بستہ ہونا محض ایک ظاہری ادائے عبادت نہ تھی، بلکہ یہ امت کے بکھرے ہوئے شیرازے کی شیرازہ بندی اور بین المسالک ہم آہنگی کے ایک نئے عهد کا صورِ اسرافیل تھا۔ اس تاریخی و روحانی اجتماع نے عالمِ شہادت پر یہ حقیقت مبرہن کر دی کہ فروعی و جزئی اختلافات کی آویزیوں کے باوجود اصلِ دین اور توحیدی اساس پر امت کا قلبِ واحد کی طرح دھڑکنا ایک مسلّم و غیر متزلزل حقیقت ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت اور انتھک مساعی نے اس دھارے کو پورے ملک میں ایک ہمہ گیر فکری تحریک کی صورت عطا کی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں، بالخصوص صوبائی حکومتوں—پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ—کے انتظامی و سیاسی دھاروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے ذریعے تعصب و تفریق کے بتوں کو پاش پاش کرنے اور مذہبی منافرت کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے جو جدوجہد کی گئی ہے، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر سفاکانہ عسکری حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہداء کی مقدس قربانیوں نے ریاست کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا، اور جب تفتیشی مراحل سے یہ حقیقت طشت از بام ہوئی کہ اس شقاوت کے پسِ پردہ یہی فرسودہ و گمراہ کن انتہا پسندانہ ذہنیت کارفرما ہے، تو قومی پیغامِ امن کمیٹی نے حوادث کے طوفانوں کی پروا کیے بغیر میدانِ عمل میں قدم رکھا۔ سندھ کے اربابِ اقتدار، بشمول گورنر اور وزیرِ اعلیٰ سے فوری مشاورتی نشستیں منعقد کی گئیں تاکہ ریاست اور دین کے الحاق و اشتراک سے اس فکری طاعون کا سدِ باب کیا جا سکے۔ یہ تحرک محض ایوانِ اقتدار کی راہداریوں تک محدود نہ رہا، بلکہ الکوثر یونیورسٹی، الغزالی یونیورسٹی، جامعہ بنوریہ اور جامعۃ الرشید جیسے جلیل القدر علمی مراکز کا دورہ کر کے مکالمے کی وہ شمع روشن کی گئی، جو شدت پسندی کے تاریک ترین سائے کو کافور کرنے کی واحد متقاضی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس تمام فکری و عملی انقلاب کا طرۂ امتیاز "پیغامِ پاکستان" کا وہ متفقہ و مقدس بیانیہ ہے، جس کی بنیاد قومی پیغامِ امن کمیٹی کی عمارت پر رکھی گئی ہے۔ یہ وہ میثاقِ ملی اور بیانیۂ ریاست ہے جس کی نظیر نہ صرف ملکی تاریخ میں نایاب ہے، بلکہ اقلیمِ اسلام اور اقوامِ عالم کے لیے بھی نظمِ اجتماعی اور ہمہ گیر امن کی محکم ترین ضمانت ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی سیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے ۱۸۰۰ جلیل القدر علماء، مفتیانِ کرام، اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین، جامعات کے محققین، اراکینِ مجلسِ شوریٰ و ایوانِ بالا، اور صدر و وزیراعظم و چیف جسٹس آف پاکستان کے اجماعِ اعظم نے اس منشورِ حیات کو مرتب کیا۔ اس تاریخی منشور کے اساسی خدوخال قرآنی ہدایت وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کا مجسم پرتو ہیں۔ اس بیانیے کی رو سے مذہب یا آئینِ پاکستان میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقت پروری کی مطلق گنجائش نہیں؛ ریاستِ پاکستان ایک مکمل اسلامی و قانونی وجود ہے جس کے خلاف مسلح خروج، بغاوت، اور قتال بلا شبہ "فساد فی الارض" اور صریحاً حرام ہے۔ ریاست کی آئینی سیادت سے ماورا ہو کر نجی طور پر مسلح جتھے اور عسکری تنظیمی ڈھانچے تشکیل دینا شریعتِ مطہرہ کی روح کے منافی اور ناجائز ہے۔ ملک میں سکونت پذیر غیر مسلم اقلیتوں کے جان، مال، آبرو، اور مذہبی آزادی کا تحفظ اسی طرح فرضِ عین قرار دیا گیا ہے جس طرح مسلمانوں کا، کیونکہ معاہد یا ذمی کی جان و مال پر تعدی کرنا شدید ترین وعیدوں اور معصیتِ عظمیٰ کا موجب ہے۔ مزید برآں، بین الاقوامی معاہدات اور جغرافیائی حدود کو پامال کر کے ریاستی اذن کے بغیر غیر ملکی سرحدوں پر لشکر کشی کرنا عہد شکنی اور ضلالت ہے، اور اسی بنا پر پاک فوج کے معرکہ ہائے "ضربِ عضب" اور "ردالفساد" کی علمی و شرعی توثیق کی گئی۔ تمام مفتیانِ کرام نے انسانی قتلِ ناحق اور خودکش حملوں کی تحریم پر یک زبان ہو کر مہرِ تصدیق ثبت کی، اور خواتین، بچوں، معمرین، اور معذورین کے حقوقِ انسانی کی صیانت کو علماء اور دینی سیادت کا منصبی فریضہ قرار دیا۔
اس عظیم الشان فکری و اصلاحی معرکے میں جامعۃ الرشید اور اس کے سربراہ حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب کا تاریخی کردار آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ جامعۃ الرشید گزشتہ دو دہائیوں سے اس فکری محاذ پر نبرد آزما ہے، جہاں ذہن سازی، رجحان سازی اور فقہی و شرعی تحقیق کی شمع روشن کی گئی۔ جامعہ کے ایک درجن سے زائد تبحرِ علمی سے آراستہ محققین نے یہ مدلل ریسرچ پیش کی کہ نجی عسکریت پسندی عالمِ اسلام ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے انارکی اور ہلاکت کا باعث ہے۔ ۲۰ برسوں کی طویل جدوجہد میں ۶۰۰ سے زائد بین المذاہب و بین المسالک اجلاس، سیمینارز، اور تربیتی نشستیں منعقد کی گئیں، جن میں علماء، عسکری قیادتوں، تعلیمی اداروں اور طلبہ کو اس فکر سے روشناس کرایا گیا۔ ایک پورا سالانہ کانووکیشن "پیغامِ پاکستان" کے نام معنون کر کے ۱۰ ملین یعنی ایک کروڑ نفوس تک اس پیغام کی رسائی ممکن بنائی گئی، جبکہ نصف درجن سے زائد جید اساتذہ کو جامعات میں محاضرات کے لیے مامور کیا گیا اور حکومتی و ریاستی اداروں کو ۱۰۰ سے زائد مشاورتی اجلاسوں میں بصیرت افروز رہنمائی فراہم کی گئی۔
عصرِ حاضر میں جب غیر مسلم ممالک بھی مذہبی جنونیت، تعصب اور تشدد کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں، جہاں مسلم اقلیتیں سخت ترین تشکیک اور عسرت کا شکار ہیں، وہاں قومی پیغامِ امن کمیٹی اور جامعۃ الرشید کی طرف سے یہ عالمگیر پیشکش کہ وہ انگریزی اور عالمی زبانوں میں ماہرینِ شریعت و تحکیم فراہم کر سکتے ہیں، ایک آفاقی اور انسانی پیش رفت ہے۔ یہ فکری سفر نہ صرف مغرب اور مشرق کے درمیان پھیلی غلط فہمیوں کے غبار کو چھانٹے گا، بلکہ مسلمان شباب کو اشتعال انگیزی کی دلدل سے نکال کر تسخیرِ کائنات اور بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن شاہراہ پر گامزن کرے گا۔ ان شاء اللہ، یہ میثاقِ امن و الفت دنیا کے مخدوش ہوتے ہوئے نظمِ اجتماعی کے لیے شفابخش نسخۂ کیمیا ثابت ہوگا۔
واپس کریں