دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آزاد کشمیر انتخابی معرکہ یا سیاسی نورا کشتی؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ایک بار پھر پاکستان کی قومی سیاست کا عکس پیش کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں، ایسے بیانات دے رہے ہیں جنہیں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا یہ جماعتیں ایک دوسرے کی شدید ترین سیاسی مخالف ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا سیاسی تعاون یا مفاہمت موجود نہیں۔ لیکن جب زمینی حقائق پر نظر ڈالی جائے تو منظرنامہ کچھ اور ہی دکھائی دیتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو صرف پنجاب کی سڑکیں ہی اچھی نظر آتی ہیں، صوبے سے باہر نکلتے ہی بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی سامنے آ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض لوگ رائیونڈ کو ہی پورا پنجاب سمجھتے ہیں اور انہیں اندرون پنجاب کی حالت زار کی کوئی پرواہ نہیں۔ بلاول بھٹو نے مزید الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں بھی اسلام آباد سے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے اور ایک مخصوص سیاسی سوچ کے تحت وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے مسلم لیگ (ن) کو ''فارم 47 کی پیداوار'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جعلی مینڈیٹ کی سیاست کو مسترد کر دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے والی جماعت کو کشمیریوں کے حقوق کی بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن کے اپنے صوبوں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں وہ آزاد کشمیر کو ترقی کیسے دے سکتے ہیں؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت اپنے صوبے کے وسائل کو کرپشن سے نہیں بچا سکی وہ آزاد کشمیر کو کیا دے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی رہنما یہاں آ کر شکایات اور الزامات تو لگاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ آزاد کشمیر میں حکومت بھی انہی کی جماعت کی ہے۔ اگر صرف ان بیانات کو سامنے رکھا جائے تو ایک عام شہری یہی سمجھے گا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی سب سے بڑی مخالف جماعت ہے، شاید اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہوئی ہے اور بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
آج پاکستان کے صدر مملکت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ بھی پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ ہیں۔ تین صوبوں میں گورنرز کے اہم عہدوں پر بھی پیپلز پارٹی کے نامزد افراد موجود ہیں۔مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت اپنی بقا کے لیے پیپلز پارٹی کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ یا اہم قانون سازی کی حمایت سے دستبردار ہو جائے تو حکومت چند دن کی مہمان بن جائے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر برسائے جانے والے الزامات کا اصل مقصد کیا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید انتخابی سیاست کی نفسیات میں پوشیدہ ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف مختلف قانونی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اس انداز میں متحرک نظر نہیں آ رہی جس طرح ماضی میں دکھائی دیتی تھی۔ ایسے ماحول میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کوشش کر رہی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ووٹ بینک میں نقب لگائیں اور اپنے کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ متحرک رکھیں۔ انتخابی جلسوں میں سخت زبان اور جذباتی نعرے اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
بہت کم لوگ یہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں کہ جن سیاست دانوں کو وہ ایک دوسرے کا دشمن سمجھ رہے ہیں، وہی سیاست دان کئی مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور مشترکہ سیاسی مفادات کے لیے تعاون بھی کرتے ہیں۔آج ہمارے معاشرے میں ایک اور خطرناک رجحان بھی فروغ پا چکا ہے۔ ماضی میں مذہبی فرقہ واریت کو سب سے بڑا سماجی مسئلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب سیاسی فرقہ واریت بھی اسی شدت سے معاشرتی تعلقات کو متاثر کر رہی ہے۔ سیاست نے دوستوں کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں، رشتہ دار ایک دوسرے سے ناراض ہیں اور سوشل میڈیا پر گالی گلوچ نے برداشت اور مکالمے کی جگہ لے لی ہے۔عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست دانوں کا کام سیاست کرنا ہے۔ وہ انتخابی مہم میں اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سخت زبان بھی استعمال کریں گے اور مخالفین پر تنقید بھی کریں گے۔ لیکن عوام کا فرض ہے کہ وہ سیاسی بیانات کو جذبات کی بجائے عقل و شعور کی کسوٹی پر پرکھے۔ آزاد کشمیر کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد آج ایک دوسرے پر الزامات لگانے والے یہی سیاسی رہنما کسی نہ کسی قومی یا سیاسی معاملے پر دوبارہ ایک میز پر بیٹھے نظر آئیں گے۔ اس وقت شاید وہ دل ہی دل میں مسکرا رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہونگے کہ دیکھا عوام کو کیسے بے وقوف بنایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام بھی اس سیاسی کھیل کو سمجھ پائے گی یا ہر انتخاب میں جذباتی نعروں کے پیچھے چلتی رہے گی؟ اصل سوال یہ ہے کہ کب تک انتخابی موسم کی یہ نوراکشتی جاری رہے گی اور عوام محض تماشائی بنی رہے گی؟
واپس کریں