تہذیب کا ننگی تلوار پر رقص اور لکڑی کی گھن لگی بنیادیں
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
رات کی تاریکی میں جب لندن کا بلند و بالا 'شارڈ' برج یا نیویارک کی فلک بوس عمارتیں رنگ برنگی نیون روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے انسان نے کائنات کی تسخیر کا آخری معرکہ سر کر لیا ہو۔ مصنوعی ذہانت کے اعصابی نظام، الگورتھم کی کرشمہ سازیوں اور ڈیجیٹل معیشت کی تیز رفتاری نے ایک ایسا شیش محل تعمیر کر دیا ہے جس کی درخشندگی دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ لیکن اسی تابناک شیش محل کے عقب میں ایک بدصورت حقیقت سانس لے رہی ہے۔ فرض کیجیے، ایک مسافر بارش کی ننھی بوندوں میں لندن کے کسی تاریخی گلی کوچوں سے گزر رہا ہو، اس کے ہاتھوں میں جدید ترین سمارٹ فون ہو جو دنیا بھر کی معلومات چند سیکنڈز میں فراہم کر سکتا ہے، مگر اس کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑک رہا ہو کہ کہیں کسی تاریک موڑ پر کوئی نقاب پوش اس سے یہ مادی اثاثہ چھین نہ لے۔ یہ منظر نامہ صرف ایک انفرادی تجربہ نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے اس المیے کی تمثیل ہے جسے جدید تہذیب کا خاموش بحران کہا جاتا ہے۔
انسانی تاریخ نے ہمیشہ دو متوازی خطوط پر سفر کیا ہے۔ ایک خط مادی تسخیر، صنعتی ارتقا اور سائنسی انکشافات کا ہے، جبکہ دوسرا خط اخلاقی شعور، روحانی توازن اور اجتماعی اعتماد کی پاسداری سے عبارت ہے۔ وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہم نے پہلی جہت کو تو مطلق کامیابی کا درجہ دے دیا، مگر دوسری جہت کو محض ایک بیکار اخلاقی وعظ سمجھ کر طاقِ نسیان پر سجا دیا۔ برطانیہ جیسے ممالک جو صدیوں سے قانونی نظم و ضبط، آئینی استحکام اور تحفظ کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج تدریجی اخلاقی بے سمتی اور سماجی اضطراب کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ گاڑیوں کی ڈکیتی، شاہراہی جرائم اور رہائشی املاک میں نقب زنی کے بڑھتے ہوئے واقعات محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس باطنی انحطاط کی پکار ہیں جو اس ترقی یافتہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں ریاستی نگرانی (CCTV networks)، ڈیٹا اینالیٹکس، ڈیجیٹل سرویلنس اور جدید ترین انتظامی حکمتِ عملی اپنے عروج پر ہے۔ مگر قانون کی یہ فولادی گرفت جرم کی لہر کو روکنے میں ناامید دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جرم محض انتظامی غفلت کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک عمیق تہذیبی بیماری کا پیش خیمہ ہے۔ جب سرمایہ دارانہ ثقافت انسان کی قدر و قیمت کا تعین اس کے کردار اور اخلاق کے بجائے اس کے پاس موجود سامان سے کرنے لگے، تو پھر محنت کے تدریجی مراحل کے بجائے فوری کامیابی کا فریب ہی اجتماعی پسند بن جاتا ہے۔ ابلاغی ذرائع اور ڈیجیٹل لالچ ہر لمحہ انسان کو یہ پٹی پڑھاتے ہیں کہ اشیا کا حصول ہی عظمت کی آخری حد ہے۔ اس لامتناہی دوڑ میں جو افراد جائز ذرائع سے پیچھے رہ جاتے ہیں، ان کے اندر کا اخلاقی تردد دم توڑ جاتا ہے اور وہ قانون کی حدیں پھلانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
اسی بھیانک صورتحال کی دوسری کڑی خاندانی نظام کا بکھراؤ ہے۔ خاندان صرف خون کے رشتے کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ گہوارہ ہے جہاں اخلاقی بصیرت اور ذمہ داری کا احساس پرورش پاتا ہے۔ جب انفرادیت پسندی اور خود غرضی کے زہر نے اس بنیاد کو ڈھا دیا، تو ریاست کے تمام جدید ادارے مل کر بھی اس خلا کو نہ بھر سکے۔ کیمرہ انسان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے، عدالت سزا سنا سکتی ہے اور پولیس ہاتھ جوڑ سکتی ہے، لیکن کوئی تعزیری نظام انسان کے اندر وہ روشنی پیدا نہیں کر سکتا جو اسے گناہ کے ارادے سے ہی روک دے۔
برطانیہ کے عالمی شہر لندن کی سڑکوں پر بڑھتا ہوا عدم تحفظ اس بات کی نوید ہے کہ محض سائنسی فتوحات، تیز رفتار ریل گاڑیاں اور فلک بوس وژن کسی قوم کی بقا کی ضمانت نہیں ہو سکتے۔ یہ مادی وسائل زندگی کو آسان تو بنا سکتے ہیں، مگر اسے محفوظ اور متوازن نہیں بنا سکتے۔ امن و امان، باہمی احترام اور ذہنی سکون وہ اثاثے ہیں جو صرف خاندانی تربیت، اخلاقی اقدار اور باہم مربوط اجتماعی ثقافت سے جنم لیتے ہیں۔ تاریخ کا یہ اٹل فیصلہ رہا ہے کہ جب کوئی تہذیب اپنے اخلاقی ستونوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دیتی ہے، تو اس کا اقتصادی اور صنعتی جاہ و جلال بھی اسے زوال سے نہیں بچا سکتا۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ جرائم اور سماجی بے راہ روی کو صرف پولیس کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے، اسے ایک ہمہ گیر تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے اور مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی اقدار کی ازسرنو آبیاری کی جائے، تاکہ انسان محض خوشحال نہیں بلکہ حقیقتاً پُرامن اور محفوظ زندگی بسر کر سکے۔
واپس کریں