خلیل احمد نینی تا ل والا کے کالم مہنگائی میں پستے عوام سے اقتباس

ایک طرف عوام کے وسائل سے اشرافیہ کی مراعات بڑھتی جارہی ہیں، تو دوسری جانب عوام کو مہنگائی نے پیس کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ بقول وفاقی وزیر احسن اقبال زہر کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں، تو دوسری جانب مراعات میں اضافہ ہی کئے جارہے ہیں، اربوں روپے کے پرتعیش طیارے خریدے جارہے ہیں، گاڑیوں کے بیڑے طویل ہوتے جارہے ہیں۔
اب گزشتہ روز وفاقی حکومت نے افسران کیلئے ڈیڑھ سو فیصد ایگزیکٹو الاؤنس میں بڑے اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ ایک طرف کفایت شعاری کے دعوے ہیں اور دوسری جانب اس طبقے کو مزید نو ازا جارہا ہے، جو پہلے ہی لاکھوں روپے تنخواہ اور پرتعیش گھروں سمیت ہر طرح کی مراعات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے افسران کیلئے ایگزیکٹو الائونس 30جون 2026ء کے جاری بنیادی تنخواہ کے حساب سے دینے کی منظوری دیدی ہے۔ فیصلے سے ایگزیکٹو الا ونس لینے والے افسران کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائیگا۔ اس سے پہلے 150فیصد ایگزیکٹو الائونس2017ء کے پے اسکیل اور 30جون2022ء کی بنیادی تنخواہ پر مل رہا تھا ۔
اب ایگزیکٹو الائونس 30جون 2026ء کی جاری بنیادی تنخواہ پر ملے گا۔ کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ کا فیصلہ عملدرآمد کیلئے وزارت خزانہ کو بھجوادیا ہے۔ اسی طرح2022ء کے بعد سے اراکین پارلیمنٹ، وفاقی وزرا اور پارلیمانی قیادت کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ اراکین کی بنیادی تنخواہ تقریباً ایک لاکھ80 ہزار روپے سے بڑھا کر5 لاکھ19ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی، جبکہ مختلف الائونسز اور دیگر سہولیات اسکے علاوہ ہیں۔ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتی ہے۔ یہ اعتماد اس وقت مجروح ہوتا ہے جب حکمران طبقہ وہ قربانی دینے کیلئے تیار نہ ہو جسکا مطالبہ وہ عوام سے کرتا ہے۔ قیادت کا مطلب صرف اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ مثال قائم کرنا بھی ہے۔
واپس کریں