
آئے روزپٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے یا عام مہنگائی کے حوالے سے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر حکمرانوں کو مت کوسا کریں،بستروں پر ٹانگیں سیدھی کر کے ان پر تنقید کے نشتر نہ برسایا کریں۔ ناچیز پہلے بھی عرض کر چکا ہے کہ ان حکمرانوں کے اختیار میں ماسوائے پروٹوکول کو انجوائے اور لکھی لکھائی دستاویزات پر دستخط کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔یہ صرف چہرے ہیں جو پسند اور نا پسند کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں جبکہ اس ملک کا نظام وہی چلا رہے ہیں جو75 سالوں سے چلاتے آ رہے ہیں۔
ملکی معیشت کے حوالے سے تمام اہم فیصلے عالمی ساہو کار آئی ایم ایف کے پاکستان میں موجود نمائندے یا ان کے لوکل پاکستانی ایجنٹ کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل درآمدہمارے کرائے کے لیڈر کرواتے ہیں۔
جب وقت بدلے گا،حافظ صاحب پاور میں نہیں ہوں گے اور موجود کٹھ پتلی بھی اقتدار سے باہر ہوں گے تو یہ حکمران اس وقت اپنی اسی بے بسی کا اعتراف کیا کریں گے جس کا زکر اوپر کیا ہے۔ سابقہ کٹھ پتلی عمران نیازی نے بھی اقتدار سے باہر آ کر یہی کہا تھا کہ سارا نظام باجوہ اور فیض حمید چلاتے ہیں اور یہ کہ میں بے بس تھا۔یہاں اسی ہابرڈ نظام کا تو رونا ہے جو عرصہ سے چل رہا ہے اورجو بھی سسٹم کو چیلنج کرے گا، اسے اقتدار سے نکال باہر کیا جائے گا جیسا کہ نواز شریف کو تین مرتبہ اقتدار سے بے دخل کیا گیا، اور اس سے پہلے بھی، نام کی ہی سہی کسی جمہوری حکومت کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، جس کی واحد وجہ عوام اور پارلیمنٹ کی سپریمیسی کی بات کرنا تھی۔
بے روزگاری،مہنگائی اور آئے روز پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے کہاں اور کس سے احتجاج کیا جائے؟اس ضمن میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ جب تک پبلک باقاعدہ عملی طور پر اپنے حقوق کے لیئے میدان میں نہیں نکلے گی،حکمران کوئی بھی ہوں،کسی کے بھی سر پر جوں نہیں رینگے گی۔ اب اور کچھ نہیں تو اپنے ہمسایہ ملک کی نوجوان نسل سے ہی سیکھ لیں،جن کے چند ہفتوں کے منظم احتجاج کے بعد بھارت کے وزیر تعلیم کو اپنی کرسی چھوڑ کر گھر جانا پڑا ہے۔ گھر میں بیٹھ کرمہنگائی کا رونا فیس بک یا ٹیوٹر پر رونے کے بجائے عملی طور پر قربانیاں دینے کا زہن بنایئے،تبھی آپ کی مشکلات اور مسائل ہوں گے۔علاوہ ازیں آذاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں دو ماہ سے جاری عوامی دھرنہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے اس بر صغیر میں عوام کے مطالبات گھروں کے بستروں میں بیٹھ کر حل نہیں ہوتے اس کے لیئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، گھر بار چھوڑنے پڑتے ہیں اورگولیاں، لاٹھیاں کھانی پڑتی ہیں،یہی نہیں بلکہ ملک شمن اور غدار ہونے کے طعنے اور الزامات بھی سننے اور برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ اس خطہ کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔
عوام کو حقوق اگر صرف فیس بک یا ٹیوٹر پر پوسٹیں لگانے سے ملتے ہوتے تو آج اس ملک میں ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہ رہی ہوتیں۔خوابوں اور خیالوں کے دنیا سے باہر نکل آئیں۔
واپس کریں