علیحدگی پسند تنظیموں میں تعلیم یافتہ نوجوان کیوں شامل ہورہے ہیں؟

ملک کے اہم اور حساس ترین صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں بی ایل اے یا بی ایل ایف وغیرہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا شمولیت کا بڑھتا رجحان ایک پیچیدہ اور تشویش ناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جو یقینا طویل مدتی سیاسی، معاشی اور سماجی عوامل کا نتیجہ ہے لیکن حکومت بلوچستان یا ریاستی پالیسی سازوں کی اس اہم معاملے کی جانب توجہ بلکل نہیں اور صوبے کو درپیش بدامنی کو صرف بندوق کے زور پر حل کرنے کی کوشش کئی برسوں سے جا رہی ہے جبکہ اس”کوشش“ کے نتیجے میں صوبے کے حالات دن بدن خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
صوبے میں بدامنی اور بگڑتے حالات کی خرابی کا موجودہ رجحان خاص طور پر 2000 کے بعد سے نمایاں ہوا ہے اور حالیہ برسوں یعنی (2024-2026) میں مزید شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں طلبہ، میڈیکل/لاء گریجویٹس، پی ایچ ڈی اسکالرز اور یہاں تک کہ تعلیم یافتہ نوجوان خواتین بھی علیحدگی پسند تنظیموں میں شامل ہو رہی ہیں۔
ملکی اور غیر ملکی رپورٹس کے مطابق اس ضمن میں جو اہم عوامل سامنے آئیں ہیں،ملاحظہ فرمائیں۔ بلوچ عوام کااحساس محرومی اور قدرتی وسائل کا استحصال۔ صوبہ بلوچستان، معدنیات خاص طور پر گیس، سونے، تانبے اور ریکو ڈک سے مالا مال ہے، مگر مقامی لوگوں کو ترقیاتی فوائد، نوکریاں اور بنیادی سہولیات بہت کم ملتی ہیں اور سی پیک جیسے منصوبوں کو بھی ''استحصال'' کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا صوبہ اب ''کالونی'' بن چکا ہے۔
جبری گمشدگیاں،ماورائے عدالت قتل اور ریاستی کارروائیاں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاجی تحریک بی وائے سی وغیرہ پر ریاست کا سخت رویہ، گرفتاریاں جیسے ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور صوبے کے مختلف علاقوں میں تشدد کی اطلاعات بلوچ نوجوانوں میں غصہ پیدا کر رہی ہیں اور انہیں مسلح راستے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
بڑھتی بے روزگاری اور ترقی کے مواقع کی کمی، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو ملازمتیں نہ ملنا، حکومت کی طرف سے کوٹہ سسٹم اور ترقیاتی پروگرامز ناکافی سمجھے جاتے ہیں جسے بلوچ تعلیم یافتہ نوجوان شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
تاریخی جدوجہد، استعمار کی پالیسیاں اور ظلم کی روایت جیسا جذباتی بیانیہ بلوچ نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے اور اسی باعث علیحدگی کی مذکورہ تحریک قبائلی قیادت سے نکل کر اب مڈل کلاس، اربن اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں منتقل ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے عام نوجوان اب بھی تعلیم، نوکریاں اور پرامن حل چاہتے ہیں۔ اکثریت ڈائیلاگ اور ترقی چاہتی ہے، نہ کہ تشدد۔
اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کی وحدت کے لیے اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، علیحدگی پسندوں کے خلاف عسکری یا ریاستی طاقت کے استعمال سے بھی انکار نہیں لیکن اشٹبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک سیاسی ماحول، حقیقی عدالتی انصاف، تعمیر و ترقی اور اسلام آباد کے ساتھ اعتماد سازی سے بھی بلوچستان کے بگڑے ہوئے سیاسی و سماجی معاملات حل بلکہ بہت جلد حل ہو سکتے ہیں۔
واپس کریں