دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حدیقہ کیانی نے پاکستان کو دنیا کے بڑے بڑے سٹیجز پر متعارف کرایا۔ادیب یوسفزئی
No image حدیقہ کیانی کے پہلے شوہر حماد حسن ان کے لیے بطور ویڈیو اینیمیٹر کام کرتے تھے۔ 1997 میں ان کی شادی ہوگئی۔ مختلف انٹرویوز سے معلوم ہوا ہے کہ شادی کے پہلے دن سے ہی حالات بدل گئے اور انہیں اپنا کریئر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2003 میں ان کی طلاق ہو گئی۔
پہلی طلاق کے بعد حدیقہ نے 2007 میں انگلینڈ میں مقیم افغان تاجر سید فرید سروری سے شادی کی۔ یہ شادی صرف تین ماہ چلی اور 2008 میں طلاق ہو گئی۔ حدیقہ نے بتایا کہ یہ شادی جذباتی سے زیادہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر کی گئی تھی۔ اکثر مبصرین اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گود لیے ہوئے بیٹے ناد علی کے پاسپورٹ میں باپ کا نام درج کرانا چاہتی تھیں۔ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
2005 کے تباہ کن زلزلے کے موقع پر حدیقہ کیانی ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ایسے میں ان کے سامنے ایک بچہ آیا جس کی فیملی کا کوئی اتا پتا نہیں تھا تو گلوکارہ نے فوری طور پر اسے گود لینے کا فیصلہ کیا۔ حدیقہ کیانی نے بیٹے کا نام ناد علی رکھا۔ خود حدیقہ کیانی نے بعد میں بیٹے ناد علی کو زندگی میں لانے کا سہرا بلقیس ایدھی کو دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
حدیقہ کیانی نے ایک ویب شو میں بتایا کہ جب ان کی پہلی طلاق ہوئی تو اس کے بعد کافی عرصہ دوسری شادی نہیں کی لیکن اس دوران ان کا دل چاہتا تھا کہ وہ ماں بنیں۔ انہوں نے ایک قریبی شخص سے یہ خواہش شیئر کی کہ وہ کسی بچے کو گود لینا چاہتی ہیں جس پر انہیں مشورہ دیا گیا کہ اگر یہ ان کی خواہش ہے تو ضرور کریں۔
ناد علی کو گود لینے کے دو ماہ بعد حدیقہ نے دوسری شادی کر لی کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے کو باپ کا نام ملے تاکہ اسے سرپرستی نہ ہونے کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن یہ رشتہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے اکیلے تنہا ماں کی حیثیت سے ناد علی کی پرورش کی۔
گزشتہ کئی دنوں سے حدیقہ کیانی زیر بحث ہیں۔ ان کی گلوکاری اور سماجی خدمات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس دوران چند ایک لوگوں نے بتایا کہ وہ حدیقہ کیانی کو نہیں جانتے۔ حدیقہ کیانی کیانی جیسی خاتون کو نہ جاننا ویسے ممکن تو نہیں ہے البتہ کوشش کرتا ہوں کہ ان سے متعلق معلومات آپ تک پہنچا سکوں۔
دنیا نے بہت سی آوازیں سنی ہیں لیکن کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو روح میں اتر جاتی ہیں۔ حدیقہ کیانی کی آواز انہی میں سے ایک ہے۔ کم از کم میرے لیے تو ایسا ہی ہے۔ ان کے گانوں سے ایک ناسٹیلجیا جڑا ہوا ہے۔
حدیقہ کیانی 11 اگست 1972 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئیں۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب حدیقہ صرف تین برس کی تھیں یعنی جس عمر میں بچے چلنا سیکھتے ہیں اس عمر میں حدیقہ نے باپ کا سایہ کھو دیا۔
ان کی والدہ، شاعرہ خاور کیانی ایک سرکاری سکول کی پرنسپل تھیں۔ انہوں نے بیٹی کی موسیقی کی صلاحیت دیکھ کر انہیں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں داخل کرایا جہاں ابتدائی تعلیم میڈم نرگس ناہید سے ملی۔ حدیقہ نے کنیئرڈ کالج سے نفسیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
حدیقہ کیانی نے اپنے کیریئر کا آغاز بچوں کے ایک میوزک پروگرام 'آنگن آنگن تارے' کی میزبانی سے کیا اور اس دوران ہزاروں گانے گائے۔ 1995 میں انہوں نے اپنا پہلا البم 'راز' ریلیز کیا۔ حدیقہ کیانی کے خاندان کا موسیقی سے جراہ راست کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ایک خاتون کا پاپ البم ریلیز کرنا ایک غیر معمولی قدم تھا جس نے انہیں منفرد بنایا۔
جنوری 1997 میں حدیقہ پہلی ایشیائی گلوکارہ بنیں جنہوں نے بی بی سی ون کے برٹش نیشنل لاٹری لائیو شو میں پرفارم کیا۔ پھر آیا وہ گانا جو حدیقہ کی پہچان بن گیا 'بوہے باریاں'۔ یہ گانا پاکستان کے نمایاں ترین گانوں میں شمار ہوتا ہے اور آج بھی حدیقہ کا سب سے مقبول گانا مانا جاتا ہے۔ خاص بات یہ کہ اس گانے کے بول ان کی والدہ خاور کیانی نے لکھے تھے. ماں کا قلم ہو اور آواز بیٹی کی ہو۔۔۔ سوچیں کتنا حسین امتزاج ہے۔۔
انہوں نے فروری 2010 میں ریلیز ہونے والا 'جاناں' پشتو گلوکار عرفان خان کے ساتھ گایا اور یہ حدیقہ کا اب تک کا سب سے بڑا ہٹ بن گیا۔ یہ پہلا پاکستانی پاپ گانا تھا جس کا ذکر لاس اینجلس ٹائمز نے کیا۔ ایک پنجابی خاتون کا پشتو میں گانا اس قدر پسند کیا گیا کہ پختون انہیں 'حدیقہ پٹھانی' کہنے لگے۔
حدیقہ کیانی نے پاکستان کو دنیا کے بڑے بڑے سٹیجز پر متعارف کرایا۔ انہوں نے برطانیہ کے رائل البرٹ ہال اور امریکہ کے کینیڈی سنٹر میں پرفارمنس دی۔ انہوں نے صدر جارج ڈبلیو بش کے لیے پرفارم کیا۔ سابق فرسٹ لیڈی لارا بش کی خصوصی فرمائش پر کینیڈی سنٹر میں گاتی رہی اور شہزادہ چارلس کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
مئی 2007 میں اردن کے ڈیڈ سی پر منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں 28 ممالک کے سربراہان کے سامنے پرفارم کیا۔ 2022 میں نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر سپاٹیفائی نے حدیقہ کیانی کا بل بورڈ لگایا۔۔۔ اور یہ فہرست لمبی ہے۔۔۔
2010 کے سیلاب کے بعد حدیقہ کیانی نے پاک فوج کے ساتھ مل کر متاثرین کی مدد کی اور نوشہرہ میں 250 سے زائد گھر تعمیر کرائے۔ اسی خدمت کے اعتراف میں انہیں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کا گڈ ول سفیر مقرر کیا گیا۔ 2022 کے سیلاب میں وہ پھر میدان میں آئیں۔ انہوں نے 'وسیلۂ راہ' منصوبے کے تحت لاہور سے درجنوں ٹرک سامان سیلاب زدہ علاقوں کو بھیجا اور خود بلوچستان اور پنجاب کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت 370 گھر، مساجد، سکول اور میڈیکل سینٹر تعمیر کیے گئے۔ اپنی سماجی سرگرمیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا ''میں یہ سب ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے کر رہی ہوں۔ کسی سیاستدان کی طرح ووٹوں کے لیے نہیں۔ یہ میرا شہری فریضہ ہے۔ یہ آپ کا فریضہ ہے۔ اپنا حصہ بھی ڈالیں۔'
حدیقہ کی والدہ خاور کیانی 2006 میں فالج کا شکار ہوئیں اور حدیقہ نے تمام مصروفیات کے باوجود ان کی خود دیکھ بھال کی۔ کئی سال تیمارداری کے بعد خاور کیانی 15 اکتوبر 2022 کو انتقال کر گئیں۔ وہ ماں جس نے بیٹی کو موسیقی کا راستہ دکھایا، بیٹی کے گانوں کے بول لکھے اور پوری زندگی اس کی قوت بنی رہی۔۔ اس ماں کو حدیقہ نے وہی محبت لوٹائی جو ملی تھی۔۔۔
2021 میں حدیقہ کیانی نے ڈرامہ 'رقیب سے' کے ذریعے اداکاری میں قدم رکھا اور اپنے کردار 'ثاقبہ' کی وجہ سے ناقدین اور ناظرین دونوں کی داد پائی۔ 2006 حکومت نے انہیں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ 2015 میں ڈیلی ٹائمز نے ان کا نام اس فہرست میں شامل کیا جس میں ملالہ یوسفزئی، شرمین عبید چنائے اور عبدالستار ایدھی شامل تھے۔ حال ہی میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا یا یوں کہہ لیں ستارۂ امتیاز کو حدیقہ کیانی سے نوازا گیا۔
حدیقہ کیانی محض ایک گلوکارہ ہوتی تو بات اور تھی لیکن وہ 'حدیقہ کیانی' بنی۔ وہ حدیقہ کیانی جس نے زلزلے کے بعد ملبے کے ڈھیر سے ایک بیٹے کو اٹھا کر اسے نئی زندگی دی، سیلاب میں ڈوبے لوگوں کو سہارا دیا، کئی امیدوں کو پورا کیا، کئی لوگوں کے لیے امید کی کرن بنی اور یہ سب کرتے ہوئے گاتی بھی رہی۔۔
واپس کریں