دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بھارتی جنگی جنون
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
جنوبی ایشیا ایک بار پھر ایسے بیانیاتی تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں الفاظ محض سفارتی اظہار نہیں رہتے بلکہ وہ جغرافیائی کشیدگی، عسکری نفسیات اور تزویراتی عزائم کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔ بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز بیان اور اس کے جواب میں پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا دوٹوک اور غیر مبہم ردعمل دراصل خطے میں جاری اس فکری کشمکش کی علامت ہے جس میں ایک طرف طاقت کے نشے میں مبتلا بالادستانہ ذہنیت کارفرما ہے اور دوسری جانب قومی خودمختاری، تزویراتی توازن اور علاقائی امن کا سوال موجود ہے۔ اس پورے معاملے کو محض ایک روایتی لفظی جنگ سمجھنا حقیقت سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس نوع کے بیانات ریاستوں کی اجتماعی نفسیات، عسکری حکمتِ عملی اور مستقبل کے سیاسی رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں، محض ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ نہیں بلکہ اس سوچ کا مظہر ہے جو برصغیر کی تقسیم کو آج بھی ذہنی طور پر قبول نہیں کر سکی۔ یہ وہی نفسیاتی بحران ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جنوبی ایشیا کو متعدد جنگوں، سرحدی تنازعات اور خطرناک عسکری محاذ آرائیوں کی طرف دھکیلا۔ جدید دنیا میں کسی خودمختار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست کے بارے میں اس نوع کی زبان استعمال کرنا دراصل سفارتی اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور اسٹریٹجک سنجیدگی سے انحراف کے مترادف ہے۔ ایسی گفتگو طاقت کے اعتماد سے زیادہ فکری اضطراب اور سیاسی عدم توازن کی غمازی کرتی ہے۔
پاکستان کے عسکری ترجمان نے جس انداز میں اس بیان کا جواب دیا، اس میں محض ردعمل نہیں بلکہ ایک وسیع تر تزویراتی پیغام پوشیدہ تھا۔ یہ پیغام دراصل عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ جنوبی ایشیا کا اصل مسئلہ طاقت کا توازن نہیں بلکہ ایک ایسی قوم پرستانہ فکر ہے جو علاقائی بالادستی کو اپنی تاریخی تقدیر سمجھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک تسلیم شدہ ایٹمی ریاست ہے بلکہ اسلامی دنیا کی واحد جوہری قوت ہونے کے باعث اس کی جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت عالمی سطح پر مسلمہ ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جنوبی ایشیا میں امن کا کوئی بھی تصور پاکستان کو نظر انداز کر کے تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔
یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ بھارت کی داخلی سیاست میں اب عسکری قوم پرستی ایک مستقل سیاسی ہتھیار کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر تشکیل پانے والا بیانیہ صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ریاستی اداروں، سفارتی طرزِ فکر اور دفاعی حکمتِ عملی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کی زبان میں اب سفارتی احتیاط کے بجائے جارحانہ تمثیلیں، تہذیبی برتری کے دعوے اور ہمسایہ ریاستوں کے بارے میں تحقیر آمیز انداز نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس نوع کے بیانات دراصل داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ عوامی توجہ معاشی مسائل، سماجی بے چینی اور داخلی تضادات سے ہٹا کر قوم پرستانہ جذبات کی طرف منتقل کی جا سکے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، مگر اسی کے ساتھ اس پر خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی، بیرونِ ملک ٹارگٹ کلنگ، مذہبی انتہاپسندی اور غلط معلومات پر مبنی مہمات چلانے کے الزامات بھی مسلسل عائد ہوتے رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران پیش آنے والے واقعات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ نئی دہلی اپنی تزویراتی ترجیحات کے لیے بین الاقوامی قوانین کی حدود کو بھی نظر انداز کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کے جارحانہ رویّے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، اگرچہ معاشی مفادات کے باعث کئی طاقتیں کھل کر تنقید سے گریز بھی کرتی ہیں۔
جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں عسکری طاقت کے اظہار کو اکثر سیاسی بصیرت پر فوقیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ ایٹمی دور میں جنگ صرف محاذوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک محیط ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیز زبان یا عسکری مہم جوئی پورے خطے کو ایسی تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے جس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ذمہ دار ریاستیں عمومی طور پر محتاط سفارتی زبان استعمال کرتی ہیں اور اختلافات کے باوجود بقا کے مشترکہ اصولوں کو مقدم رکھتی ہیں۔
پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں، تاہم اس خواہش کو کبھی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی وقار کو چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست نے بھرپور صلاحیت اور عزم کے ساتھ اپنا دفاع کیا۔ اسی تناظر میں آئی ایس پی آر کا حالیہ ردعمل محض ایک عسکری بیان نہیں بلکہ قومی خوداعتمادی، تزویراتی توازن اور دفاعی تیاری کا اظہار بھی ہے۔
عالمی منظرنامے میں تیزی سے بدلتے ہوئے طاقت کے مراکز، چین اور امریکہ کی مسابقت، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور بحرِ ہند کی تزویراتی اہمیت نے جنوبی ایشیا کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر علاقائی طاقتیں ذمہ داری کے بجائے جذباتی اور توسیع پسندانہ بیانیے اپنائیں گی تو پورا خطہ مستقل عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنوبی ایشیا میں سیاسی قیادتیں عسکری برتری کے نفسیاتی خمار سے باہر نکل کر حقیقت پسندانہ سفارت کاری کو فروغ دیں، کیونکہ جنگی جنون کبھی بھی پائیدار قومی عظمت کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
آج دنیا طاقت کے ساتھ ساتھ فکری بلوغت، معاشی استحکام اور سفارتی تدبر کو بھی ریاستی عظمت کا معیار سمجھتی ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے ہمسایوں کے وجود ہی کو چیلنج کرنے لگے تو یہ اس کی قوت نہیں بلکہ اس کے سیاسی اضطراب کی علامت ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا کو اس وقت اشتعال انگیز نعروں نہیں بلکہ تزویراتی تحمل، سیاسی بصیرت اور حقیقت پسندانہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ خطہ ایک ایسی مستقل کشیدگی میں مبتلا ہو سکتا ہے جہاں امن محض ایک نظری تصور بن کر رہ جائے گا۔
واپس کریں